چور مچائے شور

23

رَبّ ِ لَم یَزل کا فرمان ہے ”بیشک جو جھوٹا، ناشکرا ہے، اللہ اُس کو ہدایت نہیں دیتا“(سورۃ الزمر 3)۔ ایسے لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکتے چلے جاتے ہیں اور اللہ اُن کی رَسی دراز کیے جاتا ہے لیکن وہ نہیں جانتے ”بیشک اُس کی پکڑ بڑی شدیددردناک ہے“ (سورۃ ہود102)۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضورِاکرم ﷺ کا فرمان ہے ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اُسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے“۔ یہ وہ معیار ہے جو دینِ مبیں نے ایک مسلمان کے لیے مقرر کیا۔ اِسی میزان میں جب ہم قومی رَہنماء عمران خاں کو تولنے کی کوشش کرتے ہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ہم یہاں وہ بات ہرگز نہیں کریں گے جس کی تصدیق خود عمران خاں نے نہ کی ہو۔ اُن کا نعرہ تھا کہ 90 دنوں میں کرپشن ختم کر دوں گا۔ پھر کسی صحافی نے سوال کیا کہ کیا ایسا ممکن ہے؟۔ جواب آیا ”90 دن دور کی بات ہے کرپشن 9 دن میں ختم ہو جائے گی“۔ کپتان کے ساڑھے تین سالہ دورَحکومت میں بین الاقوامی سرویز کے مطابق کرپشن پہلے سے بڑھ گئی۔ فرمایا 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دوں گا لیکن کوئی گھر نہ بن سکا البتہ 2 کروڑ افراد بیروزگار ہوگئے۔ اِس حوالے سے جب 2 سال بعدسوال کیا گیا تو کہا ”نیا پاکستان سوئچ نہیں ہے کہ گورنمنٹ آئی اور نیا پاکستان بن گیا“۔ ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا شور تو بہت مچایا لیکن اُس کی طرف ایک قدم بھی نہیں اُٹھایا۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد گلی گلی میں 35 پنکچرز کا شور مچایا اور بعد میں کہہ دیا کہ وہ سیاسی بیان تھا۔ جھوٹ بولا کہ بنی گالہ کا گھر کاؤنٹی کرکٹ کے پیسوں سے خریدا، بعد میں کہہ دیا کہ جمائما نے طلاق پر گفٹ کیا۔ کہا کہ بیرونی ممالک میں پڑے ہوئے 200 ارب ڈالر واپس لاؤں گا لیکن ایک ڈالر بھی واپس نہ لا سکاالبتہ لندن کی حکومت نے ملک ریاض سے جو 50 ارب روپے ریکوَرکرکے پاکستانی حکومت کو دیئے وہ عمران خاں نے ملک ریاض کو واپس کرکے اُس کے عوض 485 کنال زمین اور دیگر کئی فوائد حاصل کیے۔ کپتان نے کہا کہ کسی کو ایکسٹینشن نہیں دوں گا لیکن چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کو بِن مانگے 3 سال کی ایکسٹینشن دے دی۔ کہا ”لوٹے نہیں لوں گا“ لیکن ساری جماعت ہی لوٹوں سے بھر دی اور کہا کہ الیکٹیبلزکے بغیر حکومت نہیں بنا سکتا، اِن لوگوں نے ضمیر کی آواز پر لبّیک کہا ہے۔ جب یہی لوٹے لَوٹ گئے تو کہا یہ ضمیرفروش، وطن دشمن اور غدار ہیں۔ شیخ رشید کے بارے میں کہا ”اِسے چپڑاسی بھی نہ رکھوں“، بابر اعوان کو چور، پرویز الٰہی کو ڈاکو اور ایم کیو ایم کو غدار کہا۔ حکومت ملنے پر شیخ رشیدوزیرِداخلہ، بابر اعوان مشیرِخصوصی، پرویز الٰہی پہلے سپیکر پنجاب اسمبلی پھر وزیرِاعلیٰ
پنجاب اور ایم کیو ایم مرکز میں اتحادی ٹھہری۔ کہا ”عافیہ صدیقی کو واپس لاؤں گا، کشمیر آزاد کرواؤں گا، موروثی سیاست ختم کروں گا“۔ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ایک قدم تک نہیں اُٹھایا، کشمیر بھارت نے ہڑپ کر لیا اور جب پارلیمنٹ میں سوال ہوا تو چِڑ کر کہا ”کیا بھارت پر حملہ کر دوں؟۔ تحریکِ انصاف میں موروثی سیاست جابجا نظر آتی ہے۔پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور کئی دوسرے ارکانِ اسمبلی کے پورے پورے خاندان سیاست میں۔ کہا ”آف شور کمپنی رکھنے والے چور ہیں لیکن جب اپنی آف شور کمپنی نکل آئی تو کہا ”وہ تو ٹیکس بچانے کے لیے قائم کی تھی“۔
یوں توخاں نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اُن پر پورا تھیسز لکھا جا سکتا ہے لیکن سب سے بڑاا جھوٹ وہ امریکی خط (سائفر) ہے جسے سازشی بیانیہ بنا کر عمران خاں سڑکوں پر نکلے اور کہا کہ امریکہ نے ایک سازش کے تحت اُن کی حکومت گرائی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی گنجائش نہیں؟۔ اگر ہے تو پھر اتحادیوں نے اُن پر عدم اعتماد کرکے کون سا آئین توڑا ہے اور امریکہ کی سازش کہاں سے آگئی؟۔ حقیقت یہ کہ ایک طرف تو عمران خاں امریکی سازش کا بیانیہ گھڑ کے لوگوں کے جذبات اُبھار رہے ہیں جبکہ دوسری طرف خاموشی کے ساتھ امریکی لابنگ کمپنیز سے معاہدے بھی کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مختلف اوقات میں 3 مختلف فرموں سے معاہدے کیے۔ پی ٹی آئی نے ابتدائی معاہدہ یکم مئی سے اکتوبر 2021ء تک 25 ہزار ڈالر ماہانہ پر کیا۔ یہ معاہدہ رابرٹ لارنٹ گرینیئرکی کمپنی کے ساتھ ہوا۔ رابرٹ لارنٹ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے دوران سی آئی اے کے اسلام آباد میں سٹیشن چیف تھے۔ اِس معاہدے پر پی ٹی آئی کے افتخار دُرانی نے حکومتی ہدایت پر دستخط کیے۔ 21 مارچ 2022ء کو فینٹن کمپنی کے ساتھ 25 ہزار ڈالر ماہانہ پر 6 ماہ کا معاہدہ ہوا جس پر اُس وقت کے امریکی سفیر اسد مجید (امریکی سائفر والے) نے 22 مارچ کو دستخط کیے۔ اب یکم اگست کو اُسی کمپنی کے ساتھ 25 ہزار ڈالر ماہانہ پر معاہدہ ہوا ہے جو 21 اگست 2022ء سے نافذ العمل ہوگا۔ ہم کپتان کے چاہنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ کپتان کے مطابق 7 مارچ 2022 ء کو سازشی خط آیا اور 8 مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد پیش ہوگئی۔ اگر یہ تحریکِ عدم اعتماد امریکی سازش ہی تھی تو پھر 21 مارچ کو امریکی لابنگ فرم کے ساتھ کیوں معاہدہ ہوا؟ اور اب اِسی معاہدے کی تجدید کیوں کی گئی؟۔ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے ریڈ کارپیٹڈ استقبال کیوں ہوا، امریکی حکومت سے 35 گاڑیاں کیوں وصول کی گئیں اور عمران خاں نے ڈونلڈ بلوم کے ساتھ ویڈیو کال کیوں کی؟۔ اگر عمران خاں کے حواری پھر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ خاں کی حکومت کا جانا امریکی سازش تھی تو پھر اُن کی عقل پر سوائے ماتم کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
عمران خاں کے دینی معاملات اُس کا اور اللہ کا معاملہ ہے جنہیں ہم یہاں زیرِبحث نہیں لانا چاہتے لیکن جب وہ ایک مبلغ کے روپ میں سامنے آکر کہتے ہیں ”میں نے قوم کو لا الہ الااللہ کا صحیح مطلب سمجھا دیا ہے“ تو پھر لامحالہ کہنا پڑتا ہے کہ پورے کلمے (لا الہ الااللہ، محمد الرسول اللہ) کا مطلب تو ہم نے ماں کی گود میں ہی سیکھ لیا تھا، آپ کو شاید آدھے کلمے کا مطلب بتایا گیا ہوگا لیکن آپ اُس پر بھی عمل نہیں کرتے کیونکہ سب سے بڑا شرک قبروں کو سجدہ کرنا ہے، جو آپ کرتے ہیں۔ ہمارے ایمان کے مطابق پورا کلمہ حضورِاکرم ﷺ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ویسے اطلاعاََ عرض ہے کہ جو ریاستِ مدینہ کی تشکیل کا داعی ہو اور اسلامی طرزِ حکومت چاہتا ہو، وہ نہ تو منتقم مزاج ہوتا ہے نہ نرگسیت کا شکار، نہ بدتمیز وبدتہذیب ہوتا ہے اور نہ آئین شکن۔ یوٹرن لینے اور اُس پر فخر کرنے والے کی تو دین میں کوئی گنجائش ہی نہیں کیونکہ یو ٹرن کا سیدھا مطلب جھوٹ اور بَدعہدی ہے۔ اِسی لیے ہم اپنے کالموں میں بار بار یہی درخواست کرتے رہتے ہیں کہ کپتان صاحب دین کی آڑ لینا چھوڑ دیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اِس میں حقیقت کہاں تک ہے لیکن مصدقہ ذرائع کے مطابق عمران خاں ”امین“ تو ہرگز نہیں ہیں۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں یہ ثابت ہوچکا کہ عمران خاں نے خیرات اور رفاہی کاموں کے لیے ممنوعہ فنڈ اکٹھے کیے اور اُنہیں یا تو اپنی ذات یا اپنی سیاسی جماعت پر خرچ کیا۔ یہی نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کے علاوہ ایف بی آر نے تحریکِ انصاف کی امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیم میں 5 خفیہ کمپنیوں کا انکشاف کیا ہے۔ یہ ایسی کمپنیاں ہیں جن کا ایف بی آر میں کوئی ریکارڈ ہے نہ الیکشن کمیشن میں۔ اِس کے علاوہ الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ کیس بھی دائر کیا جا چکا جس کے حکومتی ذرائع کے مطابق بہت حیران کُن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کپتان نے ”مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے“ کے مصداق تسبیح، جائے نماز اور ڈنرسیٹ تک نہیں چھوڑے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ پہلے توشہ خانہ سے تحفے نکالتے، اُنہیں بازار میں فروخت کرتے اور پھر معمولی معاوضہ توشہ خانہ میں جمع کرواتے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں ”صادق وامین“ کے اثاثے محض 4 کروڑ تھے جو 2021ء میں 31 کروڑ ہو گئے۔ فرح گوگی اور پنکی پیرنی کے اثاثے اِس سے الگ۔ اب خاں صاحب فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ جیسے الزامات سے جان چھڑانے اور میڈیا کی توجہ دوسری جانب مبذول کرنے کے لیے شہباز گِل کی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے باہر نکل آئے ہیں حالانکہ نہ صرف خود کپتان بلکہ تحریکِ انصاف کے کئی رَہنماء یہ بیان دے چکے ہیں کہ شہباز گِل کا اے آر وائی پر دیا گیا بیپر نہ صرف بہت بڑی غلطی بلکہ غیر آئینی تھا۔

تبصرے بند ہیں.