عوامی مسائل میں اضافے کا تہیہ

8

حالیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور عوام توقع کر رہے تھے کہ اب انہیں بھی اس حوالے سے کچھ ریلیف میسر آئے گا لیکن حکومت نے الٹا تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ وزیرِ خزانہ اس بات کا دفاع بڑے بھونڈے انداز میں کر رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کو درست فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ سخت فیصلہ بھی عجیب سی منطق ہے۔ حکومت اس بات کو نظر انداز کر رہی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے، نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ عوامی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔ عوام کی توقعات کے برعکس پچھلے پانچ ماہ میں ان کے مصائب شدید ہو گئے ہیں۔ بالخصوص آسمان کو چھوتی گرانی نے ان کے اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو موجودہ دورِ حکومت میں سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بھی لب کشائی پر مجبور کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر تمام جماعتوں نے حالیہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کوناقابلِ قبول قرار دیا ہے اور اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عوام کو تسلی دینے کے لئے پاکستانی وزیرِ خزانہ گزشتہ دو ماہ سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ انہیں درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کی تان یہاں آ کر ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ عوام کو ان مسائل سے کب نجات ملے گی اور ان کے مصائب میں کمی کب آئے گی۔ غریب کی مشکلات میں کمی کے بجائے ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اشیائے خور و نوش میں اضافہ کا یہ عالم ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرانی کے باعث بہت سی اشیاء غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار بھی یہ ظاہر 
کر رہے ہیں ملک میں اشیائے صرف مہنگی ہو رہی ہیں لیکن وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ اور ماہانہ وار رپورٹیں بھی حکمرانوں کو اس اہم ترین عوامی مسئلے کو قابلِ توجہ سمجھنے پر مجبور نہیں کر سکیں اور اس نے ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کر دیا ہے جس سے مہنگائی کی متوقع لہر کا بڑی آسانی سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ صرف گزشتہ پانچ ماہ میں مہنگائی پچاس فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دال جسے غریب کی خوراک کہا جاتا تھا اب وہ بھی اس کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی ایسا قانون ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والے صنعت کاروں، مل مالکان، تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔ کاروباری لوگوں کا کیا کہنا حکومت نے خود بھی مہنگائی کو مہمیز دینے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ صرف پانچ ماہ کے عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخ کئی بار بڑھائے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔ جب کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے بجلی گیس کے نرخوں میں مزید اضافے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ان مہینوں میں جتنے یونٹ کا جو بل آتا تھا اس سال اتنے ہی یونٹوں کا بل ڈبل ہو گیا ہے۔ جب کہ آمدنیاں اسی سطح پر ہیں۔ حالیہ بجٹ میں بھی حکومت نے بہت سے نئے ٹیکس لگائے اور کئی طرح کے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بجٹ میں ٹیکسوں کی شرح نیچے لا کر گرانی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاتا لیکن یوں لگتا ہے کہ حکمرانوں نے صرف ان کے مسائل میں اضافہ کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ محصولاتی آمدنی میں اضافے کو بنیاد بنا کر عوام کو مہنگائی کے نئے طوفان کے حوالے کرنے والے اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی کرنے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور موجودہ حکومت نے وزراء کی فوج بھرتی کر لی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اربوں ڈالر کا مقروض ہے اور جس کی معیشت عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرض کے سہارے کھڑی ہے۔ اس کے حکمرانوں نے اپنے شاہانہ اخراجات میں دنیا کے امیر ترین ملک کے حاکموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
پاکستانی معیشت پچھلے کئی ماہ سے سنگین قسم کی مشکلات سے دوچار ہے۔ تمام معاشی اشاریے زوال پذیر ہیں۔ برآمدات میں کمی ہو رہی ہے، درآمدی بل بڑھ رہا ہے، تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی مسلسل بلند ہو رہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ پاکستان کی معیشت خطرات میں گھرتی چلی جا رہی ہے، معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، بچتوں و سرمایہ کاری کی شرحیں، غذائی قلت اور غربت کی صورت حال خود گزشتہ برسوں اور خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ افراطِ زر، مہنگائی، عوام کی تکالیف، محرومیاں اور ملک پر قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ اگر عوامی ردِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کی اکثریت نے موجودہ حکومت کو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے مقابلے میں نااہل قرار دیا ہے۔
اس حقیقت سے اب کسی طور پر انکار ممکن نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں ایندھن کی گرانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے باعث ظاہر ہے عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے مصائب بالخصوص مہنگائی کا حقیقی معنوں میں ادراک کرتے ہوئے اس میں کمی لانے کے لئے اقدامات کرے۔ اتحادی جماعتوں کی رائے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اوران پر عائد ٹیکسوں میں بھی کمی کی جائے، بجلی کے نرخ نیچے لائے جائیں اور اشیائے صرف پر ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ حکومت معیشت کی بحرانی صورت حال کا صحیح معنوں میں ادراک کرتے ہوئے معاشی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جس سے معیشت کے تمام شعبوں کی مشکلات میں کمی آئے۔ ان اقدامات سے حکومت اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.