میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی: مفتاح اسماعیل

11

اسلام آباد: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کے ہر فیصلے کا پابند ہوں اور ذمہ داری کے ساتھ کھڑا ہوں، میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھے گی بلکہ کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس نہیں لگاو¿ں گا۔ 
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول کا معاملہ آٹو میٹک ہے، یہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے آتا ہے، ہم نے تو ٹیکس میں اضافہ کیا نہ کم کیا، ہم نے یہ وزیراعظم کو بھیجا جسے انہوں نے منظور کر لیا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھے گی بلکہ میں نے کہا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس نہیں لگاؤں گا، گزشتہ دنوں ڈالر 235 پر تھا تو ہم نے پیٹرول تین روپے سستا کیا تو کسی نے نہیں پوچھا، اب اگلا ہدف مہنگائی کم کرنا ہے جس میں پیٹرول اور ڈیزل نیچے لانا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ہر فیصلے کا پابند ہوں اور ذمہ داری سے کھڑا ہوں، ہم اب پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ نہیں کرسکتے، آگے بھی مستقبل میں مشکل فیصلے کرتے جائیں گے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آپ نے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ کر کے توڑا، گیس کا سرکلر ڈیٹ 1400 ارب روپے تک پہنچا دیا، ایل این جی لوکل گیس کے نرخوں پر بیچ دی گئی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دنیا کا سستا ترین ایل این جی ٹرمینل لگانے پر ہمیں جیل بھیج دیا گیا، پونے 4 سال میں 19 ہزار 300 ارب روپے کا قرض چڑھا دیا گیا، گزشتہ حکومت میں 1500 ارب کا سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈالر 17 جولائی کے بعد ہمارے کنٹرول سے نکل گیا تھا، ہم نے ڈالر کو 239 روپے پر کنٹرول کرنا شروع کیا لیکن اب ڈالر نیچے آرہا ہے، میں پہلے بھی کہتا تھا کہ درآمد کم ہوگی تو روپیہ مضبوط ہو گا۔ 
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کا پروگرام شروع ہوچکا ہے اور اسی ماہ آئی ایم ایف بورڈ سے میٹنگ ہوجائے گی جس کے بعد ہمیں پیسے مل جائیں گے۔

تبصرے بند ہیں.