شہباز شریف اور نریندر مودی ملاقات کا امکان

19

ہمارا قومی میڈ یا دو اہم بنیادوں پر چل رہا ہے جس میں پہلی یہ ہے کہ کس کس طرح کی خبر یں چھاپنی چاہئیں۔ ایسے کون کون سے موضوعات ہیں جن کو نہیں چھپنا چاہیے۔ اس کو آپ میڈیا کی To Do List اور Not to do list کہہ سکتے ہیں۔
اس ہفتے اسلام آباد میں ایک اہم Development یا پیش رفت ہوئی جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے کافی نمایاں تھی۔ اس پیش رفت کا تعلق دنیا کی تقریباً1/5 یا 20 فیصد آبادی سے تھا اور چاہیے تو یہ تھا کہ اس خبر پر بہت بڑا شور اٹھ جاتا۔ ٹی وی چینل اپنی معمول کی نشریات معطل کر کے اس کو رپورٹ کر تے۔ اس پر ہر چینل پر ٹاک شوز کئے جاتے اور اس طرح کا ماحول بنایا جاتا کہ کچھ ہونے جا رہا ہے مگر ایسا کچھ نہ ہوا ۔
خبر یہ تھی کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر کی تعیناتی کے موقع پر ان سے ملاقات میں کہا کہ ہم انڈیا کے ساتھ مستقل امن چاہتے ہیں اور جنگ ہمارے آپشن میں شامل نہیں ہے۔ 75 سال پرانے مسئلے پر ان حالات میں خاموشی توڑنا ایک بریکنگ نیوز ہے۔2019ءسے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر طرح کے مذاکرات بند ہیں۔ 5 اگست 2019ءکو انڈیا نے یکطرفہ طور پر کشمیر کا متنازعہ Status زبردستی ختم کر کے جموں کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دیدیا تھا۔ آسٹریلوی ہائی کمشنر سے ملاقات کے اگلے دن haward یونیورسٹی کے طلباءکے ایک وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تو اس موقع پر بھی انہوں نے جنگ کو خارج از امکان قرار دینے کے ساتھ permanent peace پر زور دیا جس سے ثابت ہوگیا کہ انڈیا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی بات بر سبیل تذکرہ نہیں تھی لیکن ہمارے قومی میڈیا نے اس کو جائزاہمیت نہیں دی۔
وزیراعظم پاکستان کا یہ بیاں جسے میڈیا نے سرد خانے سے نکالنے کی کو ئی جلدی ظا ہر نہیں کی ایک
ایسے وقت پر آیا جب اگلے ماہ ستمبر16-15 کو سمرقند، ازبکستان میں شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن SCO کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے جس میں روس، چین، انڈیا اور ایران کے سربراہان مملکت شریک ہو رہے ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف بھی اس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں توقع کی جارہی ہے کہ اس اجلاس کی سائیڈ لائن پر بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے امکانات موجود میں البتہ ابھی تک ایسی ملاقات کی وزارت خارجہ کی طرف سے تصدیق نہیں ہوئی لیکن مودی کی چینی صدر ژی اور روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقاتوں کی خبریں گرم ہیں۔ گزشتہ 6 سالوں میں کسی پاکستانی وزیراعظم نے اپنے انڈین ہم منصب سے ملاقات نہیں کی۔
انڈیا کے اندر ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ن لیگ کی جب بھی حکومت آئی ہے تو انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے لگتی ہے مگر نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی جس میں انڈین میڈ یا پراپیگنڈا کرتا ہے کہ نواز شریف کو انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں فیصلہ کن آزادی حاصل نہیں ہے آج کے اس جمہوری دور میں کوئی بھی حکومت اپنے مخالف ریاست کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند کرنے کا رسک نہیں لے سکتی ہے۔ واجپائی نے کہا تھا کہ ہم دوست بدل سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے اس خطے کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ گزشتہ 75 سال سے ایشیا کے دو اہم ممالک کئی جنگیں لڑنے کے باوجود اپنے مسائل حل نہیں کر سکے جبکہ یہ دونوں نیو کلیئر طاقتیں بھی ہیں۔
شہباز شریف کے مذکورہ بالا بیان کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ یہ بیان اچانک آیا ہے کیوں کہ کابینہ کے کسی اجلاس کی کسی رپورٹ میں انڈیا کے ساتھ Permanant peace کا ذکر نہیں آیا۔ ویسے ن لیگ اور اس سے پہلے تحریک انصاف کی کابیناو¿ں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ وزیراعظم ہر دور میں سارے اہم فیصلے کابینہ کے مشورے کے بغیر بلکہ کابینہ کے علم کے بغیر ہی کرتے ہیں ۔
شہباز شریف کے انڈیا کے بارے میں بیان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بیان آسٹریلوی ہائی کمشنر کے سامنے کیوں دیا گیا ہے؟ آسٹریلوی ہائی کمشنر کے ساتھ تو آسٹریلیا پاکستان تعلقات کی بات ہونی چاہیے تھی۔ انڈیا کہاں سے آگیا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ جنرل مائیکل کی اس ہفتےGHQ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے اس دفعہ یہ ملاقات ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد ہوئی ہے۔ امریکا آج کل اپنی پہلی ترجیح سنگاپور اور چائنا کے تنازعہ کو دے رہا ہے اور پاکستان چائنا کے تعلقات پر اپنے تحفظات رکھتا ہے جس کے لیے یہ سوچا جارہا ہے کہ پاکستان کو چائنا سے پیچھے ہٹانے کے لیے انڈیا پاکستان تعلقات کی بحالی ضروری ہے۔ حالا نکہ چائنا واحد ملک ہے جس نے پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی اقوام متحدہ میں انڈیا کی پیش کی گئی قرار داد کو دو دفعہ ویٹو کیا ہے۔
جب بھی کسی عالمی فورم پر انڈیا اور پاکستان کے وزیرا عظم شریک ہور سے ہوں تو میڈ یا میں اس بات پر پہلے ہی شرطیں لگ جاتی ہیں کہ دونوں ہم منصب کے درمیان ملاقات ہوگی یا نہیں اگر ہوئی تو کس کا پلہ بھاری رہے گا۔ اس دفعہ ابھی تک شرطیں لگانے کا سلسلہ شروع ہونے میں کچھ دن باقی ہیں لیکن لگتا ہے کہ شہباز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات ہو جائے گی اس سے پہلے انڈین وزارت خارجہ عمران خان کے 4 سالہ دور میں یہ کہتی رہی ہے عمران خان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ با اختیار نہیں ہیں وہ فوج کے زیر اثر ہیں۔
یہاں پر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انڈیا کے ساتھ ڈائیلاگ کا موضوع ہمارے قومی میڈ یا کی Not to do list میں کیوں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سارے تجزئیے اور تبصرے ملاقات کے ہونے نا ہونے پر ختم ہو جاتے ہیں۔ ملاقات ہو بھی جائے تو 75سال کا تنازع 75 منٹ میں کیسے طے ہوگا صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اس ملاقات کے نتیجے میں سفارتی یاوزارتی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔ ہنوز دلی دور است۔

تبصرے بند ہیں.