دلچسپ تحقیقات

18

دوستو،اخبارات میں اکثر ٹیشن دینے والی خبریں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔۔ لیکن ہم آپ کے لئے کچھ ایسی خبریں بھی کھوج نکالتے ہیں جنہیں پڑھ کر نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوسکے بلکہ آپ دوسروں کو بھی بتاسکیں۔۔ ایسی خبریں اخبارات میں عام طور پر نظر نہیں آتیں۔۔ اس کے لئے تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ہم آپ کو پکی پکائی دینے کیلئے بیٹھے ہیں۔۔چنانچہ آپ بے فکر رہیں، آئندہ بھی آپ کو اسی طرح کی دلچسپ خبریں اور تحقیقات شیئر ضرور کیا کریں گے۔۔
اکثر گھروں میں موجود یو پی ایس کی بیٹری سال میں کم از کم ایک بار ضرور تبدیل کرنا پڑتی ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والا پانی بیٹری کی عمر بڑھا سکتا ہے۔اے سی سے نکلنے والا پانی اتنا صاف ستھرا ہوتا ہے کہ اسے یو پی ایس بیٹری کے لیے بہترین دوا تک قرار دیا جاتا ہے۔ کراچی میں بیٹریوں کی فروخت اور مرمت سے وابستہ کئی دکاندار ایئرکنڈیشنر کے پانی کو باقاعدگی سے خرید کر استعمال بھی کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایئر کنڈیشنر کا پانی استعمال کرنے پر بیٹری اپنی اوسط عمر سے تقریباً دو یا تین ماہ تک زیادہ کام کرتی ہے، چاہے وہ یو پی ایس میں نصب ہو یا پھر کسی گاڑی میں لگی ہو۔یہ پانی دراصل ہوا میں موجود آبی بخارات کے ٹھنڈا ہو کر مائع حالت میں تبدیل ہونے کی وجہ سے بنتا ہے اور اسی بنا پر بہت خالص بھی ہوتا ہے۔ اگر اسے احتیاط سے جمع کرلیا جائے تو یہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے موٹاپے اور روشنی کے درمیان ایک دلچسپ تعلق دریافت کر لیا۔ سائنسدانوں نے اس نئی تحقیق کے بعد لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ موٹاپے سے بچنا اور سلم سمارٹ رہنا چاہتے ہیں تو سونے سے قبل اپنا فون، ٹی وی اور تمام بتیاں بند کر دیں اور ماسک پہن کر سویا کریں کیونکہ زیادہ روشنی سے سامنا آپ کو موٹاپے کا شکار کر سکتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ بالخصوص نیند سے قبل اور نیند کے دوران جو لوگ روشنی کی زد میں رہتے ہیں ان کے موٹاپے کا شکار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیقاتی سروے میں معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ سونے سے قبل روشنی کی زد میں رہتے ہیں ان میں سے 40.7فیصد موٹاپے کا شکار تھے۔ اس کے برعکس جس گروپ کے لوگ سونے سے قبل روشنی کی زد میں نہیں رہتے تھے ان میں موٹاپے کی شرح
صرف 26.7فیصد پائی گئی۔یہ تحقیق امریکی ریاست الینوائس کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین کی طرف سے کی گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھاکہ موٹاپے اور روشنی کے اس تعلق میں نیند سے پہلے کے پانچ گھنٹے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں ہمیں بالخصوص کسی بھی طرح کی سکرین کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور حتیٰ الامکان دیگر مصنوعی روشنی سے بھی بچنا چاہیے۔
غیر منافع بخش عالمی ٹوائلٹ آرگنائزیشن کے مطابق، لوگ روزانہ اوسطاً چھ سے آٹھ بار ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تقریباً تین سال باتھ روم میں گزار تے ہیں۔ چین میں مقیم ایک دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر نے اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اکثر خواتین کو جاپان میں خواتین کے بیت الخلاء کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے دیکھتے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ اگر عورتوں کے بیت الخلاء کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تین گنا ہو تو یہ برابر ہو گا۔ ایک چینی برانڈ سٹور کے انٹیریئر ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ وہ جو سٹورز ڈیزائن کرتے ہیں ان میں مردوں کے بیت الخلاء کے مقابلے میں خواتین کے کیوبیکلز تقریباً دو زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں ہمیشہ شاپنگ مالز میں گھومتے ہوئے خواتین کے بیت الخلا کے قریب لمبی لائنیں دیکھتا ہوں۔ اس کے علاوہ، خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ وقت لگتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین اوسطاً 249 سیکنڈ کے لیے بیت الخلا استعمال کرتی ہیں، جو مردوں کے 170 سیکنڈز سے کہیں زیادہ ہے۔۔ سینٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ منصوبہ بندی کرتے وقت خواتین کی حیاتیاتی ضروریات کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ خواتین کیوبیکلز کو شامل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ کچھ بڑے پیمانے پر اجتماعی جگہوں جیسے کہ پارکس اور تھیٹر میں، بیت الخلا جانے والے مردوں اور عورتوں کا تناسب تقریباً 1 سے 4 ہے۔
جینز ایک مقبول ترین پہناوا ہے جو صدیوں سے مغرب میں پہنا جا رہا تھا اور اب پوری دنیا میں اسے پسند کیا جاتا ہے۔ جینز کی جیبوں کے کناروں پردھاتی اسٹڈ (Stud)لگے ہوتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان اسٹڈز کو کہتے کیا ہیںاور ان کا مصرف کیا ہے؟ ایک یورپی اخبار کے مطابق ان اسٹڈز کو ’Rivets‘ کہا جاتا ہے جن کا ایک اہم مصرف ہے۔ یہ اسٹڈز 1873میں گلوبل جین کمپنی لیوی سٹراس اینڈ کمپنی کے بانیان جیکب ڈیویس اور لیوی سٹراس نے ایجاد کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق یہ سٹڈز جینز پر تمام ایسی جگہوں پر لگائے جاتے ہیں جہاں دباؤ پڑتا ہے اوران کے پھٹنے یا ادھڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جیسا کہ جیبیں۔ جب ہم جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان کے دونوں کناروں پر دباؤ پڑتا ہے اوران کی سلائی ادھڑنے کا خدشہ ہوتا ہے چنانچہ ایسی جگہوں پر جیکب اور لیوی نے یہ ا سٹڈز لگانے شروع کیے تھے تاکہ جینز کی جیبیں اور دیگر ایسی جگہیں مضبوط رہیں۔رپورٹ کے مطابق انRivetsکا حق سند ایجاد لیوی سٹراس اینڈ کمپنی کے پاس ہے، جس کا ذکر انہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر بھی کر رکھا ہے۔
امریکا میں لوگوں کی کاروں کے شیشے توڑ کر قیمتی اشیا لے جانے کی وارداتیں بڑھنے پر عوام نے ایک دلچسپ نسخہ آزمایا ہے۔ پارکنگ میں وہ اب گاڑیوں کے دروازے لاک کرنے کے بجائے انہیں کھلا چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے نقب زنوں کو یہ پیغام پہنچتا ہے کہ کار میں کوئی قیمتی شے نہیں جس کے لیے تکلف کیا جائے۔ ورنہ اس سے قبل بند گاڑیوں کے شیشے توڑ کر چور اندر جھانکتے ہیں اور بسا اوقات کچھ نہ ملنے کی صورت میں بھی شیشے کا نقصان ضرور ہوجاتا ہے۔سان فرانسسکو، آک لینڈ اور بے ایریا کے رہائشی افراد اس پریشانی سے بچنے کے لیے اپنی گاڑیاں پارک کرتے وقت ڈکی کھول دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اندر موجود قیمتی سامان سمیٹ کر لے جاتے ہیں۔ اس طرح کھلی گاڑیوں کا مطلب چوروں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اندر کچھ بھی نہیں اور کار میں گھسنا بے کار ہوگا۔ تاہم بعض افراد نے اسے عوامی بے بسی قرار دیا ہے کہ لوگ اپنی کاروں کے دروازوں پر لگے قیمتی شیشوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے یہ اہم قدم اٹھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔تاہم پولیس نے عوام کو ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق چور اسے دعوت نامہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔پولیس کے مطابق چور کچھ نہ پاکر ٹائر، بیٹری اور اندر لگے ساؤنڈ سسٹم کو چراسکتے ہیں۔ سان فرانسسکو اور ملحق علاقوں میں شیشہ توڑ چوری کی وارداتوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔کسی کو اندر سے مارنا ہوتو اسے نظرانداز کرتے رہو، کورونا کو ہم نے ایسے ہی مارا ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

تبصرے بند ہیں.