ؑؑعدلیہ کے ادب و احترام میں کمی کیوں…؟

50

مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی اختلافِ رائے کا اظہار کوئی ایسی انہونی بات نہیں۔ اکثر ایسے ہوتا رہتا ہے کہ کسی معاملے پر کسی فرد یا افراد کی رائے کچھ ہوتی ہے اور اسی معاملے پر اسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے اس سے ہٹ کر ہو یا اس کے متضاد ہوتی ہے۔ ایسا ہونا کوئی غیر فطری بات نہیں اور نہ ہی کوئی اسے ایسی کمزوری، خامی یا قباحت سمجھا جا سکتا ہے کہ جس سے کسی بڑی خرابی کے پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ ادارے بہرکیف ایسے ہیں جہاں اختلاف رائے کے اظہار میں احتیاط کی ضرورت ہے تو اس کی نوعیت کو سمجھنے ، سمجھانے ، بیان کرنے اور سامنے لانے میں اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں عدلیہ کے ادارے کو سر فہرست سمجھا جا سکتا ہے۔ عدلیہ وہ ادارہ ہے جو عدل و انصاف کی فراہمی، آئین و قانون کی بالادستی کو ہی یقینی نہیں بناتا بلکہ عزت مآب ججز انصاف کی فراہمی کو اس طرح یقینی بناتے ہیں کہ ان کی زبانیں خاموش رہتی ہیں لیکن ان کے فیصلے بولتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کے ادارے کو اس عزت ، احترام اور مقام و مرتبے کا حقدار سمجھا جاتا ہے جو کسی اور ادارے کو حاصل نہیں ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے ہاں عدلیہ بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے یہ صورتحال بدستور موجود ہے یا اس میں کچھ کمی پائی جاتی ہے اور اگر ایسا ہے تو اسکی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔
سچی بات ہے یہ کہتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ دن بدن بحیثیت مجمو عی عدلیہ (Judiciary)کی عزت ، احترام اور مقام و مرتبے میں کمی آ رہی ہے اور یہ کہتے ہوئے دل اور بھی دکھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری بڑی حد تک عدلیہ سے وابستہ عزت مآب ججز پر عائد ہوتی ہے۔ پچھلے چند ہفتوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان کے عزت مآب ججز اپنے زیرِ سماعت مقدمات میں اپنے متضاد ریمارکس اور بعد میں ان ریمارکس کے منافی فیصلے دینے میں جس طرح تند و تیز تنقید کا نشانہ بنے ہیں اس کی ماضی میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ رہی سہی کسر 28جولائی کو چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب عمر عطا بندیال کی طرف سے طلب کر دہ اور ان کی صدارت میں منعقدہ جوڈیشل کمیشن کی اجلاس کی کارروائی نے نکال دی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے چار کے مقابلے میں پانچ ارکان نے جناب چیف جسٹس کی طرف سے سپریم کورٹ کے لیے نامزد ججز کو مسترد کر دیا ہے۔ بات اسی پر ختم نہیں ہوئی بلکہ سپریم کورٹ کی طرف سے اجلاس کی کارروائی پر مشتمل جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس اعلامیہ کو بھی کمیشن کے دو محترم ارکان سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے بعد سینئر جج جسٹس سردار طارق مسعود نے حقائق کے منافی قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ یقینا انتہائی افسوس ناک ہی نہیں ہے بلکہ سپریم کورٹ جیسے اعلیٰ ترین عدالتی فورم کی عزت ، احترام ، مقام ، مرتبے، غیر جانبداری اور منصفانہ کردار پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں تاہم پاکستان کے ماضی میں اعلیٰ عدلیہ کے کچھ محترم ججز اور ان کے دیئے ہوئے فیصلوں اور ان سے متعلقہ کچھ باتیں اور واقعات ذہن میں اُبھرتے ہیں کہ وہ کس طرح کے لوگ تھے اور کیسے کیسے دبنگ ، آئین اور قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلے دیتے رہے۔ یہ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں صدر کے ایوب خان کے مارشل لاء کا دور ہو ، بعد میں ان کے 1962ء کے آئین کے نفاذ کا زمانہ ہو، ازاں بعد جنرل یحییٰ خان کا مارشلائی دور ہو اور اس کے بعد 70کی دہائی میں جناب
ذوالفقار علی بھٹوکے بظاہر جمہوریت لیکن ایک لحاظ سے فسطائیت کا دور ہو، بعض انتہائی قابل احترام سنجیدہ خو، خاموش طبع اور آئین اور قانون پر مکمل عبور رکھنے والے نیک نام ججز اپنے غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور آئین و قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے والے فیصلوں سے اعلیٰ عدلیہ کی نیک نامی اور عزت و وقار میں اضافہ کرتے رہے۔ ان نیک نام ججز میں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم آر کیانی ، جسٹس شیخ منظور قادر، مشرقی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محبوب المرشد کے نام ذہن میں ابھرتے ہیں تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے آر کارنیلیئس ، جسٹس ایس اے رحمٰن، جسٹس حمود الرحمٰن اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اقبال وغیرہ کے بارے میں بھی دل میں ادب و احترام کے جذبات موجود ہیں۔ ان کے بعد جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شیخ انوار الحق اگرچہ ایک شاندار اور قابلِ ذکر عدالتی کیریئر کے مالک تھے لیکن وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے متنازع فیصلے کی وجہ سے ایسے راندہ درگاہ ٹھہرے  کہ آج تک اُن پر انگلیاں اُٹھتی ہیں۔
یہاں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور ان سے وابستہ ججز کی تاریخ بیان کرنا مقصود نہیں۔ مدعا صرف اتنا ہے کہ واضح کیا جائے کہ ججز کے فیصلے بولتے ہیں اور ان کے لیے عزت و احترام کا باعث بنتے ہیں لیکن ان کے ریمارکس یا کورٹ روم میں ان کا سخت رویہ یا سائلین کو خوفزدہ کرنا ان کے لیے باعث توقیر نہیں ہوتا۔ یہاں تھوڑا سا حوالہ پاکستان کے اعلیٰ عدلیہ کے اس کردار کا دیا جا سکتا ہے جو 2007ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار محمد چودھری کی بطورِ چیف جسٹس آف پاکستان معطلی، ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے ، ریفرنس کے خارج ہونے اور ان کے بطورِ چیف جسٹس عہدے پر بحال ہونے کے بعد سامنے آیا۔ اس سے عدالتی فعالیت (جوڈیشنل ایکٹیوازم) کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بطورِ چیف جسٹس جناب افتخار چودھری بہت گرجتے برستے رہے ، اعلیٰ سرکاری عہدیدار اور حکومتی اکابرین اُن کی عدالت میںلرزتے کانپتے پیش ہوتے رہے، کئی زور آور ان کے سامنے ناک رگڑتے دکھائی دیتے رہے لیکن عزت مآب  چیف جسٹس جناب افتخار چودھری انجامِ کار ارسلان کے ابو کے روپ میں سامنے آئے تو ان کا سارا رعب دبدبہ اور انصاف پسندی دھری کی دھری رہ گئی۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ گرجنے برسنے اور چیف تیرے جانثار ، بے شمار بے شمار کے نعروں کی گونج میں سرشار رہنے والے جسٹس افتخار محمد چودھری اپنے منصب سے فارغ ہوئے تو ان سے ذاتی طور پر فائدہ اُٹھانے والے گنتی کے افراد کے سوا آج ان کا کوئی نام لینے کا بھی روادار نہیں ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے حوالے سے تفصیل کچھ طویل ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کا دور ایسا ہے کہ پھر افتخار محمد چودھری کے دور والا رنگ اختیار کیا گیا اور جسٹس ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان بابا رحمتے کا کردار ادا کرنا شروع کیا تو کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ جو من کو بھایا اس کو اپنے فیصلوں کی شکل میں لاگو کرتے رہے۔ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے کا مشغلہ اس طرح شروع کیا کہ اسے مذاق بنا کر رکھ دیا۔ ریٹائرڈ ہوئے تو لاہور میں گمنامی کے ایام اس انداز سے گزار رہے ہیں کہ کوئی ان کا نام لینے کے لیے تیار نہیں۔ یہی کچھ انجام ان کے بعد آنے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا ہوا ہے۔ وہ اپنے فیصلوں  میں انگریزی ادب کی سسلین مافیاز جیسی تشبیہات اور استعارے تواستعمال کرتے رہے لیکن اپنے نام کے ساتھ کوئی ارفع  و اعلیٰ عدالتی اقدار و روایات وابستہ نہ کر سکے۔ ان کے مقابلے میں ان کے بھائی ناصر سعید کھوسہ جو سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو ئے زیادہ ادب و احترام کے قابل گردانے جاتے ہیں۔
عدلیہ کی ماضی قریب کی ان مثالوں کو چھوڑ کر زمانہ حال کی طرف آتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال یقینا آئین و قانون کے ماہر نیک نام جج سمجھے جاتے ہیں ۔ میرے دل میں اُن کا بڑا احترام ہے لیکن سچی بات ہے حالیہ ہفتوں میں ان کے عدالتی فیصلوں ، اُن کے مجموعی رویے اور اس کے ساتھ مختلف اوقات میں ان کی طرف سے دیئے گئے ایک دوسرے کے متضاد ریمارکس سے یقینا ان کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ آئین کی دفعہ 63-Aکے صدارتی ریفرنس کی تشریح  میں سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان اسمبلی کو ووٹ کا حق حاصل ہے تو ان کے ووٹ گنتی میں بھی شمار ہونگے۔ ان کی سربراہی میں 3-2کی اکثریت میں 63-Aکی تشریح کا فیصلہ آیا تو انھوں نے اس پر صاد کیا کہ جہاں منحرف ارکان کے ووٹ شمارنہیں ہونگے وہاں ان کو اسمبلی کی سیٹ سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ اس اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے ان کے براد ر ججز نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ آئین کی دفعہ 63-Aکی تشریح کے بارے میں دیا جانے والا یہ فیصلہ آئین کی اس دفعہ کو نئے سرے سے لکھنے کے مترادف ہے۔
بات طویل ہو رہی ہے کہنے کا مطلب ہے جب ہم ضد، جانبداری اور ذاتی پسند و ناپسند کو سامنے رکھ کر ایک موقف اپنا لیتے ہیں اور اسی کے مطابق فیصلے بھی کرتے ہیں تو پھر انجام ِ کار سبکی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.