گلی بند ہو چکی ہے؟

7

ہمارے قومی سیاسی معاملات کدھر جا رہے ہیں؟ سیاسی کشمکش کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اتحادی صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد مرکز میں شہباز شریف اتحادی حکومت کا کیا بنے گا؟ یہ باتیں اب شاید بے معنی نظر آ رہی ہیں، ن لیگ اور اس کے اتحادی سیاسی جنگ ہار چکے ہیں۔ 9/10- اپریل کی رات عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی نے ان کی سیاست کو زندہ کر دیا ہے۔ اس بارے میں دو آراء ہرگز نہیں پائی جاتی ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت چلانے میں ناکام رہی۔ اپنے 44 ماہی دورِ حکمرانی میں حکمران جماعت نے نالائقی، نااہلی کے ریکارڈ قائم کئے، پنجاب جیسے بڑے صوبے پر بزدار جیسے وسیم اکرم پلس کو مسلط رکھ کر نااہلی و ناکردگی کے ریکارڈ قائم کئے۔ عمران خان نے میرٹ کا بھی ستیاناس کیا۔ کرپشن کی پشت پناہی بھی کی اور اس میں اپنے ہاتھ بھی رنگے۔ بنیادی طور پر وہ ایک ناکام اور نااہل حکمران ثابت ہوئے۔ اس میں معاشی شعبے کی مینجمنٹ بھی نہ کر سکے۔ قرض پر قرض لیتے گئے۔ ان کی حکومت کی عوامی پذیرائی میں انتہائی گراوٹ آ گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق کارکردگی کے اعتبار سے عمران خان حکومت انتہائی نامقبول ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کے متلون رویوں نے ان کے سرپرستوں کو بھی ناراض کر دیا تھا۔ آئی ایس آئی چیف کی ٹرانسفر/ تعیناتی کے مسئلہ پر معاملات میں بگاڑ اپنے عروج پر جا پہنچا۔ سیاسی میدان میں بھی عمران خان کی کارکردگی پست رہی۔ اتحادی بھی ان سے ناراض ہی رہے یہی وجہ ہے کہ عمرانی حکومت جو اتحادیوں کے سہارے کھڑی تھی، اتحادیوں کے الگ ہونے کے باعث، اسمبلی میں عددی اکثریت کھو بیٹھی 9/10 اپریل کی رات ایوان میں جو کچھ ہوا وہ اب تاریخ ہے۔
اپوزیشن کے عمران خان حکومت گرانے اور شہباز شریف کی قیادت میں حکومت بنانے کے فیصلے کے بارے میں ماہرین و تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ عمران خان اپنی عوامی پذیرائی کھو چکے تھے۔ ان کی اپنی صفوں میں افتراق و انتشار پایا جا رہا تھا۔ 2023 میں ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی محل نظر تھی کسی نے بھی اپوزیشن کے عمران خان حکومت گرا کر حکومت بنانے کے اقدام کو نہیں سراہا۔ شہباز شریف اور اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی سیاسی ساکھ کی بنیاد پر، ملک کو بچانے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد میں کیا۔ مسلم لیگ کے حامی ماہرین کا کہنا تھا کہ شہباز شریف حکومت کی کارکردگی، 
شاندار کارکردگی 2023 کے عام انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ گزرے تین ماہ کے دوران حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے اور 2019 میں کئے گئے معاہدے کے مطابق 1 ارب 17 کروڑ کی قسط کے اجرا کی کامیاب کاوشیں کیں۔ آئی ایم ایف کی پہلے سے طے کردہ شرائط پر عمل درآمد کرنے کے مشن پر چل نکلے۔ شہباز شریف حکومت نے آئی ایم ایف کو منانے کے مشن پر عمل کرتے ہوئے عوام کا بھرکس نکال دیا۔ ڈالر کی اڑان اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ ساتھ اشیاء خورونوش اور عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے معاملات کو عوام کے لئے اجیرن بنا دیا ہے۔ قومی معیشت گو گہری کھائی میں گرنے کے لئے تیار کھڑی نظر آ رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی پست سطح تک گر چکے ہیں۔ تین ماہ تک کی درآمدات کو سپورٹ کرنے کے لئے ہمارے پاس ڈالر نہیں ہیں۔ ہمارے دوست ممالک نے ہمیں جو کچھ دینے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے کے ساتھ مشروط ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کوئی نیا معاہدہ کرنے نہیں جا رہی ہے بلکہ پہلے سے طے کردہ معاہدے کے مطابق اگلی قسط حاصل کرنے کے لئے پاپڑ بیلے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے بھی حکومت سے ناک کی لکیریں نکلوائی ہیں، عوام مکمل طور پر تباہی اور بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ عام شہری کے لئے دو وقت کی روٹی تو دور کی بات ہے ایک وقت کی روٹی کا حصول ہی عذاب جان بن چکا ہے۔ عوام کی ناپسندیدگی اور ن لیگی قیادت کے خلاف غم و غصہ 20 نشستوں پر حالیہ ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ 20 میں سے 16 نشستوں پر لیگی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شکست پنجاب میں لیگی اتحادی حکومت کے خاتمے کا پیام بن گئی ہے۔ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کھو چکے ہیں اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ بھی نہیں رہے۔
آصف علی زرداری نے چودھری شجاعت حسین کی طرف سے ڈپٹی سپیکر کو پیش کئے جانے والے خط کی بنیاد پر ق لیگی ووٹوں کو مسترد کرا کے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کو ’’رن آف‘‘ میں فاتح بنایا۔ ق لیگ کے چودھری پرویز الٰہی سپریم کورٹ میں چلے گئے۔ سیاسی بحران مزید وسیع ہو گیاہے۔ عدالت فریق بنتی نظر آنے لگی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیا ہے۔ ن لیگ داخلی سیاسی بحران کا بھی شکار نظر آ رہی ہے۔ نوازشریف کا بیانیہ ایک طاقتور بیانیہ ہے۔ عدالت کے ہاتھوں شکست کھانے اور سزا پانے کے بعد نوازشریف نے جو بیانیہ اختیار کیا اس نے ان کی عوامی پذیرائی میں اضافہ کیا۔ جمہوریت کے حوالے سے یکسوئی پیدا ہوئی۔ فوجی جرنیلوں کی سیاسی عمل میں مداخلت کو چیلنج کیا گیا کسی سیاستدان نے پہلی مرتبہ کسی حاضر سروس جرنیل کا نام لے کر اسے موردالزام ٹھہرایا۔ اس طرح قوم کی سیاسی تربیت ہوئی ویسے اپنی طرز کی سیاسی تربیت پہلے سے ہی کر رہے ہیں دشنام اور میں نہ مانوں کی تربیت کے ذریعے انہوں نے پڑھے لکھے نوجوان خواتین و حضرات کا ایک فین کلب قائم کر رکھا ہے۔ 9/10 اپریل اسمبلی میں شکست کھانے کے بعد وہ ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔ انہوں نے اتحادی حکومتوں کو امن و چین کا سانس نہیں لینے دیا۔ شہباز شریف کی کارکردگی کی تاریخ کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے۔ ن لیگ بیانیے کے تضاد کا شکار نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کا بیانیہ (جو بھی ہے) سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ معیشت کو ٹھیک کرنے کے مشن پر حکومت میں آنے والے ابھی تک ناکام نظر آ رہے ہیں۔ سیاست کے بعد معیشت کا بھی بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ پاکستان کے ڈیفالٹ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اتحادیوں کو لانے والے نجانے کہاں کھو چکے ہیں۔ اتحادیوں کی سیاست کی نیّا بیچ منجدھار پھنسی ہوئی ہے اور شاید ہی کبھی بھی ساحل تک پہنچ پائے گی۔ قومی سیاست کی طرح قومی سیادت بھی دگرگوں ہو چکی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’اب کیا ہو گا‘‘ سیاسی انارکی اور معاشی افراتفری کے بعد عام طور پر فتنہ و فساد ہی ہوتا ہے۔ عمران خان اس کام کے لئے مکمل طور پر تیار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے فین کلب کو ذہنی طور پر اس کام کے لئے تیار کر لیا ہے۔ عدالتی بائیکاٹ کے بعد اتحادی بھی اسی صف میں کھڑے نظر آنے لگے ہیں۔ معیشت بھاڑ میں پہلے ہی جا چکی ہے۔ فوری عام انتخابات کا مطالبہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو معاملات سدھرنے کی ہرگز امید نہیں ہے کیونکہ عمران خان پہلے ہی اپنی ’’خداداد صلاحیتوں‘‘  کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ان کی نالائقی اور ناکارکردگی سب پر عیاں ہے نئے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ برسراقتدار آ کر بھی کیا کر لیں گے۔
اب تو کچھ معجزاتی نسخہ ہی ہمارے مسائل کے حل کا باعث بن سکتا ہے۔ کھیل میں فیصلہ کن حیثیت کے حامل کھلاڑی کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اسے اب بھرپور کارکردگی دکھانا ہو گی۔ 
ملک کے لئے، قوم کے لئے، پاکستان کے لئے۔

تبصرے بند ہیں.