وقت توگزرجائے گامگر۔؟

12

حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔جس طرح وقت ہرلمحے اورسیکنڈکے بعد گزرجاتاہے اسی طرح مشکل وقت بھی ایک نہ ایک دن گزرہی جاتا ہے۔یہ غربت،تنگدستی،محتاجی،بے بسی اور بیماری ہمیشہ نہیں ہوتی ۔وقت کے ساتھ ہرچیزنے بھی ایک نہ ایک دن آخرگزرہی جانا ہوتا ہے۔ غربت کے مقابلے میں امیری،بیماری کے بعدصحت اوربے بسی کے مقابلے میں وس اوربس بھی توہے۔وہ خداجس کے قبضہ قدرت میں ہم سب کی جان اوریہ پورانظام ہے اس خداکے لئے وقت اورحالات کالمحوں میںپھیرناکیامشکل ہے۔؟آج حالات ہمارے لئے سخت اوروقت مشکل اس لئے بناہواہے کہ ہم نے اپنے حقیقی مالک اورخالق کوبھول کروقت اورحالات کوپیٹناشروع کردیاہے۔ناشکری یہ توگناہ سے بھی بڑاگناہ ہے ۔حکمران یہ تواعمال کانتیجہ اورنچوڑہوتے ہیں۔آج برے وقت اورمشکل حالات کولیکرحکمرانوں کوبرابھلاتوہم کہہ رہے ہیں لیکن کیا۔؟اپنے گریبان میں بھی ہم نے کبھی جھانکنے کی زحمت گوارہ کی۔؟کیاہمیں نہیں پتہ کہ جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے ہی ان پرپھرحکمران بھی مسلط کئے جاتے ہیں۔اخلاق،کرداراوراعمال ہمارے اپنے ٹھیک نہیں اوربرابھلاہم حکمرانوں کوکہہ رہے ہیں۔جتنی گالیاں ہم حکمرانوں اورسیاستدانوں کودیتے ہیں اتناٹائم اگرہم اپنے آپ کوٹھیک وسیدھاکرنے پر لگا دیتے توآج ہمیں برے وقت کاروناپڑتااورنہ ہی مشکل حالات کی میت پرآنسوبہانے کی ضرورت پیش آتی۔حالات کوبدسے بدتراوروقت کومشکل سے مشکل بنانے والے سارے گرتوہم نے سیکھ لئے لیکن افسوس ایک شکرتک ہم نہیں پہنچ سکے۔ شکر اور شکرمیں کوئی فرق نہیں۔ شکر جتنا میٹھا ہوتاہے شکراس سے کہیں زیادہ میٹھا ہے۔ جولوگ ہمہ وقت رب کا شکر بجالاتے ہیں آج کے ان برے حالات اور مشکل وقت میں بھی ذرہ ان کو دیکھ لیں کہ وہ کس طرح سکون سے رہ کرزندگی انجوائے کر رہے ہیں۔ یہ تورب کاوعدہ ہے کہ شکرکروگے تومیں اپنی نعمتوں کو اور زیادہ کروں گااوراگرناشکری اور موجود نعمتوں کاانکارکرو گے تو پھر میراعذاب بہت سخت ہے۔
حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ زمانے کی گردش اوردنوں کی سختی سے میں کبھی دل شکستہ اوررنجیدہ نہیں ہوامگرایک بارضرورملال ہواجب میرے پائوں میں جوتے نہ تھے اورنہ خریدنے کومیری جیب میں پیسے تھے۔میں حیران اورپریشان کوفے کی جامع مسجد میں جانکلا۔وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کے پائوں ہی نہیں ہیں۔پس میں نے اپنے پائوں کی سلامتی پر خدا کا شکر ادا کیا اور ننگے پائوں رہناہی غنیمت سمجھا۔ اس لئے وقت اور حالات کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں۔وقت نرم یا گرم اور حالات اچھے یابرے جیسے بھی ہوں یہ ایک نہ ایک دن گزرہی جاتے ہیں۔ہمیں وقت اورحالات کوپیٹنے کے بجائے شیخ سعدی کی طرح اپنے اردگردبھی نظرڈالنی چاہئیے۔ اس مٹی پرتوایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جن کے پاس دوکیا۔؟ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی کچھ نہیں۔ایسے بھی بہت ہیں جن کے گھرہیں اورنہ در۔ایسے بھی بے شمارہیں جونہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں۔۔ایسے بھی ہزاروں نہیں لاکھوں اورکروڑوں میں ہیں جونہ چل سکتے ہیں اورنہ پھر سکتے ہیں۔ ہم اور آپ تو مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کاروناروتے ہیں لیکن آپ یقین کریں اس جہان میںایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس نہ مال کی کوئی کمی ہے اورنہ دولت کی،ان کومہنگائی ،غربت اوربیروزگاری کی کبھی ہوابھی نہیں لگی۔ ان کے گھروں میں بریانی، کباب، مٹن، چکن، روسٹ، قورمہ، برگر، شوارما اور پلائو سمیت تمام اقسام کے کھانے اور دنیا جہان کی ہر نعمت ہر وقت موجود ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ پھر بھی کھانے میں خشک روٹی، دلیہ اورڈبل روٹی کے سوااورکچھ نہیں کھا سکتے۔ مانا کہ حالات خراب ہیںپر اتنے بھی نہیں جتنے ہم نے سمجھ لئے ہیں یابنالئے ہیں۔پائوں میں جوتے کے نہ ہونے کوتوہم برے حالات اورمشکل وقت کانام دے کر رونا، چیخنا، چلانا اور پیٹنا شروع کردیتے ہیں لیکن یہ ہم بھول جاتے ہیں کہ پائوں میں صرف جوتا نہیں پیر تو سلامت ہیں۔ رونا، دھونا، چیخنا اور چلاناتوان کابنتاہے جن کی آنکھیں نہیں ،جن کے کان نہیں،جن کے ہاتھ نہیں اورجن کے پائوں نہیں۔جن کے پاس کچھ نہیں وہ توآرام سے ہیں لیکن جوہماری طرح اللہ پاک کی دی ہوئی ہرنعمت سے مالامال اورعیش وعشرت کی زندگی گزاررہے ہیں ان کی بھونکارہی ختم نہیں ہو رہی۔ حکمرانوں اورسیاستدانوں کوبرابھلاکہنااورہروقت حالات پررونا،چیخناوچلاناکوئی فرض ہوگالیکن اپنامحاسبہ کرنایہ اس سے بھی بڑافرض ہے۔ہم جب تک اپنا محاسبہ نہیں کریں گے تب تک حکمران اور سیاستدان کیا۔؟کوئی بھی ہمارے یہ حالات تبدیل نہیں کرسکتا۔حالات کی ان تبدیلی کے لئے سب سے پہلے ہمیں خودکوتبدیل کرناہوگااورہماری تبدیلی کاآغازتب ہوگاجب ہم قدم قدم اورلفظ لفظ پراللہ کاشکربجالائیں گے۔شیخ سعدی سے کسی نے پوچھاکہ حال کیساہے۔؟اس نے جواب دیاکہ اللہ کی نعمتیں کھاکھاکردانت ٹوٹ گئے ہیں مگرزبان اس کی ناشکری سے بازنہیں آتی۔یہی حال ہمارابھی ہے۔اللہ کی نعمتیں کھاکھاکردانت کیا۔؟زندگیاں ہی ہماری گزراورٹوٹ گئی ہیں مگراللہ پاک کی ناشکری سے ہم پھربھی بازنہیں آرہے۔ایک بات یادرکھیں ۔وقت اورحالات جیسے بھی ہوں یہ آج نہیں توکل گزرجائیں گے لیکن ان حالات اور وقت میں ہم اللہ کی یہ جوناشکری کرتے ہیں۔ ناشکری کے اس گناہ نے کبھی گزرنانہیں۔ناشکری کے اس داغ اورگناہ نے قبرتک پھر ہمارا پیچھا کرنا ہے اورقبرمیں بھی جاکراس نے ہمیں آرام وسکون سے نہیں چھوڑنا۔ہماری بھلائی اورنجات ناشکری کے اس گناہ،اژدھے اوربلاسے نجات میں ہی ہے۔ برے حکمرانوں اورکرپٹ سیاستدانوں سے ہم جان چھڑائیں یانہ لیکن ہمیںناشکری کی حکمرانی سے اب ہرحال میں جان چھڑادینی چاہئیے۔ جب تک ہم بات بات پراللہ کا شکر ادا نہیں کریں گے تب تک ہمارے حالات اسی طرح خراب اوروقت مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔اس لئے حکمرانوں، سیاستدانوں، ججز، وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز اور تاجروں کو برا بھلا کہنے اور گالیاں دینے سے پہلے اپنے اندر موجود ناشکری کے اس کیڑے کو برا بھلا کہہ کرایک بار دل وجان سے اس پرہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعنت بھیجئے۔ پھردیکھیں کہ آپ کے یہ برے حالات اچھے حالات میں بدلتے ہیں کہ نہیں۔ پر ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ وقت توگزرجائے گامگراس وقت میں آپ کے کئے گئے اعمال اورافعال کبھی بھی نہیں گزریں گے وہ کل بھی آپ کے ساتھ تھے آج بھی آپ کے ساتھ ہیں اورآنے والے کل بھی آپ کے ساتھ رہیں گے۔اسی لئے توکہاجاتاہے کہ بندے کے اعمال،افعال اورکردارقبرسے اگلی منزلوں میں بھی ساتھ جاتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.