سیاسی دھینگا مشتی، معاشی تباہی

12

سپریم کورٹ کے حکم پر 22 جولائی کو پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں ق لیگ، ق لیگ سے ہار گئی۔ قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند، دوچار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا۔ ایوان میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدار کے 186 ووٹ تھے۔ ن لیگ اور اتحادیوںکے امیدوار حمزہ شہباز کے 179 ووٹ، چودھری پرویز الٰہی اپنی کامیابی پر حد درجے مطمئن تھے چہرہ خوشی سے گل و گلزار ہنسی روکے نہ رکتی تھی۔ عمران خان ایک روز قبل ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے سیدھے راستے پر چلنے بلکہ بقول ان کے ’’مسلمان‘‘ ہونے کی خوشخبری کے ساتھ 22 جولائی کی رات جشن منانے کی نوید سنا چکے تھے۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں خاموشی کا راج تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ن لیگی ارکان کے چہروں پر بھی اطمینان تھا گنتی مکمل ہو گئی تو ڈپٹی سپیکر نے نتیجہ کا اعلان کیا۔ دونوں جانب کے ووٹوں کی تعداد بتائی تو پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ارکان نے ڈیسک بجائے لیکن ڈپٹی سپیکر نے اسکے بعد جو کچھ کہا اس پر پی ٹی آئی کی خوشی ہوا ہو گئی۔ ڈپٹی سپیکر نے ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت کا خط پڑھ کر سنایا کہ انہوں نے ق لیگ کے 10 ارکان کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا تھا مگر انہوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے پارلیمانی لیڈر کی ہدایت پر پرویز الٰہی کو ووٹ ڈال دیے ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق یہ 10ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے اس لیے حمزہ شہباز 3 ووٹوں کی اکثریت سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ برقرار رہیں گے۔ راجہ بشارت نے آئین کی وہ شق پڑھ کر سنائی کہ پارلیمانی لیڈر کی ہدایت پر جو ووٹ ڈالے گئے وہ درست تھے مگر ڈپٹی سپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ ووٹ مسترد کر دیے۔ ایوان شیر شیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ق لیگ کو ق لیگ نے شکست سے دوچار کر دیا۔ چودھری شجاعت کے خط نے پی ٹی آئی کی کامیابی پر ’’رندا‘‘ پھیر دیا۔ کبھی اس موڑ پر لوٹا گیا ہے قافلہ دل کا جہاں دو قدم ہی فاصلہ تھا، دل کی منزل کا تحریک عدم اعتماد کی طرح اس بار بھی کپتان کو اتحادی جماعت ہی نے دھوکہ دیا۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا چودھری شجاعت کو چھوڑیں میں 30 سال سے پارٹی کا صدر ہوں۔ راجہ بشارت نے کہا چودھری شجاعت کی کوئی حیثیت نہیں وہ کوئی خط لکھنے کے مجاز نہیں تھے۔ شکر ہے انہوں نے چودھری صاحب کو ق لیگ سے باہر نہیں نکال دیا۔ کپتان حیران بلکہ انتہائی پریشان ہوئے اور رات ہی کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہو گئے پی ٹی آئی اور ق لیگ نے رات 12 بجے ہی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے رجوع کیا اور فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کر دی سب کچھ کیسے ہوا بلاول بھٹو نے جھٹ ٹوئٹ پر پیغام دیا ایک زرداری سب پر بھاری۔ آصف زرداری 21 جولائی کو ہی چودھری شجاعت کے گھر گئے تھے۔ کیا راز و نیاز ہوئے؟ لوگوں نے مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دیا لیکن مذاکرات ہی نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مذاکرات میں طے پایا کہ فی الحال ق لیگ مقابلہ سے دستبردار ہو جائے اور حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے دے جبکہ کچھ عرصہ بعد چودھری پرویز الٰہی کو مشترکہ امیدوار کے طور پر منتخب کرا لیا جائے گا۔ چودھری شجاعت نے اسی یقین دہانی پر خط لکھ دیا کہ ق لیگی ارکان ووٹ کاسٹ نہ کریں۔ مونس الٰہی والد کی ناگہانی شکست پر تلملا کر رہ گئے کہا ہم سب ہار گئے زرداری کی جیت ہوئی جمہوریت لڑکھڑا گئی۔ انتقام ہی جمہوریت کا حسن ٹھہرا۔ پارلیمنٹ رضاکارانہ سرنڈر کر جائے گی تو دوسرے اداروں کی محتاج ہو کر رہ جائے گی قصور اپنا نکل آیا۔ سیاستدان اپنی انا، تکبر، غرور اور اپنی ذات کے خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ کپتان رات گئے اخلاقیات اور اخلاقی اقدار کا درس دیتے رہے لیکن گزشتہ برسوں کے دوران اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے چور، ڈاکو، چیری بلاسم، حمزہ ککڑی کے بُرے خطابات ان ہی کے دیے ہوئے ہیں کسی کو بھی چور ڈاکو کہنا آسان لیکن ثبوت کہاں ہیں موجودہ حکومت کے مطابق تو کپتان بھی کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف بھی مقدمات تیار کیے جا رہے ہیں الزامات جوابی الزامات نے پورے ملک کو سیاسی  محاذ پر عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ جب جسے چاہیں بُرا کہیے اس سے آسان کوئی کام نہیں۔ اربوں روپے سوشل میڈیا کی جنگ میں جھونک دیے گئے جہاں سے 24 گھنٹے مخالفین اور ملکی اداروں کے سربراہوں کے خلاف گالم گلوچ اور کردار کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ سوشل میڈیا کا کرشمہ ہے کہ لوگ مسلسل جھوٹ کو سچ سمجھنے لگے ہیں اسی لیے بیانیوں کے مثبت اثرات ظاہر ہو رہے ہیں ایک کالم نگار ظفرآہیر کے مطابق ایک مولوی صاحب کو کسی نے بکری کا بچہ تحفے میں 
دیا۔ تین ٹھگوں نے مل کر انہیں لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ راستے میں پہلا ٹھگ مولوی صاحب سے ملا اور بولا آپ نے کتے کا بچہ کیوں اٹھا رکھا ہے۔ مولوی صاحب نے اسے گالیاں دیں کچھ دور دوسرا ٹھگ آ گیا اور بولا کتے کا بچہ کہاں لے جا رہے ہیں۔ مولوی کا اعتماد متزلزل ہوا اور جب تیسرے ٹھگ نے بھی یہی بات کہی تو مولوی صاحب نے بکری کا بچہ گود سے اتار دیا جسے وہ ٹھگ لے کر چلے گئے۔ مقصد صرف اقتدار آتا نہیں ہے کھیل مگر کھیل رہے ہیں۔ اقتدار سے باہر ہوئے تو احتجاجی سیاست کا رویہ اپنا لیا جو ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران بلکہ ابھی تک جاری ہے۔ مختلف بیانئے سازش اور قتل کے بیانئے میر جعفر، میر صادق اور حالیہ دنوں میں ایکس وائی زیڈ کے ناموں سے اداروں کو بلیک میل کرنے کا بیانیہ ضمنی الیکشن میں کامیابی کی ضمانت بن گیا۔ ن لیگ کا سیاست کے بجائے ملک بچاؤ کا بیانیہ عوام کو متاثر نہ کر سکا۔ لوگ گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران مہنگائی کے طوفان کو بھول گئے۔ روپے کی گرتی ساکھ ڈالر کی بڑھتی قدر افراط زر مہنگائی، پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، انہیں کچھ یاد نہ رہا دو ماہ کے سخت فیصلے ہضم نہ ہو سکے۔ کپتان نے اپنی جیتی ہوئی 20 سیٹوں 
میں سے 15 حاصل کیں، 5 پر ہار گئے۔ ایک نوجوان پہاڑ سے گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا دوست احباب افسوس کرنے آئے تو وہ ہنستے ہوئے بولا۔ جو ہوا بہتر ہوا اب ایک جوتا اور ایک موزہ خریدا کروں گا۔ اسی قبیل کے روشن پہلو دیکھنے والوں نے کہا کہ ن لیگ اور آزاد امیدوار نے پی ٹی آئی سے 5 نشستیں چھین لیں۔ جبکہ ن لیگ کے ووٹ بھی 6 لاکھ سے بڑھ کر 8 لاکھ سے زائد ہو گئے۔ فافن کے مطابق ضمنی انتخابات شفاف ہوئے مگر کپتان اپنی ضد پر قائم کہ چیف الیکشن کمشنر نے ن لیگ کا ساتھ دیا وہ مستعفی ہوں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان کے اندر کا خوف اور مایوسی بولتی ہے وہ ضمنی الیکشن کے بعد فارن فنڈنگ کیس کے محفوظ کیے گئے فیصلہ سے خوفزدہ ہیں کسی شاعر نے کہا تھا کوئی سورج سے یہ پوچھے کہ کیا محسوس ہوتا ہے بلندی سے نشیبوں میں اترنے سے ذرا پہلے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کو مہنگائی مار گئی۔ عوامی خدمت کے دعوے کام نہ آئے لوگوں کی جیبیں خالی تھیں موجودہ حکومت کے سخت فیصلوں سے معاشی صورتحال تو تبدیل نہ ہو سکی سیاسی صورتحال بدل گئی اور بظاہر پی ٹی آئی کو پنجاب کا ن لیگ کا قلعہ ڈھانے کا موقع مل گیا۔ حکومتی عقل مندوں نے عقل سے کام لیا ہوتا تو یہ مشکل وقت مشکل فیصلوں کے بغیر گزار لیتے یا تحریک عدم اعتماد کا پنگا لینے کی عقل مندی نہ کرتے۔ عوام نے مشکل فیصلوں پر اعتبار کرنے کے بجائے حکومت سے تباہ کن مہنگائی کا بدلہ لے لیا اور ضمنی انتخابات میں جھولیاں بھر کر پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالے۔ تخت لاہور پر ن لیگ کا قبضہ برقرار رہا لیکن کب تک تلوار تو لٹکتی رہے گی ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی۔ کپتان کی جانب سے روزانہ سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہونے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ آئی ایم ایف ابھی تک ہاتھ نہیں پکڑا رہا۔ دوست ملکوں کی جانب سے امداد بھی آئی ایم ایف کے معاہدے سے مشروط ہے۔ ڈالر 240 روپے پر جا پہنچا۔ سٹاک ایکسچینج 40 ہزار کی حد سے نیچے آ گیا۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی باتوں پر کون یقین کرے گا کہ معیشت بحال کر لیں گے یہی روز و شب رہے تو معیشت کی تباہی سیاسی شکست و ریخت کا سبب بنے گی اس سے غرض نہیں کہ معیشت کی تباہی کا ذمہ دار کون تھا یا ہے اصل مسئلہ معیشت کو وینٹی لیٹر سے بچا کر لانا ہے جو اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ موجودہ حکمرانوں کو بجا طور پر گلہ ہے کہ کپتان اپنے بیانیوں سے عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ ان کے وار اتنے کاری ہیں کہ حکومت ان کا توڑ کرنے میں لگی رہتی ہے کچھ اور سوچنے کی مہلت ہی نہیں مل رہی۔ کپتان نے میثاق معیشت کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنے کی وزیر اعظم شہباز شریف کی پیشکش بھی مسترد کر دی ہے۔ وہ بقول ان کے چوروں، ڈاکوؤں کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تو مذاکرات کیسے کریں گے ان کا ایک ہی مطابلہ ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کر کے اکتوبر نومبر میں انتخابات کرا دیے جائیں تاکہ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر کے اتحادیوں کی بلیک میلنگ سے جان چھڑا سکیں۔ بظاہر یہ مشکل ہے۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ ان حالات میں ایک ہی راستہ ہے کہ معاشی درستی کے لیے درست فیصلے کیے جائیں جو مشکل نہ ہوں بلکہ عوام کو ریلیف دیں عقل مندوں نے نوشتہ دیوار نہیں پڑھا اور مشکل میں پھنس گئے وقت گزرنے کے ساتھ دیوار خود بولنے لگی ہے اس کی وارننگ پر تو دھیان دیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.