قومی ادارے اور سیاسی پا رٹیاں

13

وطنِ عز یز میں ان دنوں یہ عام مشا ہدے کی بات ہے، کہ قومی ادارے، جن پہ ہمیشہ سیاست میں دخیل ہونے کا الزام لگتا رہا ہے،مکمل طو رپر غیرجانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یعنی سب ہی سیا سی پا رٹیوں کے لئے بہار کا مو سم ہے۔ اب بھی اگر کو ئی سیا سی پارٹی عوا می امنگوں پر اتر نے میں ناکام رہتے ہوئے اپنا ووٹ بینک قا ئم رکھنے میں نا کا م ہو تی ہے تو یہ سراسر اس پا رٹی کا اپنا قصو ر ہو گا۔ تاہم ہم دیکھ رہے ہیں کہ کو ئی بھی سیا سی پا رٹی عوام میں مقبولیت حا صل نہیں کر پا رہی۔ سب سے پہلے اگر پیپلز پا رٹی کی با ت کر یں تو وہ اپنا دائرہِ کار سند ھ سے آ گے بڑھا نہیں پا رہی۔ تحریکِ انصا ف کی با ت کر یں تو اس کے مر کزی رہنما ؤں نے خود اپنے پاؤں پہ کلہا ڑی ما رکر اپنا سیا سی مستقبل مخدو ش نبا لیا ہے۔ اور بطور پارٹی مسلم لیگ ن کی اکثریت فرسودگی کا شکار ہے۔ پارٹی کی ٹاپ قیادت میاں نواز صاحب میاں شہباز صاحب اور ڈار صاحب کے علاوہ نہ صرف نئے دور کے تقاضوں سے نابلد ہے بلکہ وہ کسی اور کے لئے جگہ چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ عہدیداروں کے نام پر اکثر پارٹی لیڈران نے اپنے چمچے کڑچھے مسلط کیے ہوئے ہیں جن کی ذہنی استعداد ایوریج سے بھی کم ہے  اور یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی کے کارناموں کو ہائی لائٹ کر پاتے ہیں اور نہ پارٹی پر ہونے والی بے سروپا تنقید کا معقول جواب دے پاتے ہیں۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو ن لیگ کی مرکزی قیادت سب سے زیادہ اوسط عمر بزرگوں پر مشتمل ہے ایسے لوگ جو اب بھرپور عملی سیاست کے جسمانی طور بھی قابل نہیں رہے ہیں مگر لائم لائٹ سے علیحدہ ہونا انہیں منظور نہیں حالانکہ ان میں سے ہر کوئی اپنے کسی نہ کسی عزیز کو بطور ایم این اے اور ایم پی اے پارٹی میں گھسا چکا ہے۔ پارٹی میں نئے آنے والوں کے لیے پذیرائی نہیں جس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ پرانے لوگ نئے آنے والوں سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ آپ گزشتہ دس بارہ سال کا مشاہدہ کیجئے ن لیگ میں جو لوگ نئے ولولے کے ساتھ ابھرے ہیں انہوں نے پارٹی کے لیے بہت اچھا پرفارم کیا ہے۔ عطا تارڑ ہر چند کہ سیاسی خانوادے سے ہیں مگر پارٹی کا پُرجوش دفاع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو نئے لوگ پارٹی کی توجہ کا مرکز بنے ہیں ان پر غور فرما لیجیے کہ وہ کسی نہ کسی سے تعلق یا پرچی سے پارٹی میں اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف ورکرز میں بددلی اور لاتعلقی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے لئے یہ نیک شگون نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک پارٹی مریم نواز کا رول بھی متعین نہیں کر پائی ہے کہ ہم ان سے امید لگا سکتے ہیں کہ پارٹی قیادت ان کے پاس آنے سے شاید کچھ بہتری ممکن ہو سکے۔ ورنہ پارٹی کا موجودہ طرز عمل ورکرز اور نئے آنے والوں کے لئے نہایت مایوس کن ہے۔ پارٹی کے بزرگوں کا یہ خیال ہے کہ انہیں پارٹی کے عہدوں سے جب بھی فارغ کیا جائے تو چار بندوں کے کندھوں پر ہی فارغ کیا جائے ورنہ ہم کہیں نہیں جا رہے۔
آئین نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں 
ملکی سیاست کی اس ہما ہمی میں یہ کہنے کی اشد ضرورت ہے کہ قومی اداروں کو سیاسی آویزش کا حصہ بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ اداروں کا وقار ساکھ اور پیشہ ورانہ قابلیت ریاستی وقار بھرم اور اقوام عالم میں معتبر حیثیت کا یہ بنیادی تقاضا ہے۔ جمہوری سیاست کا اصول بھی یہی ہے کہ سیاست اور ریاست کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رکھا جاتا ہے۔ سیاسی رہنما اپنے مدار میں کام کرتے ہیں وہ اپنے سیاسی پروگرام کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں اور اپنی بات کا پرچار کرنے کے لیے جائز ذرائع بروئے کارلاتے ہیں جبکہ ریاستی اداروں کو بلاروک ٹوک اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے دیا جاتا ہے۔ سیاسی قوتیں قومی اداروں کو اپنی سوچ کے تابع لانے کی غیر ضروری کوششیں نہیں کرتیں یہ مانتے ہوئے کہ اگر وہ ایسا کریں گی تو اس سے سیاست اور ریاست دونوں کا نقصان ہو گا۔ اگر ترقی یافتہ دنیا کی مستحکم جمہوریتوں کو دیکھیں تو ہم میں اور ان معاشروں میں جونمایاں فرق ہیں ان میں ایک بڑا واضح فرق یہ ہے کہ ان ممالک کی سیاسی جماعتوں میں ریاستی اداروں پر مسلط ہونے کا اتاولاپن نہیں ملتا اور اداروں کو سیاسی دائروں میں کھینچنے کی کوشش نہیں کی جاتی نتیجتاً وہاں اداروں کی مضبوطی سے ایسا مستحکم نظامِ ریاست قائم ہو چکا ہے کہ کسی حکومت کے آنے یا جانے سے ریاستی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں خود کو ملک و قوم کیلئے لازم و ملزوم سمجھ کر سیاست کرتی ہیں اور خود نمائی کی حد یہ ہے کہ کوئی اپنے سوا کسی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ کہ دیر پا منصوبہ بندی جو پائیدار ترقی کی ایک بنیادی ضرورت ہے کا ماحول ہی نہیں بن پاتا۔ ہر آنے والی حکومت نئے سرے سے شروع کرتی ہے اور اس کے جانے کے ساتھ اس کا سارا پروگرام بھی رخصت ہو جاتا ہے۔ جمہوری نظام میں ترقی کے امکانات کو ثمر بار کرنے کے لیے اس سوچ کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے اداروں کو سیاسی سوچ کے زیر اثر لانے کی خواہش کو ترک کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس ڈھانچے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کریں اور حتی الوسع یقینی بنائیں کہ اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی نوبت نہ آئے۔ اداروں کا احترام اور غیر جانبداری کا لحاظ سبھی سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر سیاسی رہنما اپنے چپقلش میں اداروں کو رگیدنے سے ہر صورت اجتناب کریں اور یقینی بنائیں کہ ایسا کوئی عمل ان کی جماعت کی سطح پر نہ ہو جس سے اداروں کے وقار پر حرف آتا ہو۔ حالیہ دنوں جو صورتحال دیکھ رہے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ تازہ واقعات الگ تھلگ نہیں ہیں پچھلے چند ماہ میں ایسے واقعات کی ایک لڑی نظر آتی ہے یہ سوچ قومی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنے والے بزعم خود ہو سکتا ہے اس رویے کو کسی انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ تصور کیے ہوئے ہوں درحقیقت یہ سوچ سماج کو تقسیم کرنے اور فکری انتشار اور خلفشار کو بڑھاوا دینے کا سبب بن رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر یہ دراڑیں کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ ان تبدیلیو ں کے محرکات ان کے منفی اثرات کو جتنا جلد محسوس کر لیں اور مان لیں عوامی اور سماجی سطح پر اتنا ہی بہتر ہے۔ سیاسی مقبولیت کا زور قومی ترقی کے لیے صرف ہو تو اچھا ہے ااور اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم اسے تخریبی مقاصد کے لیے تو بروئے کار نہ لایا جائے۔ پاکستان کے تمام سیاسی رہنما جہاں دیدہ اور تجربہ کار ہیں ایسا نہیں کہ وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ان حقائق کو سمجھ نہ سکتے ہوں۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ باہمی سیاسی اختلافات کے باوجود وہ قومی بھلائی کا جذبہ رکھتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی ترقی کی منزل پر پہنچنے کے لیے جو راستوں کے اختلافات ہیں انہیں بامعنی اور جمہوری اقدار سے ہم آہنگ مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

تبصرے بند ہیں.