سیاست، ڈالر اور اداروں کا ناگزیر فعال کردار

68

جناب کاظم عالم ایک مئوقر انگریزی روزنامہ سے منسلک ہیں، ان کی تحقیقاتی رپورٹس باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسی انگریزی اخبار کے کاروباری صفحے پر ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں مختلف ماہرین معیشت کے تاثرات بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کس طرح ڈالر کی قدر میں اضافے سے خدمات کے شعبے میں ملازمت کرنے والوں کو معاشی طورپر متاثر کیا ہے۔  1996ء میں جب ایک امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 34 روپے کا تھا تو خدمات کے شعبے میں ایک نئے گریجویٹ کی تنخواہ 12 ہزار روپے تھی۔ آج 2022 ء میں ایک  نئے گریجویٹ کی تنخواہ تقریبا 50,000 ہے جب کہ ڈالر کی قدر 228 روپے سے زائد ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نئے گریجویٹ کی تنخواہ 350 ڈالر سے کم ہوکر 220 ڈالر ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’صنعت بڑھتی ہوئی لاگت کو صارفین تک پہنچانے کے ساتھ، خدمات کے شعبے کے مقابلے میں شرح مبادلہ کے اتار چڑھائو سے زیادہ محفوظ ہے‘‘۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ صنعتی مصنوعات کو صارفین تک پہنچانے کے لیے ڈسٹری بیوٹر اور ریٹیل نیٹ ورک کو اختیا ر کیا جاتا ہے ، جو بادی النظر میں خدمات کے شعبے میں شمار کیا جاتا ہے۔ 
 برسبیلِ تذکرہ یہ عرض کرتا چلوں کہ جس طرح ڈالر کی قدر نے پیٹرول، بجلی کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کو متاثر کیا ہے، اس کے سبب ڈسٹری بیوٹر اور ریٹیلرز کے اخراجات کی شرح میں تقریباََ 40فیصداضافہ واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ ماہرین نے بتایا کہ صنعت کار تو لاگت میں اضافے کو صارفین تک منتقل کردیتا ہے، مگر ڈیلروں اور ریٹیلرز کا کمیشن وہ پُرانا چلا آرہا ہے۔اس کا حل تاجروں نے یہ نکالا کہ مال کو سٹاک کرنا شروع کردیا ، تاکہ پرانے نرخوں پر خریدا مال نئے اور مہنگے نرخوں پر آئے دن کی بڑھتی قیمتوں سے نفع کے نقصان کو پورا کیا جاسکے، اور اس کا خمیازہ عوام بھگتیں۔ 
کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی وجہ ڈالر کی اونچی اُڑان ہے، کہ لگژری اشیاء کے علاوہ انتہائی بنیادی ضرورت کی بھی اہم اشیاء مثلاً پیٹرول، ادویات اور دالوں کی درآمدات سے درآمدی بل بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میںمقامی مارکیٹ میں ڈالر کی کمی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹر حضرات کی ایک بڑی تعداد انڈرانوائسنگ کرنے کے لیے بھی مقامی مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اپنے کاروباری ’’ہنر‘‘ کا مظاہرہ کرکے مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کا سبب بنتی ہے۔ 
کاظم عالم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کا مقابلہ کیسے کریں؟ اور اس کے اثراتِ بد سے بچنے کے لیے ماہرین ایک تجویز تو یہ 
دیتے ہیں کہ گھر سے کام کرنے ، کار پولنگ(Car Pooling)اور گھروں میں بجلی کے آلات کا سمجھداری اور کفایت سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایسے لوگ جو اپنی بچتیں مختلف پروجیکٹس میں لگاتے ہیں اور ڈالر اور سونے کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہو کر اپنی زندگی بھر کی کمائی محفوظ پروجیکٹس اور سکیموں سے نکال کر ڈالر اور سونا خرید رہے ہیں،اُن کے لیے ماہرین کی تجویز ہے کہ اپنی بچت کو ڈالر اور سونے کی خرید نے میں نہ لگائیں کہ ماضی میں ایسا بھی ہوا ہے کہ افراطِ زر نے ڈالر اور سونے کی قیمتوں میں اضافے کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی تجویز کرتے ہیں کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بچنے کے لئے پیٹرول اور بجلی کی کھپت میں کمی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔  مگر اس عمل کو انفرادی سطح پر کرنے کی بجائے قومی سطح پر اختیار کیا جانا چاہیے، مثلاً تجارتی مراکز کی جلد بندش وغیرہ۔درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے شبرزیدی طویل مدتی منصوبہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک تو ایسے بڑے کاروباری گروپوں کو چاہیے کہ ایکسپورٹ میں اضافے پر توجہ دیں، اور ایسے شعبوں کو بھی تقویت دیں جن کا انحصار درآمدی خام مال پر بالکل نہ ہو یا اگر ہو بھی تو انتہائی کم، شبر زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ہی وہ طریقہ ہے جس سے ڈالر کے اخراج کی رفتار کم ہوگی اور روپے کی گراوٹ جو عوام کی زندگیوں کو مہنگائی سے اجیرن بنا رہی ہے ، کم ہوگی۔دوسری تجویز یہ تھی کہ بینکنگ اور پانی فروخت کرنے والے کاروبار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو کم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈائرکٹ فارن انوسٹمنٹ (FDI) ہی ہے جو ہر سال اپنا منافع اور وہ بھی ڈالر کی شکل میں واپس بھیجتے ہیں ۔دیگر ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ ایف ڈی آئی ملک کے لیے زیادہ نقصان دہ رہی ہے۔ ایف ڈی آئی ٹیلی کمیونیکیشن، بینکنگ، پیکڈ فوڈ، دودھ، سافٹ ڈرنکس اور ٹوائلٹریز کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتی ہے، یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں مقامی مارکیٹ میں اپنی روپے کی آمدن کو ڈالر میں تبدیل کرتی ہیں اور قیمتی زرِ مبادلہ منافع کی شکل میں اپنے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھیجتی ہیں۔ 
 مندرجہ بالا تمام تجاویز اپنی جگہ پر اِن تجاویز کو عملی جامہ کون پہنائے گا؟ یہ اقتدار کے بھوکے سیاستدان؟ گزشتہ دس روز سے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں نے کس طرح اپنے اپنے ممبران اسمبلی کو  لاہور  کے پنج ستارہ ہوٹلوں میں محبوس رکھا۔ پھر اسمبلی اور اس کے فیصلے کے نتیجے میں عدالتی کارروائی کیا ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہم پر  اقتدار اور اختیار کے پجاری مسلط ہیں۔ 
ہمارے وہ ادارے جو ملک میں معاشی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں یہ اُن کا فرض ہے کہ وہ ملک میں سرمایہ داروں اور تاجروں کی بے پناہ منافع کی حِرص کے آگے بند باندھیں۔  ان اداروں کو ملک میں سیاسی عدم استحکام سے کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بجلی، گیس، ٹیلیفون کے بلز ملک میں کچھ بھی ہو ’’باقاعدگی‘‘ سے بھیجے جاتے ہیں، اسی طرح اداروں کو بھی ملک میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے متاثر ہوئے بغیر ملک اور عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دینی چاہئے۔
دیکھا یہ جانا چاہیے کہ ایک صنعت کار، اور تاجر کے کاروبار کو ڈالر کی قیمت کس حد تک متاثر کرتی ہے اور مارکیٹ میں اس  صنعت کار اور تاجر نے کیا ڈالر کے اثر کا اُتنا ہی تناسب اپنی فی یونٹ پرائس میں شامل کیا ہے یا اس سے کہیں زیادہ؟۔اسی طرح دالیں، چاول سمیت دیگر اجناس ، گھی، گوشت ، سبزی اور پھلوں کی  بازاری قیمتوں کی مئوثر نگرانی کی اشد ضرورت ہے۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے مجھے یہ یقین ہے کہ اگر ہمارے ادارے ملک میں قیمتوں کی مئوثر انداز میں نگرانی کریں تو بڑی حد تک مہنگائی کوروکا جاسکتا ہے۔ 
اگر یہ ادارے بھی اپنا کردار ادا نہ کرسکے تو پھر ہم ظہیر کاشمیری مرحوم کے اس مصرعے کی عملی تعبیر کے منتظر رہیں گے کہ: 
موسم بدلا رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے

تبصرے بند ہیں.