عدلیہ کے فیصلوں پر اُٹھتی انگلیاں

17

پورا ملک ڈوب رہا ہے۔ سیلابی تباہ کاریاں چاروں صوبوں میں جاری، ہزاروں افراد جان سے گئے اور لاکھوں مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے۔ یہ ریلے اتنے تندوتیز اور بپھرے ہوئے کہ مضبوط گھر اور ہوٹل خس وخاشاک کی طرح بہہ گئے لیکن ہمارا میڈیا گندی سیاست میں اُلجھا رہا کہ ریٹنگ تو تبھی ملے گی جب شہبازگِل اور جمیل فاروقی کی گرفتاریوں کا حال ”چسکے“ لے لے کر بیان کیا جائے گا۔ جب ”شہنشاہِ معظم“ کی دہشت گردی کورٹ میں حاضری کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا جائے گا اور جب شہنشاہِ معظم کے اُڑتے ہیلی کاپٹر کے گھنٹوں کا حساب کیا جائے گا۔
جو ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے وہ ”کُرسی“ کی دوڑ میں مصروف۔ ڈیرہ غازی خاں اور راجن پور میں سیلابی تباہ کاریاں جاری اور دلخراش مناظر جابجا لیکن پرویز الٰہی کو شہنشاہِ معظم کے احکامات کی بجاآوری سے فرصت نہیں۔ خیبرپختونخوا جہاں گزشتہ 10 سالوں سے تحریکِ انصاف کی حکومت ہے، وہاں گلی گلی تباہیوں کی داستانیں۔ ڈیرہ اسماعیل خاں میں کئی گاو¿ں صفحہ¿ ہستی سے مِٹ گئے، متعدد افراد لاپتہ ہو گئے، ایئرپورٹ تباہ ہوگیا اور فلائیٹیں معطل ہوگئیں لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ 3 سال قبل چترال میں عمران خاں کی بہن علیمہ خاں سیلاب میں پھنس گئی تو ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ہیلی کاپٹر بھیج کر اُسے ریسکیو کر لیا گیا۔ آج لوئر کوہستان میں 5 بھائی سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے 3 گھنٹوں تک مدد کے لیے پکارتے رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی شور مچتا رہا لیکن صوبائی حکومت نے پشاور سے ہیلی کاپٹر نہ بھیجا اور یوں ایک ہی خاندان کے یہ نوجوان سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے۔ ہیلی کاپٹر کے نہ آنے کی وجہ یہ کہ وہ تو شہنشاہِ معظم کے لیے مختص ہے جنہوں نے جگہ جگہ جلسے کرکے جھوٹ کی آڑھت سجانی ہوتی ہے۔ 26 اگست کو شہنشاہِ معظم نے ہیلی کاپٹر پر ڈیرہ اسماعیل خاں کی بربادیوں کا ”نظارہ“ کیا اور پھر پریس کانفرنس میں اتحادی حکومت کے خلاف زہر اُگلنے کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ یہ ہے ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا داعی عمران خاں جس نے اُجڑی بستیوں کے مکینوں تک جانے کی نہ تو زحمت گوارا کی اور نہ ہی اُنہیں تسلی کے دو بول کہے۔
اب کچھ گزارشات عدلیہ کے فیصلوں کے بارے میں۔ ورلڈ پروجیکٹ رُول آف لاءانڈکس 2021ءکے مطابق دنیا کے 139 ممالک میں سے پاکستان 130 ویں نمبر پر ہے جبکہ دینِ مبیں میں سب سے زیادہ زور عدل وانصاف پر دیا گیا ہے۔ فرقانِ حمید کی بیشمار آیات میں عدل کی تلقین کی گئی ہے۔ سورة مائدہ آیت 8 میں ارشاد ہوا ”اے ایمان لانے والے لوگو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی خاطر گواہی
دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھِرجاو¿“۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہاں عدل کی حکمرانی ہے؟۔ کیا عامیوں سے اشرافیہ تک سبھی کو یکساں انصاف ملتا ہے؟۔ کیا ہمارے عدل کے اونچے ایوانوں میں ایسے فیصلے ہوتے ہیں جن پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے؟۔ بدقسمتی سے ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم 130 ویں نمبر پر ہیں۔ ہماری بے بسی کا یہ عالم کہ دَر دَر کے بھکاری بنے بیٹھے ہیں۔
یوں تو ہماری تاریخِ عدل کبھی بھی لائقِ تحسین نہیں رہی اور یہاں ہمیشہ جسٹس منیر کا نظریہ¿ ضرورت ہی کارفرما رہا۔ اِسی نظریہ¿ ضرورت کے سائے تلے قوم نے 37 سال آمریت کے گہرے بادلوں میں گزارے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے تو ایسے عجیب وغریب فیصلے سامنے آرہے ہیں کہ جنہیں پڑھ سُن کر عدل کے اونچے ایوانوں پر اعتماد ڈانواڈول ہو جاتا ہے۔ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مطابق ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے عدلیہ انتہائی محترم لیکن اُس کے متنازع فیصلوں پر بے چینی کا عنصر بھی بدرجہ اتم موجود۔ جب 3 اپریل 2022ءکو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کروانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ محترم عمر عطا بندیال نے اَزخود نوٹس لیتے ہوئے پانچ رُکنی بنچ تشکیل دیا اور بنچ نے 7 اپریل کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری، وزیرِاعظم عمران خاں اور صدرِ مملکت عارف علوی کے اقدامات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیا تو سوائے تحریکِ انصاف کے سبھی نے بَرملا کہا کہ ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ نے نظریہ¿ ضرورت ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا لیکن خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔ اِسی معزز عدلیہ کا ایک فیصلہ 17 مئی کو سامنے آیا۔ صدرِ مملکت نے آرٹیکل 63-A کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھا۔ اِس فیصلے کے مطابق منحرف رُکنِ اسمبلی نہ صرف ڈی سیٹ ہو گا بلکہ اُس کا ووٹ بھی کاو¿نٹ نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ 2 معزز جسٹس صاحبان نے اختلافی نوٹ لکھا کہ یہ فیصلہ آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے کیونکہ آرٹیکل 63-A میں کہیں نہیں لکھا کہ منحرف رُکن کا ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا۔
16 اپریل 2022ءکو حمزہ شہباز وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں 196 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ اِن ووٹوں میں تحریکِ انصاف کے 25 منحرف ارکان بھی شامل تھے۔ اِس انتخاب کے بعد جب 17 مئی کو سپریم کورٹ کا فصلہ آیا تو الیکشن کمیشن نے اِن 25 ارکان کو نہ صرف ڈی سیٹ کر دیا بلکہ وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں 25 منحرف ارکان کے ووٹ بھی شمار نہیں ہوئے حالانکہ آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت منحرف رُکن نہ صرف ووٹ ڈال سکتا ہے بلکہ وہ ووٹ شمار بھی ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ 17 مئی کے پانچ رُکنی لارجر بنچ کے 2 ارکان جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس جمال خاں مندوخیل نے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا ”اُن کی رائے میں آرٹیکل 63-A کی مزید تشریح آئین کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش ہوگی“۔ ہائیکورٹ پنجاب کے لارجر بنچ نے 25 منحرف ارکان کو منہا کرکے دوبارہ گنتی کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا اور حکم ہوا کہ 17 مئی کے ضمنی انتخاب کے بعد 22 مئی کو دوبارہ انتخاب ہوگا۔ 22 مئی کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری نے قاف لیگ کے چودھری پرویز الٰہی کو پڑنے والے 10 ووٹ منہا کرکے حمزہ شہباز کی جیت کا اعلان کر دیا۔ دوست مزاری نے ارکانِ اسمبلی کو بتایا کہ قاف لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اُنہیں خط لکھا ہے کہ قاف لیگ کے ارکان حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گے پرویز الٰہی کو نہیں اِس لیے یہ 10 ووٹ منہا کیے جاتے ہیں۔ سردار دوست مزاری کا یہ فیصلہ اُسی دن سپریم کورٹ میں چیلنج ہوااور 26 جولائی کو سپریم کورٹ کے 3 رُکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے اور چودھری پرویز الٰہی کو وزیرِاعلیٰ مقرر کیا جاتا ہے۔یہ 3 رُکنی بنچ چیف جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تھا۔ اتحادی جماعتوں اور ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے سپریم کورٹ سے فُل کورٹ کی استدعا کی تھی جو نامنظور ہوئی اور اتحادی جماعتوں نے اِس بنچ کا بائیکارٹ کیا۔ اب ذہنوں میں یہ خلجان پیدا ہو رہا ہے کہ اگر تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خاں کی ہدایت پر 25 منحرف ارکانِ اسمبلی کو گنتی سے منہا کیا جا سکتا ہے تو ±ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کی ہدایت پر 10 منحرف ارکان کے ووٹ کیوں منہا نہیں کیے جا سکتے؟۔ یہ گُتھی تو اُسی وقت ہی سُلجھے گی جب سپریم کورٹ بنچ کے اکثریتی ارکان کا تفصیلی فیصلہ سامنے آئے گا۔ حمزہ شہباز اور 25 منحرف ارکان نے نظرِثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے لیکن 3 ماہ گزرنے کے باوجود اکثریتی تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال 25 مئی کے لانگ مارچ میں سامنے آئی جب سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خاں نے حواریوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا۔ 26 مئی کو توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ 5 رُکنی بنچ کے سربراہ چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے عمران خاں کو فیصلے کے متعلق درست طریقے سے آگاہ نہ کیا گیا ہو۔ بنچ کے رُکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے کہا تو چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ آئی جی اسلام آباد، آئی بی اور آئی ایس آئی سے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ منگوانے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ وہ رپورٹ تو جمع ہو چکی اور یہ بھی طے ہو چکا کہ عمران خاں تک سپریم کورٹ کا درست حکم پہنچایا جا چکا لیکن 3 ماہ گزرنے کے باوجود اُس کیس پر ابھی تک شنوائی کی نوبت نہیں آسکی۔

تبصرے بند ہیں.