’’مسلم لیگ ن کے لئے مشورے…‘‘

21

مسلم لیگ ن کے اس ادھورے ظہور نے پارٹی کا مکمل زوال کر دیا ہے کم از کم آمد سے قبل شیر کا نام اور گزشتہ طویل عہد حکومت اس امر کا غماز تو تھا ہی کہ طرزِ حکمرانی کیسا ہی ہو عہد طویل کیا جا سکتا ہے اس پر تحریک انصاف کی نوآموز حکومت جب اپنی گفتار اور انتقامی اسیریوں کو دوہرادوہرا کر ’’دوہری‘‘ ہو گئی تو مسلم لیگ ن کے شہباز شریف ’’مرد‘‘ کو آگے بڑھے۔ پونے چار برس کی صفر کارکردگی وعدوں کی موت کا طویل ہوتا عہد بجلی لوڈشیڈنگ، مہنگائی عروج کو پہنچ ہی رہے تھے یہاں تک کہ ’’بیانیہ‘‘ بنانے کو بھی تحریک انصاف کے پاس کچھ نہ بچا۔ نیب ریفرنس، عدالتی کارروائی عدم ثبوت اور تمام لیڈروں بشمول عورتوں کو بھی قید کر کے مزید ڈگڈگی بجانے کے لئے ’’ ککھ‘‘ نہ رہ گیا تو چھوٹے میاں صاحب انتہائی بے توقیر انداز میں شیروانی پہنے اسمبلی پہنچ گئے۔ ایک ایسا دن کہ ڈپٹی سپیکر کہہ رہا میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ اس اسمبلی کی کارروائی کروں، پوری اسمبلی خالی ہو گئی۔ کوئی بھی عام سا غیرت مند پاکستانی ہوتا تو ایسے تذلیل آمیز سلوک پر لات مار کر نکل جاتا مگر نہ جانے مقدموں کا خوف تھا یا اسیری کا ڈر جو ایسی دستار میاں شہباز شریف نے سر پر رکھ لی۔
یہ تاج رکھ تو لیا سر پہ ’’تیرے‘‘ کہنے سے
اس اختیار میں جو بے بسی ہے اس کا کیا
مجھے ہمیشہ ٹرینوں کی سیدھی ٹکر، کھلاڑیوں کا براہ راست ٹکرا جانا اور منہ پر لڑ پڑنا پسند ہے کبھی چوہوں کی طرح کُتر کُتر کر سازشیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔ موصوف کو یہ تو پتہ ہی تھا ایسی مانگے تانگے کی حکومت مولانا فضل الرحمن کی سربراہی اور زرداری کے ’’برین‘‘ سے چلنے والی ٹرین کا کوئی بھی ڈبہ دوسرے ڈبے سے میل نہیں کھاتا کب تک پٹڑی پر چل سکے گی، کبھی اس کا پنجاب والا پہیہ لُڑھکے گا کبھی وفاق کی لگام چھوٹے گی ایسا شخص جو کئی گھروں کا ’’پروہنا‘‘ ہو ہمیشہ بھوکا رہ جاتا ہے۔
کچھ نہیں تو ملکی تاریخ کی دو ہی دو تہائی اکثریت والی حکومتیں یاد کر لی جاتیں جو نوازشریف، بے نظیر کو ملیں، پوری فیصلہ سازی کے حق کے ساتھ یہ الگ کہ وہ بھی ایک آنکھ نہ بھائیں اور توڑ دی گئیں۔ بقول ’’لولی لنگڑی‘‘ حکومتیں کن کو سُوٹ کرتی ہیں، کیا جُبہ دستار ایسی ہی ضروری ہے کہ پورا ملک چور چور کر رہا ہو اور آپ لوگ ساز باز کر کے اپنی پچھلی ساکھ کو ’’تیلی‘‘ لگا کے چار دن کے ’’غلام سقہ‘‘ بن جائیں۔
یہ درست ہے کہ آپ اور آپ کے صاحبزادے کی باری آنی مشکل تھی۔ نوازشریف کی ضدی طبیعت نے پہلے تمام احباب گنوائے، جاوید ہاشمی، پرویز الٰہی، شجاعت حسین، چودھری نثار، بعد ازاں اپنی بیٹی مریم نوازشریف کو پارٹی سپرد کرنے کی خواہش نے شہباز شریف مع صاحبزادے کو ایسا گھاٹے کا سودا کرنے پر اکسایا…
یہ تحریر افسوس اور تکلیف کے احساس سے لکھنی پڑ رہی ہے کہ مسلم لیگ کے اکابرین نے کیا نہیں دیکھا ہوا تھا، مکمل حکومت تعمیراتی کام، سی پیک، عالمی معاہدے، بڑا بھائی وزیراعظم، چھوٹا پنجاب کا وزیراعلیٰ… پھر ایسی بھوک کیوں، ایسے جیسے کبھی کونسلری بھی نہ ملی ہو۔ چودہ جماعتوں میں بٹے ہوئے اور ایک منتخب حکومت کے عہد سے چھنی ہوئی حکومت اتنا چھوٹا سا مہرہ بن کر آپ نے مسلم لیگ ن کو کس قصر مذلت میں ڈال دیا۔
میں یہ مانتی ہوں کہ سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال ہوتے ہیں مگر وہ ان کے اپنے ہی ایکشن کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر میں زوال یا شکست کی طرف پارٹی اگر جا رہی ہو تو عوام سے مظلومیت کا ووٹ لیتی ہے۔ موجودہ کمزور ترین حکومت نے مظلومیت کا بھی سارا ووٹ تحریک انصاف کے بیلٹ باکس میں ڈال دیا۔
تحریک انصاف کی حکومت پر الزام تھا کہ پونے چار سال کارکردگی صفر رہی۔ آپ نے تجربہ کاری کو داغ لگوا کر یہ الزام اپنے سر لے لیا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی بابت بھی معلوم تھا وہ تمام سخت فیصلے جناب شہباز شریف نے کہا کہ ہم کرتے ہیں۔ دو روپے پٹرول کی قیمت بڑھنے پر طوفان اٹھا دینے والی قوم کو سو روپے سے زیادہ ایک دم بڑھا دیئے کہ خان کے کئے معاہدوں کا آپ کو اتنا پاس تھا، بہانہ یہ کہ یہ سب زرداری کروا گیا۔ کھربوں کا کاروبار (اور لوگ تو کرپشن بھی کہتے ہیں) کرنے والے کیسے اتنے بھولے ہو سکتے ہیں؟
تابوت میں آخری کیل حمزہ کے ذریعے لگانے کی کوشش کی گئی۔ حمزہ نے مسلم لیگی انخلاء یا ہجرت جو بھی کہئے، کے بعد لمبی اسیری، یرغمالی اور صعوبتیں اٹھائیں، اس کا صلہ کسی ڈھنگ کے طریقے سے ہونا چاہئے تھا۔ کم اراکین یا لوٹے ملا کر پنجاب حکومت بنانی چاہی، عمران خان جسے کہتے ہیں سیاست نہیں آئی، اس نے آپ ہی کا امیدوار آپ کے سامنے کھڑا کر کے وزیراعلیٰ بنوا لیا۔ کیا کہتے ہیں یہ سیاست نہیں؟ کیا یہ سیاست خان کی سیاست کے سامنے ناکام نہیں ہوئی۔ جس میں رات کے اندھیرے میں چودھری شجاعت سے خط لکھوایا گیا۔ پرویز الٰہی کو آخر تک پی ایم ایل این کاوزیراعلیٰ بنانے کی آفریں ہوئیں…
اور کتنا disgrace کریں گے پی ایم ایل این چھوڑیں اور انتخابات کا اعلان کریں اور ذہن میں رکھیں پہلے ہی سے کہ جن پوائنٹ پر تحریک انصاف کو ہارنا تھا وہ اب سارے آپ کے کھاتے میں لکھے جا چکے ہیں… پہلے ہی سے شکست کے لئے تیار رہیں۔ ملک جس حد تک معاشی بدحالی کا شکار ہو چکا ہے اسے مفتاح کی مکروہ مسکراہٹ اور آپ کی بی اے پاس فراست درست نہیں کر سکتی۔
یہ بھی طے ہے کہ تحریک انصاف آ بھی گئی تو صرف باتیں بناتی رہے گی کہ وہ بالکل ہی نابلد ہیں۔ یہ بھی مسلم لیگ ن ذہن میں رکھے کہ میاں نوازشریف کو جو معاہدے کر کے لانے کی کاوشیں ہیں تو لیڈری ایسے نہیں ہوتی۔ شیر کی کچھاڑ میں ہاتھ ڈالنا پڑتا ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے عمر اور بیماری کے آزاء ان کے زرداری سے زیادہ نہیں مگر ڈاکٹر اپنے کلینک پر بیٹھتا ہے، افسر دفتر میں، ٹیچر سکول میں، قصائی دکان پر، فوج بیرکوں میں اور سیاست دان وطن میں۔
نوازشریف وطن واپس آئیں جو قید، مقدمے، سیاپے ہیں جھیلیں، اس کے علاوہ مریم نواز کے لئے جگہ نہیں بنے گی۔ ابھی تک ان کی سیاست سے شہباز شریف فیض یاب ہوئے ہیں۔ بیٹوں کو دلچسپی نہیں، اگر مریم نواز کو پارٹی حوالے کرنی ہے تو قربانی کی بھٹی سے گزرنا ہو گا۔ یہ نہیں ہو گا ’’رہنا لندن تے حکومتاں لکشمی چوک‘‘ اور یہ اسرار بھی نہیں یہ بندے کی چوائس۔ آرام کرنا چاہتے ہیں تو پارٹی کو یکجائی کے لئے ایک نام دے دیں کہ شہباز شریف کا ویژن بھی عمران خان کے ویژن سے زیادہ نہیں نکلا۔ وہ پنجاب کی حد تک تو ٹھیک تھے مگر ہیلی کاپٹر پر اب ان کی ’’پھرتیاں‘‘ قابل دید نہیں۔
مریم نواز اپنے تجربے، عمر، تقریر ادائیگی کے لحاظ سے لگتا ہے اگلے دس برس بعد کسی بڑے عہدے کے قابل ہو جائیں گی، اگر وہ تکلیفیں، مقدمے، کٹھنائیاں برداشت کرنے کے علاوہ تمام ہونے والی ملکی سازشوں کا سہرا نوازشریف کے سر نہ سجایا کریں۔ ادھر بلاول اسی حکومتی سازش کا کریڈٹ بلاول ہائوس کو دے رہے ہوتے ہیں۔ سازش کو ہمیشہ Condemn کنڈیم ہی کرنا چاہئے۔ مجھے معلوم ہے مریم نواز اس لولی لنگڑی حکومت کے حق میں نہیں تھیں اور انہوں نے گزشتہ جلسوں میں پارٹی سے یکجہتی کے لئے اپنے ذاتی تشخص اور رائے کی قربانی دی کہ اپنے غلط بھی ہوں تو ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے مگر ان کی ساری محنت ڈیڈ باڈیز پر ضائع ہو رہی ہے اور سب سے بڑی بات کہ اتنی بڑی اسلامی تشخص کی حامل جماعت سے ایک دبنگ خاتون آئی تھی تو پارٹی کی انفرادی حیثیت اسے موقع پر ختم نہیں ہونی چاہئے تھی۔ مریم نواز بھلے رفتار ہلکی ہو پارٹی کو واپس دائرے میں لے کر آئیں…

تبصرے بند ہیں.