روس، یوکرین جنگ کے باعث دنیا کا جی ڈی پی 2 سے 2.50 فیصد رہنے کا امکان

17

ماسکو: روس اور یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ۔

 

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جنگ سے دنیا بھر میں ایندھن اور خوراک کی ترسیل رک گئی ، پیداوار کو دھچکہ لگا اور اخراجات بڑھ گئے ، جس کے باعث رواں برس دنیا کا جی ڈی پی 2 سے 2.50 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔

 

اس جنگ نے پاکستانی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے ۔ گزشتہ مالی سال پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ تھی ۔ لیکن اب 2 سے 2.50 فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔

واضح رہے کہ کورونا کے بعد دنیا بھر کی معیشت تیزی سے سنبھلنے لگی تھی ۔ امریکا کا جی ڈی پی بڑھ کر 5.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا ۔ لیکن روس یوکرین جنگ نے معاشی نمو کو ریورس گیئر لگا دیا ، سن 2023 میں امریکا کا جی ڈی پی صرف ایک فیصد رہنے کا امکان ہے ۔

 

چین کا جی ڈی پی 8.1 سے 4.6 فیصد تک گرنے کا خدشہ ہے ۔ جاپان کی معاشی ترقی کی شرح نمو 1.7 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ جرمنی کا جی ڈی پی صفر اعشاریہ 8 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ برطانیہ کا جی ڈی پی بھی صفر اعشاریہ 5 فیصد تک گر سکتا ہے ۔ اسی طرح ، جنگ نے اٹلی کی معیشت کو بھی جھٹکا دیا ہے ۔ اور اس کا جی ڈی پی 6.6 سے کم ہو کر 0.7 فیصد گرجانے کا خدشہ ہے ۔

 

ادھر، بھارتی معیشت بھی روس اور یوکرین کی جنگ سے متاثر ہوئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق بھارت کا جی ڈی پی 8.7 سے کم ہو کر 6.1 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔

 

 

 

تبصرے بند ہیں.