کیا اسٹیبلشمنٹ کمزور ہوچکی ؟

76

پی ٹی آئی کے قیام سے اب تک پہلی بار بظاہر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی اداروں نے قانون پر عمل درآمد کرانے کی جانب حرکت شروع کردی ہے۔ فوج کو بغاوت پر اکسانے کے کیس میں شہباز گل کی گرفتاری پہلا قدم ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران ہی ٹیریان وائٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر ہوگئی ۔ جلسے میں خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔ اس حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران جج حضرات کے ریمارکس بھی بڑے سنجیدہ اور سخت تھے ۔فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی جانب سے عمران خان کو دوسری مرتبہ نوٹس جاری کرنا بھی اہم پیش رفت ہے۔ پیمرا نے عمران خان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی لگانے کا جو فیصلہ کیا وہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے ریلی نکالنے پر بھی مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کرپشن کیسز کے سلسلے میں نیب بھی جلد کارروائیاں شروع کرسکتا ہے ۔ اگرچہ یہ المیہ ہے لیکن پاکستانی عوام میں گہرا تاثر پایا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے موڈ کا اندازہ عدالت کے تیور دیکھ کر ہی لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی لیے اب سب کی نظریں عدالتوں پر ہیں ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اب تک جتنے بھی مقدمات داخل کیے گئے ہیں ان میں ایک بھی کمزور بنیادوں پر قائم نہیں کیا گیا ۔اس کے ساتھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پالیسی ساز حلقوں نے پی ٹی آئی کو پیغام دیا ہے کہ جو بھی بیانیہ چلائیں حدود اور رولز کو فالو کریں ، سب سے پہلی ترجیح سیاسی استحکام ہے، عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی حکومت آچکی ہے جسے آئینی مدت پوری کرنا ہے، وقت سے پہلے انتخابات نہیں ہونگے اسلئے ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہ بنایا جائے ، سیاسی استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ لیول پلیئنگ فیلڈ تقاضا کرتا ہے کہ سب پارٹیوں کو سیاسی میدان میں یکساں مواقع ملنے چاہئیں ، عمران خان فیلڈ میں ہیں تو نواز شریف کو بھی میدان میں آنے کا موقع ملناچاہئے ، ایک دوسرا پیغام خطے میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے سے متعلق ہے ، یہ کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے امریکی سازش تھیوری اور اس پر کھڑے کئے گئے بیانیہ نے نہ صرف پاک امریکہ تعلقات خراب کئے بلکہ سعودی عرب ،چین ، یو اے ای ، یورپی یونین سمیت قابل ذکر دوست ایک ایک کر کے ہم سے لا تعلق ہوتے گئے خطے میں امن ، سلامتی ،ترقی کیلئے دوستوں اور پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ضروری ہیں جنہیں داخلی سیاست سے دور رکھا جائے ، تیسرا پیغام یہ ہے کہ نواز شریف تا حیات نا اہلی بھگت رہے ہیں اور آپ
کیخلاف ابھی کیسز شروع ہوئے ہیں ،مقدمات کا سامنا کریں دفاع کریں اور عدالتی فیصلے کا انتظار کریں ، پالیسی ساز حلقوں کے اس پیغام کا عمران خان نے اب تک کچھ خاص اثر نہیں لیا ۔ تاہم ایک تبدیلی ضرور نوٹ کی جارہی ہے کہ اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عام انتخابات میں جتنی بھی تاخیر ہوگی ہمیں اتنا ہی فائدہ ہے ۔ لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ وہ اقتدار سے باہر کیے جانے کے بعد خود چین سے بیٹھے ہیں نہ دوسروں کو بیٹھنے دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی کو یقین ہے کہ وہ دباﺅ جتنا بڑھائیں گے اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ شاید اسی لیے اسٹیبلشمنٹ اپنی طاقت دکھانے پر مجبور ہوگئی ۔ پچھلے ہفتے شہباز گل کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کو حوالگی ہر صورت رکوانے کے لیے عمران خان نے پنجاب حکومت کو تمام حربے استعمال کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یوں یہ ایک ٹیسٹ کیس بن گیا۔تصادم کے خدشات نے پنجاب کے اعلیٰ حکام کو مقتدر حلقوں سے رابطہ کرنے پر مجبور کردیا ۔ یہ درخواست کی گئی کہ تھوڑا وقت دیں خان صاحب کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں مگر فوری طور پر دو ٹوک جواب ملا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قانون پر بلا تاخیر عمل درآمد کریں۔ اسی دوران رینجرز اور ایف سی کو اسلام آباد پولیس کی مدد کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تو پنجاب حکومت فوراً پیچھے ہٹ گئی ۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے لیے یہ سبکی والی بات تھی۔ اگلے ہی روز بابر اعوان نے مشورہ دیا کہ جلوس لے کر پمز ہسپتال جائیں انتظامیہ پر شدید دباﺅ آئے گا۔ ایسے ماحول میں شہباز گل سے ملاقات” وکٹری“ سمجھی جائے گی ۔ عمران خان نے اس مشورے پر عمل کیا مگر ہسپتال پہنچتے ہی بتا دیا گیا کہ ملاقات کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یقیناً یہ پولیس کا فیصلہ نہیں تھا ۔ پی ٹی آئی کا قافلہ ناکام لوٹ آیا۔ یہ دو واقعات واضح پیغام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اگر واقعی طاقت استعمال کرکے کسی کو کوئی کام کرنے سے روکنا چاہیے تو روک سکتی ہے ۔ جلسے ، جلوس ، ریلیاں ، دھمکیاں ، دھونس کوئی اہمیت نہیں رکھتے لیکن اس سے بھی ثابت ہوگیا کہ اب تک عمران خان کے نخرے کسی مصلحت کے تحت ہی اٹھائے جارہے ہیں ، مگر یہ مصلحت سیاسی جماعتوں کی اتحادی حکومت پر بہت بھاری ثابت ہورہی ہے۔ ایک طرف ملک کا بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے تو دوسری طرف بجلی کے بلوں کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں ۔ مہنگائی اور بیڈ گورننس کا سب سے زیادہ خمیازہ ن لیگ کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو سیاسی میدان سے تقریباً آوٹ نظر آرہی ہے ۔ ایسے میں مرد مفاہمت آصف زرداری اچانک برہم نظر آنے لگے انہوں نے عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص فوج، پولیس اور خاتون مجسٹریٹ کو دھمکیاں دیتا ہے اور ساتھ کہتا ہے مجھے گرفتار کرکے دکھاو، عدلیہ کو دیکھنا ہوگا کہ کیا ‘اقتدار کا بھوکا’ شخص قانون سے بالاتر ہے، کیا یہ شخص میرے، میری ہمشیرہ فریال تالپور، میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف ماورائے قانون انتقامی کارروائیاں کرسکتا ہے اور خود ہر قانون کو روند سکتا ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن واضح انداز میں کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے انتشار پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا تو جے یو آئی میدان عمل میں آکر روکے گی ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مقتدر حلقوں پر بھی سخت برہم ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کے پی کے مختلف حصوں میں ٹی ٹی پی والے کیسے آگئے؟ ایسے بیانات سے واضح ہورہا ہے کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں بھی موجودہ صورتحال پر خوش نہیں۔ پی ٹی آئی کو امید ہے کہ وہ اسی طرح پریشر بڑھاتی رہی تو اسٹیبلشمنٹ گھٹنے ٹیک کر ایک بار پھر اقتدار انہیں پیش پر مجبور ہو جائے گی ۔ عمران خان نے جہاں پورے ملک میں سیاسی ماحول کو گرما رکھا ہے وہیں اب عالمی میڈیا میں بھی ان کے حق میں آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں ۔ امریکہ میں لابنگ کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں ۔ ان سب عوامل کا اسٹیبلشمنٹ پر کتنا اثر ہورہا ہے اس کے بارے میں ہر کوئی الگ الگ اندازے لگا رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہوگئی ہے تو اسے خام خیالی ہی سمجھا جانا چاہیے۔

تبصرے بند ہیں.