شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت 2 بجے تک ملتوی 

61

اسلام آباد: ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت کی جس دوران پراسیکیوشن کی جانب سے کیس التواءمیں رکھنے کی استدعا کی گئی جبکہ عدالت نے 11 بجے فریقین کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔ 
پی ٹی آئی رہنماءشہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ہم تیار ہیں، آپ آج ہی دلائل سن کر درخواست پر فیصلہ کر دیں جس پر ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے کہا کہ اسی طرح کا معاملہ ہائیکورٹ میں بھی زیر التواءہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر سے متعلق درخواست زیر التواءہے، ہائیکورٹ میں کیس دائر ہونے کے باوجود عدالت سن سکتی ہے، طے شدہ قانون ہے کہ ایک منٹ کسی کو بغیر وجہ جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، حکومت جان بوجھ کر اس معاملے کو لٹکانا چاہ رہی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر 11 بجے ریکارڈ سمیت پیش ہوں، آپ وکالت نامہ بھی جمع کرائیں، 11 بجے بحث بھی کریں اور اس کے ساتھ ہی سماعت 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ 
عدالت نے 11 بجے دوبارہ سماعت شروع کی تو شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے کہاکہ پراسیکیوٹر کی جانب سے کیس کو طویل کیا جا رہا ہے، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ آج درخواست ضمانت کی سماعت ہو رہی ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ آج 1 یا 2 بجے ضمانت کی درخواست کی سماعت رکھ لیں، ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں اور نہ ہی میرے موکل کے خلاف کوئی پختہ ثبوت لا رہے ہیں۔
پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ پرسوں تک سماعت ملتوی کی ہے اور ڈی ایس پی لیگل حسن رضا نے کہا کہ ریکارڈ ہائیکورٹ میں ہے جبکہ سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمیں درخواست ضمانت کی کاپی بھی ابھی تک نہیں ملی۔
جج نے فیصل چوہدری کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ دلائل دینا چاہتے ہیں تو دلائل دیدیں جس پر فیصل چوہدری نے کہا کہ میں دلائل دیتا ہوں تو سرکار کی جانب سے دلائل نہیں دئیے جائیں گے۔
جج نے کہا کہ وہ کل دلائل دیدں گے، کل تک کیلئے میں وقت دے دیتی ہوں، آپ آپس میں بیٹھ کر گفتگو کر لیں کہ کیا ملزم کے وکیل آج دلائل دیں گے یا نہیں؟ جس پر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ پولیس ریکارڈ پیش کر دے، ہم دلائل دیں گے۔عدالت نے پولیس سے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کر دی۔

تبصرے بند ہیں.