کیا درست ہے اور کیا غلط

19

پیارے نبیؐ نے مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے اِس فرمان کی باربار تصدیق ہو رہی ہے اولاد کی پرورش کے لیے والدین زندگی بھر جائز و ناجائز ذرائع اختیار کرتے ہیں وہی اولاد بڑھاپے میں سہارا بنے گی یا خدمت کرے گی؟ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر اسی اولاد کوفائدہ پہنچانے کے لیے والدین اپنی دوستیاں اور تعلق تک ختم کر لیتے ہیں رشتے تک توڑ دیتے ہیں بھائی بھائیوں اور بیٹے باپ کے خلاف ہو جاتے ہیں جائیداد و مال سے بہنوں و بیٹیوں کو حصے سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اتنا کچھ کرنے کے باوجود رشتہ اور خاندان جُڑا رہے گا کوئی بھی وثوق سے ہاں میں جواب نہیں دے سکتا مال اور اولاد ایسا فتنہ ہے جو نہ صرف رشتوں کا احترام بُھلا دیتا ہے بلکہ رشتوں کی شناخت بھی ختم ہوجاتی ہے پنجاب کیا پاکستان میں چوہدری ظہورالٰہی شہید خاندان اپنی مہمان نوازی، وضع دار ی اور شرافت میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے سیاسی ،انتظامی،سیاسی ،مذہبی اور کاروباری لوگ اِس خاندان کااحترام کرتے ہیں اب یہ خاندان ایسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جو جگ ہنسائی کا باعث ہے اِس ٹوٹ پھوٹ میں اولاد ،مال کے فتنہ ہونے یا اقتدار حاصل کرنے کے اشتیاق کا کتنا حصہ ہے؟اِس کا تو مستقبل میں پتہ چلے گا لیکن اپنے گھر کے فرد کو اقتدار میں آنے سے روک دیا گیا ہے حالانکہ کزن کو اقتدار سے روک کر خودحکومت میں آنے کا امکان بھی نہیں پھر کیوں انتہا تک چلے گئے سچ یہ ہے کہ کزن کے خلاف خط لکھنے سے عزت میں اضافہ نہیں کمی ہوئی ہے ۔
اقتدار اور مال و دولت کے لیے یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا غرناطہ کے حکمران ابوالحسن جب اپنے بھائی محمد بن سعد کے ساتھ فرڈینڈ اور ملکہ ازابیلا کی مشترکہ فوجوں سے جنگ میں مصروف تھے تو اِن نازک لمحات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ولی عہد ابو عبداللہ نے باپ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے تخت نشین ہونے کا اعلان کر دیا مال و دولت اور اقتدار کی ہوس نے اسلامی فوج کو کمزور بنایا چاہے جو بھی ہو والدین اپنی اولاد کی ہر خامی بُھلا کر گلے لگا لیتے ہیں اسی لیے فتنے کو پنپنے کے مواقع ملتے ہیں پیارے نبیؐ نے اسی لیے فتنہ کہا ہے یورپ کی اِس اسلامی سلطنت کو ڈبونے میں اولاد جیسے فتنے کا کلیدی کردار ہے جب دیگر سے انصاف کے مطابق فیصلے کیے جاتے اور تعلق بنائے جاتے ہیں اگر اولا د جیسے فتنے سے بھی انصاف کے مطابق برتائو کیا جائے تو کئی خرابیاں دور ہو سکتی ہیں لیکن ایسا کبھی ہوتا نہیں۔
شہنشاہ اورنگزیب کونمازی ،پرہیزگاراور دیانتد ار سمجھا جاتا ہے وہ ٹوپیاں سی کر گزر بسر کرتے تھے مگر شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنے خوبصورت اور تابعداربیٹے دارالشکوہ کو جانشین بنانے کے لیے بقیہ تین صاحبزادوںاورنگزیب کو حیدرآباد دکن،مراد کو گجرات اور چوتھے بیٹے کو بنگال کی سربراہی سونپی تو پڑھے لکھے اورنگزیب نے فیصلے کو حق تلفی محسوس کرتے ہوئے بُرا منایا اور کچھ ہی عرصے بعد اپنے بھائی مراد سے مل کر چوتھے بھائی پر حملہ کیا اور دوبدو لڑائی میں موت کے گھاٹ اُتار دیا فتح کے جشن میں مراد جب نشے میں دُھت خوشی منارہا تھا تو
اورنگزیب نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُسے بھی قتل کر دیا یہ فتنہ یہاں تک ہی محدود نہ رہا کچھ ہی عرصے بعد اور نگزیب نے دہلی پر چڑھائی کر دی اور دارالشکوہ کو شکست دی اور بھائی کو جان سے مار کرنہ صرف دہلی کا تخت سنبھال لیا بلکہ باپ شاہ جہان کونظربند کردیا باپ نے ایک باربیٹے سے التجا کی کہ قید میں میرا وقت بہت مشکل میں گزرتاہے یہ بوریت دورکرنے کے لیے بچے پڑھانے کی اجازت دی جائے تو بیٹے نے تکبر سے یہ کہہ کر درخواست رَد کردی کہ ابھی تک دماغ میں بادشاہت کا خمار موجود ہے اسی لیے بچوں پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگا ہے اولاد اور مال و دولت جیسے فتنے کی بنا پرخاندان ٹوٹنے کی تاریخ بہت پُرانی ہے پھربھی ایک مہمان نواز ،وضع دار اور شرافت کی مثال ایسے خاندان جس خاندان کا پورے ملک میں ایک احترام ہے کے ٹوٹنے پر ہر مکتبہ فکر رنجیدہ ہے پی ٹی آئی اور ق لیگ کے کارکن تو غم و غصے کا شکار ہیں مگر پیارے نبیؐ نے مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے پیارے نبیؑ کافرمان غلط ہوہی نہیں سکتا کیونکہ زبان نبی کی ہوتی ہے مگر اللہ کی اجازت کے بغیر نبی کے منہ سے کچھ ادا ہی نہیں ہوتا۔
پی ٹی آئی کے کارکن ہوں یا ق لیگ کے، نہ صرف غم کی کیفیت میں ہیں بلکہ طیش میں ہیں وہ جہاں ایک طرف ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی جانبدارانہ رولنگ کے خلاف مظاہروں میں مصروف ہیں تو چودھری برادران کے لاہور سے لیکر گجرات تک گھروں کے باہربھی احتجاج ہو رہا ہے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے خلاف نعرے تو لگتے رہتے ہیں لیکن پہلی بار چودھری شجاعت حسین کے خلاف نعرے سنائی دیے ہیں لوگوں نے لوٹے اُٹھا کر مظاہرے کیے ایک نیک نام اور ایسے رہنما جنھیںہر مکتبہ فکر نے اگر عزت و احترام دیا تو گھر میں اُنھیں پیروں جیسا رُتبہ حاصل تھا مگر ایک خط لکھ کر عزت کا سودا کر لیا اس خط کے دیگر اثرات کو ایک طرف رکھ کر اگر ایک بڑے سچ کو پیشِ نظر رکھیں تو وہ یہ ہے کہ چودھری خاندان کا اتحادختم ہو گیا ہے پُشت پر وار کرنے سے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی سیاسی راہیں جدا ہو نے کے قریب ہیں خط ایسا کاری وار ہے جس نے گھر میں آئی وزارتِ اعلیٰ کو دور کر دیا ہے ق لیگ نے ہی ق لیگ کو شکست دے دی ہے حریف شریف ،بھٹو اور زرداری خاندان اِس ٹوٹ پھوٹ پربہت خوش ہیں ق لیگ کے احتجاجی کارکن آصف زرداری سے بھی سخت نا خوش ہیں لیکن اُنھیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ و محبت میں سب جائز ہوتا ہے آصف زرداری کو عمران خان سے نفرت ہے اسی لیے کوئی چارہ نہ دیکھ کر انھوں نے چودھری پرویز الٰہی کو اُن کے گھر سے جواب دیکر اپنی نفرت پوشیدہ نہیں رکھی انھوں نے برسرِ عام ذاتی لڑائی کہہ کر اپنی نفرت کا اظہار بھی کردیا ہے خیر جتنی بھی باتیں کی جائیں بات وہی ہے کہ چودھری خاندان کے سربراہوں کی علیحدگی کی یہ خبر ہر سنجیدہ اور محب الوطن طبقے کو چونکانے کے ساتھ تڑپانے کا باعث ہے اِس کی کسک پورے ملک نے محسوس کی ہے۔
جہاں تک خط سے وزارتِ اعلیٰ پر مرتب اثرات کی بات ہے تو بہت زیادہ امکان ہے کہ عدالتِ عظمیٰ سے چودھری پرویز الٰہی کو ریلیف مل جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ دینے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہوتا ہے ایک غیر منتخب اور صاحبِ فراش شخص نہیں کر سکتا علاوہ ازیں ق لیگ کے ممبرانِ اسمبلی نے کسی دوسری جماعت کے اُمیدوار کو نہیں بلکہ متفقہ طور پر اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے جس کی پی ٹی آئی نے بھی حمایت کی ہے اسی بناپر قانونی ماہرین ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کے فیصلے کوماورا آئین اور اختیارات سے تجاوز قر اردیتے ہوئے یہ توقع کررکھتے ہیں کہ جلد ہی چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے کیونکہ انھوں نے 186ووٹ لیے ہیں جبکہ حمزہ شہبازمحض179ووٹ حاصل کر سکے ہیں اور ایسے پارٹی سربراہ جو غیر منتخب اور شدید بیمار ہیں اُن کا خفیہ خط ڈپٹی سپیکر نے اُس وقت ظاہر کیا جب ووٹ کا سٹ ہو چکے ووٹ کاسٹ کرنے سے قبل یا اِس عمل کے دوران خط کی کسی کوہوا بھی نہ لگنے دی گئی اِس لیے جماعت کے امیدوار کوووٹ دینے کے پارلیمانی پارٹی کے متفقہ فیصلے کوجماعت سے انحراف نہیں کہہ سکتے نیزخفیہ خط کی بنیاد پر پوری جماعت کے دس ووٹ مسترد کرنا خلاف آئین اور قانون ہے مگر کیا ٹوٹنے والے خاندانی رشتے دوبارہ جُڑپائیں گے؟ اِ س سوال کا جواب مستقبل میں ہی مل سکتاہے فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔

تبصرے بند ہیں.