”نو… سْر … تے گانہ …؟ بس قومی ترانہ…

13

پمز میں جناب شہباز گل کی عیادت کا منظر اچھا لگا۔ خان صاحب نے حق دوستی ادا کر دیا… شہباز گل کا نام غلطی سے میں شہناز گل لکھ جاتا ہوں… اگر یہ غلطی ہو تو پلیز آپ خود ہی درست کرلیں کیونکہ معاملہ نازک ہے اور خان صاحب اس واحد معاملہ میں کمپرو مائز پر بالکل بالکل تیار نہیں۔ میری ایک کلاس فیلو تھیں شہناز گل… میں ان کو محبت سے کہا کرتا تھا شہناز تم گلاب کے پھول کی طرح ہو… تمہارا نام بھی اچھا ہے… شہناز گل…! وہ بدتمیز سی تھی جھاڑ پلا دیتی… بلکہ اکثر سنجیدہ رہتی اور میری بکواس سن کر مزید سنجیدہ ہو جاتی اور میں دل ہی دل میں سوچتا … سنجیدہ ہو جائے تو زیادہ خوبصورتی نمایاں ہوتی ہے… یہ جو ثقیل قسم کی شاعری ہماری جوانی کے ایام میں ہوئی اور اردو ادب ہی سے مالا مال ہے اس کی وجہ لڑکیوں کی سنجیدگی اور "No Lift” عام تھی۔ مرد خود بخود ہی اسے محبت کا نام دیتے یا فرض کر لیتے کہ وہ محبوبہ ہے؟!
خط کی روانگی… وصولی… پڑھنا… اگر فرض کیا فرض کی گئی محبوبہ نے خط پکڑ بھی لیا تو وہ چوری چھپے پڑھ لیتی … دس لائنیں پڑھیں الو آگئے… ”ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے“… یہ مصرعے اسی دور میں تخلیق ہوئے کہ بے چاری نے جیسے دعا سمجھا وہ دغا تھا… پھر چار پانچ سطریں پڑھیں امی نے نماز ختم کر لی جائے نماز تہہ کیا… ”وقت رخصت وہ چپ رہے ناصر…“! آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل…
فرض کی گئی محبوبہ نہ سمجھا کہ محترمہ کو کاجل والی آنکھیں پسند ہیں… محترمہ نے خوب کاجل لگا لیا اور بندریا لگنے لگیں… امی نے تیز نگاہی دکھائی تو محبوبہ (فرض کی گئی) نے امی کے فقرے پر…شہناز کیا ہے؟! خط آگ میں پھینک دیا… حالانکہ اسی خط کے آخر میں لکھا گیا تھا کہ میں دبئی جا رہا ہوں تم انتظار کرنا … ورنہ میں…!؟ خط تو آگ میں جھونک دیا جا چکا تھا ”دغا باز فراڈیا… کمینہ بلکہ سب چھوڑ… حرامی“…!
جب محلے میں اڑتی اڑتی آئی کہ وہ تو دوسال کے لیے دبئی چلا گیا … پیچھے سے پھوپھو کے بیٹے سے شادی ہو گئی… جو دبئی میں اسی کے پاس ویلڈنگ کا کام کرتا تھا… آگے کہانی آپ خود بنا لیں… میں کالم نگار ہوں امجد جاوید لمبے لمبے ہزار صفحوں کے ناول لکھنے والا نہیں…؟!
یہ ہے فرق… ہمارے اور آپ کے دور میں… موبائل… آج کیا پکا کل کیا پکے گا… پرسوں کھانا بندو خان پر کھایا جائے گا یہ سارا شیڈول اب دونوں طرف پتہ ہوتا ہے… ہمارے دور میں ایک منگنی ایک شادی (موت تک کے لیے) ہوتی تھی… اب دس بارہ بار منگی پھر جا کے شادی وہ بھی کئی پوائنٹ مشکوک رہ جاتے ہیں… پچھلے دنوں خان صاحب کے ایک بڑے جلسے کی پوسٹ ہمارے بائی گل خان نے لگائی… یہ صنوبر خان کے بھائی ہیں گل خان اور ہمایوں اختر خان کے سیاسی امور کے سیکرٹری بھی ہیں… میں نے فون کیا نہ سلام نہ دعا… گل خان… گل خان… بھائی یہ فوٹو Deleteکرو… جلدی کرو…؟! محسن خان کیا ہوا… کیا ہوا گھبرایا ہوا ہو … کہیں عمران خان کی دسمبر میں اترے اوور کوٹ والی فوٹو تو نہیں غلطی سے پوسٹ کے ساتھ جولائی میں لگ گئی…؟! خان کے ملتان والے جلسے کی رپورٹنگ لگا رہا تھا…! نہیں گل خان گل خان نہیں… بھائی ملتان میں مینار پاکستان نہیں ہے…؟! آہو آہو ہاﺅ ہاﺅ خان نے فون بند کر دیا… دو منٹ بعد آیا… ہانپتے کانپتے محسن خان محسن خان محسن خان شکریہ… صنوبر خان صنوبر خان (گھبراہٹ میں گل خان ایک ایک نام تین تین تین دفعہ دہراتا ہے… اور میں کیک لے کر تمہارے گھر شکریہ ادا کرنے آئیں گے… ملتان کے جلسہ میں لاہور والے مینار پاکستان والے جلسے کی فوٹو لگ گئی تھی… آپ نے شروع میں ہی نوٹ کر لیا اور گل خان گل خان گل خان تمہارا بھائی سر عام بے عزت ہونے سے بچ گیا۔
کئی سال پہلے میں میں بابت نوکری ملتان تبدیل ہو کر چلا گیا… ادھر چیمے چٹھے سدھو آرائیں ملک مغل بھٹی کھوکھر جیسی ذات برادریاں ہوتی ہیں ادھر سرگانہ مکونہ ، جبوانہ وغیرہ ہوتے ہیں میرے پاس جو پی اے تھا وہ نذر عباس سرگانہ تھا… مجھے خوشی ہوئی… کہ نذر عباس سرگانہ… سٹاف میں ہے… موسیقی سے لگاﺅ… اچھی گپ شپ ہوا کرے گی… دو دن بعد موقع ملا تو میں نے بڑی محبت سے کہا…”نذر عباس صاحب خوشی ہوئی آپ نے اپنے شوق کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا… سر+گانہ… کچھ مہمان آ گئے… وہ اٹھ کر چلا گیا اور میں مصروف ہو گیا… تین چار دن گزر گئے مجھے وقتاً فوقتاً یاد آتا کہ یہ کس قدر deveotee ہے اپنے مشغلے کے ساتھ…پھر ایک دن تین چار لوگ بیٹھے تھے کہ میں نے بات چھیڑ دی نذر عباس صاحب آپ کو کون سا گلو کار پسند ہے؟! لالہ جی… آپ فارغ اوقات میں کس کو سنتے ہیں… اپنی بیوی کی جھاڑیں یا لالہ جی… یہ لالہ جی… کون ہیں؟! سر عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی وہ بولا… میں کچھ بدمزہ سا ہوا… اور کوئی گلو کار… نئی سائیں… میں میرے ابا جی… میرے مسیر (ماسی کے بیٹے) ممیر (ماموں کے بیٹے) سب لالہ جی کو پسند کرتے ہیں؟ وہ سنجیدہ سے سینہ تان کے بولا… یہ تو الٹ ہو گیا میں نے سمجھا آپ کو موسیقی سے بہت لگاﺅ ہے آپ مہدی حسن ، استاد امانت علی خان بڑے غلام علی خان کو ہی سنتے ہوں گے؟! پھر یہ سر + گانہ یہ دونوں نام کا حصہ کیسے بنائے آپ نے…؟! سب حاضرین کے منہ سے ہنسی کا فوارہ نکلا اور وہ قہقہے لگاتے کمرے سے باہر نکل گئے… چپڑاسی بھانپ چکا تھا معاملہ وہ ہنستے ہوا بوالا ”صاحب جی اس کے ہاں پیدائش سے موت تک لالہ جی کے گانے ہی سنے جاتے ہیں… یہ نذر عباس سرگانہ ہے… سر+ گانہ نہیں یہ سرگانہ ان کی ذاتی ہے۔
آج میں نے شہباز گل کے حوالے سے نکلنے والی ریلی کا سٹارٹ دیکھا تو مجھے نذر سر گانہ یاد آگیا… عمران خان نے آج ریلی کا سٹارٹ تلاوت قرآن مجید پھر درود شریف اور پھر اللہ ہو سے لیا تو… بے چاری لڑکیوں اور ڈانسر لڑکوں کو بڑی مایوسی ہوئی کہ یہ تو مکمل مذہبی ٹچ ہے… اللہ ان پریشان حال حاضرین کی مدد فرمائے آمین۔

تبصرے بند ہیں.