شہباز گل: عمران نیازی کا ایلچی

32

مجھے یاد پڑتا ہے کہ سپریم کورٹ کی 1983 ء کی ایک رولنگ کسی زمانے میں میری نظر سے گزری تھی کہ فرد پر تنقید ادارے پر تنقید نہیں ہے۔جس کا دوسرا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ ادارے پرتنقید اُس ادارے سے وابستہ تمام افراد پرتنقید ہے ۔ مجھے پاکستان کے باغی جرنیل کبھی پسند نہیں آئے میں کبھی اُن کا ساتھی نہیں رہا حالانکہ جب عمران خان نے پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کیلئے پی ٹی آئی پنجاب ایگزیکٹوکے اجلاس میں مشرف کیلئے حمایت لینے آیا تومیں نے ہائوس میں کھڑے ہو کرکہا کہ’’ جمہوریت کا داعی ہونے کے کسی دعویدار کو ایسی کوئی بات سوچنا بھی زیب نہیں دیتی چہ جائیکہ وہ کسی غیر آئینی فیصلے کے ساتھ کھڑا ہو جائے ۔‘‘ عمران خان نے مشرف کے ریفرنڈم کی مخالفت کا فیصلہ کیا اورساتھیوں سے رخصت لے لی لیکن رات گئے کسی القا ء یا الہام کے بعد اُس نے پرویز مشرف کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا تو ہم نے نہ صرف اُس فیصلے کی مخالفت کی بلکہ عمران سے اپنا تعلق بھی ختم کرلیا مگر جب پرویز مشرف کے سبز باغ سے اُس کے من کی مراد پوری نہ ہوئی تو اُس نے انتہائی مکاری سے پوری قوم اوراپنے ساتھیوںسے معافی مانگ لی اورہم نے سفرکا آغاز وہیں سے شروع کردیا جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا ۔ 26 سالہ سیاسی زندگی میں عمران نے پہلے زور سے اپنی بات منوائی اور بعد ازاں اُس کے برے نتائج پرناکامی یا نا اہلی تسلیم کرنے کے بجائے اپنے غلط فیصلے کواپنے سیکھنے کے عمل سے تعبیر کردیتا ہے ۔ یوں تو عمران خان کا بیڑہ غرق کرنے میں بہت سے لوگوں نے اہم کردارادا کیا لیکن حسن نثار اور ہارون الرشید اس ایف آئی آر کے مرکزی ملزم ہیں ۔ حسن نثار نے اُسے مولا جٹ بنا دیا اور ہارون الرشید نے اُسے اسلامی ٹچ دیا اوراسلامی ٹچ بھی جماعت اسلامی والا سو عمران خان بنیادی طور پر ان دونوں ارسطوئوں کے نرگسی خیالات کے مرکب سے کشید کی گئی تیسری شکل ہے سو آپ کو اس میں مولا جٹ اور اسلامی ٹچ دونوں دکھائی دیں گے۔
معراج محمد خان پاکستانی سیاست کے انتہائی قابلِ عزت اور قابل ِ احترام نام ہیں ۔انہوں نے اپنی جماعت پاکستان قومی محاذ آزادی میں ضم کی اورتحریک انصاف سیکرٹری جنرل نامزد ہوئے۔ 2002 ء کے انتخابات کی بدترین شکست کے بعد عمران نیازی نے معراج محمد خان کوکراچی سے اسلام آباد بلایا ۔یہ وہ وقت تھا جب معراج سانس کے مرض میں مبتلا ہو چکے تھے وہ کراچی سے بنی گالہ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ صاحب بہادر عمران نیازی اپنے کتوں کے ساتھ شکار پرگئے ہوئے ہیں ۔ اب فوری طور پراسلام آباد سے کراچی واپسی ممکن نہ تھی سومعراج محمد خان چار پانچ گھنٹے انتظار کرتے رہے ۔ عمران کی آمد ہوئی تو شکار لباس میں ملبوس اپنے کتوں کے ساتھ سیدھا معراج محمد خان کے کمرے میں داخل ہوا اور خفت مٹانے کے انداز میں مسکراتے ہوئے معراج محمد خان سے کہا ’’ معراج بھائی ! میرے ذہن سے نکل گیا تھا ۔‘‘ معراج نے ایک نظر عمران کی طرف دیکھا اور کہا ’’ عمران آج کے بعد تمہارے ساتھ صرف کتے ہی رہیں گے ۔‘‘اور عمران کی منت سماجت کے باوجود وہاں سے رخصت طلب کی۔ کامران شاہد کے ساتھ ایک انٹرویومیں عمران نے بتایا کہ مجھے کتے پالنے کا اب بھی شوق ہے ۔شیرو مر گیا لیکن اب میں نے موٹو پال لیا ہے ۔عمران خان کے غیرعقلی اور ناقابل ِ عمل بیانیوں پر لوگوں کو گالی گلوچ کرتے دیکھ کرمجھے اکثر اُن کتوں کا ذکر یادآجاتا ہے ۔ عمران خان انسانی تاریخ کا تومعلوم نہیں لیکن ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا محسن کش انسان ہے اُس نے عمر بھر انہیں لوگوں کا نقصان کیا جنہوں نے اُس پرکوئی نہ کوئی احسان کسی نہ کسی صورت میں کیا تھا ورنہ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے جن دو افراد حافظ فرحت اور عثمان گجر نے اُس کی ٹھکائی کی تھی وہ دونوں آج بھی پی ٹی آئی میںاہم عہدوں پرہیں ۔ دونوں فاقہ کشی کی حالت میں پی ٹی آئی میں تشریف لائے اور اب وہ لاہورکے صاحب ِ حیثیت لوگوں میں سے ہیں ۔ عمران نیازی پر جب پنجاب یونیورسٹی میں تشدد ہو کر رہاتھا توزبیر نیازی جو آج تک لوگوں کوبتاتا پھرتا ہے کہ وہ عمران کا بھانجا ہے ٗ اپنے ماموں کی مدد کو نہیں پہنچالیکن اقتدار کے دنوں میں لوٹ مار کا مکمل حصہ رہا اورسالہا سال کرائے کے مکانوں میں ہجرت کرنے والے زبیر نیازی کی مکانوں اور اثاثوں کی کو گنتی ہی نہیں جب کہ2013ء سے 2018 ء تک وہ اسلام آباد میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر ملنے والی ملازمت کرتا رہا اورصرف ہفتہ کی رات کولاہور پہنچتا اوراتوارکی رات واپس اسبلام آباد حاضری لگواتا لیکن اس کے باوجود ٹکٹ لینے والوں میں سب سے پہلا نام اُسی کا ہوتا ٗلاہورمیں اقربا ء پروری کی یہ سب سے بڑی مثال ہے ۔
شہبازگل کہاں سے آیا ٗکون ہے ٗ اُس کی تحریک انصاف کے اقتدار سے پہلے کیا خدمات ہیں اگر عمران خان جانتا ہوتوجانتا ہو لیکن تحریک انصاف کا کوئی بانی رکن سوائے عمران خان کے اُسے نہیں جانتا ۔نیٹ پردستیاب اُس کی پروفائل میں بھی اُس کی ابتدائی تعلیم اورولدیت کا خانہ خالی ہے ۔ شہباز گل نے افوج پاکستان میں بغاوت کروانے کی کوشش ایک قومی چینل پر بیٹھ کرکی ہے اورکسی نے اُس کا مائیک بند نہیں کیا ۔ جہاں تک بات ہے دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کی تواُن کی تنقید ہمیشہ فرد پررہی ہے لیکن شہباز گل نے ادارے میں موجود رینکس کو مخاطب کر کے اپنے افسران کی حکم عدولی کاکہا ۔اس نے فوج تقسیم کروانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعوی بھی کیا کہ لانس نائیک سے لے کربریگیڈئررینک تک کے لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں ۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی میڈیا سیل نے بلوچستان کے سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے شہداء بارے بھی ہتک آمیز کمپین لانچ کی جویقینا بشریٰ بی بی چلارہی ہیں ۔ حد تویہ ہے کہ فواد چوہدری افواج پاکستان سے مطالبہ کرتا بھی سنائی دیا گیا کہ’’ ایمن الظوہری پر ہونے والا ڈرون اٹیک کہاں سے ہوا ہے اُس کے بارے میں بتایا جائے اورعمران خان نے تواُس ڈرون اٹیک کیلئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال ہونے کی بات بھی کردی ۔ جس سے ایک بات توواضح ہوجاتی ہے کہ فوج مخالف بیانیہ شہباز گل ِ کا ذاتی نہیں بلکہ اسے پاکستان کے اندرونی اوربیرونی دشمنوں نے مل کر تیار کیا ہے اورپاکستانی عوام کے نوجوانوں کے ذہنوں میں ڈال دیا گیا ہے ۔ شہبازگل تو عمران نیازی پر اعتبار کرکے پاکستان کی سیاست کا ناپسندیدہ کردار قرار پاگیا لیکن نہ تو یہ یونانی دیوتا عمران خان کی قربان گاہ کا پہلا دنبہ ہے اورنہ ہی آخری ۔ ابھی ایک طویل فہرست ہے جن کو اگر نہ روکا گیا تو یہ وقتا فوقتا سامنے آتے رہیں گے ۔ افواج پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے اندرونی اوربیرونی دشمنوں کا قلع قمع کرے۔  عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری کی مذمت کرنے کے بجائے اُس کاٹرائل کرنے کی  درخواست کی ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر افواج پاکستان کا ادارہ خبروں کی زد میں ہو اوریہی سب سے بڑا مقصد اس وقت تحریک انصاف کا ہے ۔۔ عمران نیازی کی آخری تقریر ایک مایوس اورڈپریس انسان کے بے ربط خیالات کامجموعہ تھی۔ میں نے عمران خان کو زندگی میں اتنا مایوس کبھی نہیں دیکھا ۔شاید وہ سمجھ گیا ہے کہ جوکچھ اُس نے فوج کے خلاف کروایا ہے اُس کے تانے بانے بنی گالہ کے بند کمروں سے ہوتے ہوئے اُن حقیقی اذہان تک لازمی پہنچیں گے جن کی یہ کارستانی ہے ۔شہباز گل نے ایک قومی چینل پر افواج ِ پاکستان کو مخاطب کرکے بغاوت کی ترغیب دی ہے ۔اب کوئی کچھ بھی کہے لیکن ہم اپنے ذہن میں موجود خیالات و جذبات کو اپنے الفاظ کے ذریعے ہی دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ عمران خان کا پیغام شہباز گل سے ہوتا ہوا پاکستانی عوام تک پہنچ چکا ہے ۔ بد ترین معاشی حالات میں ایسی کوشش وطن عزیز کو جن حالات سے دوچارکردیگی اُس کا تصوربھی انسانی آنکھ کے تصورسے باہر ہے ۔اب یہ پاکستان کے اداروں کو سوچنا ہے کہ کیا وہ اس افلاس زدہ ٗدکھوں میں گھری قوم کوجہا ں غربت کے ہاتھوں تنگ باپ اپنی بیٹیوں کوقتل کرنے کے بعد خود کشی کر لے… ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں ؟؟؟

تبصرے بند ہیں.