تاکہ سند رہے!

18

موجودہ سیاسی صورت حال کوئی نئی نہیں بس سوشل میڈیا کا فرق ہے اور یہ فرق بہت نمایاں کے ساتھ ساتھ بے ہنگم اور بے قابو بھی ہے جس کے ڈانڈے بیرونی دنیا سے ملتے نہیں بلکہ جس کا سرچشمہ ہی بیرونی دنیا ہے۔ آج کے نوجوان چونکہ کتاب سے واقف نہیں سوشل میڈیا کے گریجویٹ ہیں جن کو بہکانا بہت آسان ہے۔ اب تو صحافی، اینکر، تجزیہ کار، رپورٹرز، ماہر عمرانی علوم و تاریخ کے اساتذہ ہر شے مسخ کیے دے رہے ہیں جانبداری، خودغرضی کا ایسا گرد و غبار کا طوفان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دے رہا۔ حالیہ دنوں میں وطن عزیز کی فوج کے خلاف بھی پراپیگنڈا کیا گیا یہ جانے بغیر کہ ادارہ جاتی طور پر فوج کچھ اور ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار کچھ اور جس پر مثبت تنقید ہر وقت ہو سکتی ہے لیکن فوج کے متعلق سوشل میڈیا پر جیسی مہم چلائی گئی وہ مکروہ چہرے چھپ نہ سکے اور سامنے آ گئے۔ کسی نے کہا تھا کہ فوج لازمی ہے اگر اپنے ملک کی نہیں ہو گی تو پھر کسی دوسرے ملک کی ہو گی۔ لہٰذا اسی سرزمین پر ہم نے گریٹ بھٹو صاحب کی سولی دیکھی، ان کے بیٹوں کی شہادتیں دیکھیں، محترمہ بے نظیر کی ناگہانی شہادت بھی دیکھی مگر ہوس اقتدار میں ایسی بکواس نہ سنی جیسی حالیہ دنوں میں سننے میں آئی۔
1986 میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا استقبال اور 2007 کا استقبال یوٹیوب پر موجود ہے۔ 2018 کے سکرپٹڈ انتخابات میں مقبولیت اور مخلوط حکومت کے دعویدار کیا بیچتے ہیں جن کے لیے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ ان کو سہارا نہ دے تو چند دنوں کی مار ہیں، حقیقت یہی ہے۔ کھلے میدان اور مقابلے میں محترمہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ہی جعلی مقبول مخلوط حکومت کی کھٹیا کھڑی کر دی تھی۔ بہر حال آج کی بات کریں تو فواد چودھری کہتے ہیں پنجاب، کے پی کے، کشمیر، گلگت بلتستان میں ان کی حکومت ہے اور بلوچستان میں یہ اتحادی ہیں تو پھر پریشانی کس بات کی ہے توڑیں تمام اسمبلیاں اور انتخابات کرائیں۔ آئین کی شق 234
سے اتنا خوف کیوں؟ جب آپ لوگ مقبول ہیں تو پھر ڈر کاہے کا۔ دراصل ان کی قیادت ایک جھڑک کی مار نہیں ہے۔ اب یہ ہر بات نیوٹرل پر ڈالتے ہیں حالانکہ پونے چار سال نیوٹرل نے ہی ان کو اپنے حصار اور حفاظت میں لیے رکھا۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ وہاں کے سکیورٹی اداروں نے بچائے رکھا اور پاکستان کو عمران خان کے دور میں وطن عزیز کے سکیورٹی اداروں نے بچائے رکھا۔ فواد چودھری، شیخ رشید اور چند اینکرز بعض اوقات لگتا ہے کہ یہ عمران نیازی کا سیاسی انجام قریب کرنے میں سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ عمران نیازی کو ہسپتال کے لیے جگہ جہاں نوازشریف اور پہلا کروڑ روپیہ ان کے والد میاں محمد شریف نے دیا مگر نام عمران خان کا ہے۔ فارن فنڈنگ ہوئی جو کہ ممنوعہ ہے موصوف اور اتحادی راضی ہیں آئین میں اجازت ہے کہ ایک آدمی جتنے مرضی حلقوں سے انتخابات لڑے مگر عمران خان 9 حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں کہ یا تو کسی پر اعتبار نہیں یا پھر آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں، ویسے تو آئین کے خلاف ہیں، کبھی چائینہ کبھی سعودیہ کے اختیارات مانگتے ہیں۔ 9 حلقوں سے لڑنا ایسے ہی ہے جیسے بندہ کسی سے کہے کہ اگر ایک بات کہوں تو غصہ تو نہیں کرو گے۔ دوسرا حسب روایت کہے کہ نہیں نہیں آپ بات کریں تو اگلا ماں بہن کی گالی دے دے۔ اسی طرح یہ آئین کو گالی دے رہے ہیں۔ میں بنیادی طور پر تاریخ، تجزیہ اور مشاہدے کا طالب علم ہوں وطن عزیز کی سیاسی جماعتوں، مذہبی سیاسی جماعتوں، حکومتوں کے استوار اور انہدام کی تاریخ میرے سامنے ہے میں نے جینوین سیاسی جماعتیں اور مذہبی سیاسی نظریاتی جماعتیں بھی دیکھیں، عسکریت کو ہتھیار بنانے اور دہشت کی علامت بن کر ابھرنے والے سیاسی گروہوں کو سیاسی جماعتیں بنتے دیکھا ان کو سکڑتے اور منہدم ہوتے دیکھا۔ آج اگر دو ایک نظریاتی جماعتیں موجود ہیں تو ان کی تاریخ کے بغیر پاکستان کی سیاست نا مکمل ہے۔ تاریخ میری لیبارٹری اور وطن عزیز کے ساتھ بیتنے والے حالات میری لائبریری ہیں۔ ملکی اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا کردار، قوت، طریقہ اور قرینہ بھی میرے سامنے ہے۔ سب کی حکمرانی کو ہم نے بھگتا ہے۔ حقیقی نظریاتی جماعتوں کے علاوہ تو کوئی سیاسی، مذہبی، لسانی جماعت نہ نام نہاد لیڈر ایک بڑھک کی مار نکلا۔ وہ چاہے ڈکٹیٹر شپ سے ہو یا سیاست سے کیا چار چار جماعتیں بدل کر پی ٹی آئی میں آنے والے انقلاب لائیں گے۔ خود اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرولڈ شیڈ میں پلنے والے برائلرز میں اتنا دم نہیں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ نیوٹرل کو نیوٹرل نہ رہنے کی صدائیں سارا ملک سن رہا ہے۔ یہ شیخ رشید، فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شہباز گل (نیا چہرہ) کونسا انقلاب لائے ہیں جو ان پر تکیہ کیا جائے۔ ایم کیو ایم ایک آہنی ہاتھ سے بھائی سے بہنوں میں بدل گئی۔ ہر قسم کی سپاہ خواب خیال ہوئی۔ اگر کوئی میدان عمل میں باقی بچا یا موجود رہا تو وطن عزیز میں اسٹیبلشمنٹ، پیپلز پارٹی، ن لیگ، اے این پی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام ایسی جماعتیں ہوں گی باقی تو برسات کے موسم میں بعض نکلنے والی مخلوقات کی طرح آئیں، آئیں گی اور ماضی بن جائیں گی۔ ق لیگ کو نواب زادہ نصراللہ خان پالتو لیگ کہتے تھے اس کو جوڑ، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کی پیوند کاری کر کے ایک پی ٹی آئی کی افزائش ہوئی جن کو لیڈروں کے طور پر باہر نکالا تو بات کرنے کا سلیقہ جو پہلے بھی موجود نہ تھا مزید برباد ہو گیا۔ ان کی تو اب داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔ کیونکہ اقتدار کے سوا ان کی کوئی منزل نہیں اور منزل پہ پہنچ کر بربادی کے سوا ان کا کوئی منشور اور حصول نہیں۔ بس چند مہینے گزار لیں پھر ہم بھی ادھر اور تجزیہ کار بھی ادھر۔ اب عمران خان کا ایک پیج کبھی نہیں آئے گا اس پر کراس انہوں نے خود لگایا ہے۔ حقیقی قیادتیں اور مقبولیت والے دربدر ہو گئے یہ تو سکرپٹڈ اور سراپا اداکار ہیں، ان گنت مقدمات ہیں خاطر جمع رکھیں۔ لکھ کر دے دیا ہے کہ اب ان کا دور کبھی نہیں آئے گا تا کہ سند رہے۔

تبصرے بند ہیں.