وزیراعظم نے 200 سے 300 یونٹ والے بجلی صارفین کو بھی ریلیف دینے کا کہا ہے: وزیر خزانہ

97

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے 200 سے 300 یونٹ والے بجلی صارفین کو بھی ریلیف دینے کا کہا ہے تاہم ابھی اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ 
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) ہم سے پوچھتا ہے کہ سبسڈی کس کو دے رہے ہیں؟ 200 یونٹ والوں کو سبسڈی کا جواز بنتا ہے اور 200 سے 300 یونٹ والوں کیلئے سبسڈی پر 13 ارب روپے لاگت آئے گی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 200 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو بھی ریلیف دینے کا کہا ہے مگر اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ مجھ سے ناخوش ہیں، ظاہر ہے مہنگائی سے کون خوش ہو سکتا ہے، عابد شیر علی سے پوچھتا ہوں کوئی ایسا فیصلہ بتادیں جو وزیراعظم کی مرضی کے بغیر ہوا ہو، مفتاع اسماعیل کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے۔
وزیراعظم کے دورہ قطر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ قطر نے تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے اور جلد ہی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری ہو جائے گی۔ قطر ائیر پورٹس لانگ ٹرم لیز پر چاہتا ہے اور سی پورٹس پر سرمایہ کاری کرے گا جبکہ قطر نے ایل این جی پاور پلانٹس میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ حکومت کا 8 ہزار میگا واٹ سولر پلانٹس لگانے کا ارادہ ہے اور قطر نے 8 ہزار میگاواٹ سولر پلانٹس لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے پاکستان میں بجلی کی ضرورت پوری ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب ارب کی جانب سے بھی موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت ملے گی، مارچ اور اپریل میں تیل کے مہنگے سودوں کے باعث بجلی مہنگی پیدا ہوئی تھی جبکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ شرح مبادلہ فکس کرنے سے متعلق کوئی وعدہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب سے نقصان تو بہت زیادہ ہوا ہے اور اس وقت ریلیف کا کام بھی ہورہا ہے جبکہ بحالی کا کام بعد میں ہو گا، ابھی تعمیر نو و بحالی کیلئے لاگت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، 40 سے 50 ارب روپے کا صرف لائیو سٹاک کا نقصان ہوا ہے جبکہ جائیداد کا نقصان اربوں میں ہے۔

تبصرے بند ہیں.