عوامی مسائل اورعمران کا بیانیہ

8

عام پاکستانی نے عمران خان کے موجودہ بیانیے کو ووٹ دیا ہے اور تحریک انصاف کے ورکرو ں نے اس قوم کو عمران خان دیا تھا جواقتدار کی غلام گردشوں میں جانے سے پہلے عوام کو جوابدے نہیں تھا لیکن  موجودہ عمران نیازی بہت سے سوالیہ نشانوں کی صلیب اٹھا ئے نگر نگرپھر رہا ہے ۔ابتدائی عمران صلح صفائی پر یقین رکھتا تھا جس کی زندہ مثال شہباز شریف کے خلاف مرکزچھوڑ کر پنجاب کے اقتدار کو حاصل کرنے کی سائنس وہ خود بہتر سمجھتا ہو گا لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ جب عمران اپنے موجودہ امیدوار برائے وزیراعلیٰ پنجاب کو ’’ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو‘‘ کہتا تھا تو اس وقت بھی عمران بچہ نہیں تھا۔ عمران ریاض صحافی ہو کر سینے پرہاتھ رکھ کر سانس پھولا کر کہتا رہا کہ ’’تم ہمارے آگے فائلیں پھینکتے رہے ۔اب ہم تمہاری بات کا کیسے یقین کرلیں ۔‘‘ تو بھائی جس شخص کو آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے رہے ہیں ٗ جس کی کرپشن کے خلاف آپ عدالتوں میں جاتے رہے آج کس منہ سے تحریک انصاف کے غیرت مند ورکرآج اُس ڈاکو کی سربراہی میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اگر پرویز الٰہی اتنا ہی اُچ کا پیر ہے تو پھر تحریک انصاف کے ورکروں کو اُس کی جماعت قاف لیگ میں جا کر کام کرنا چاہیے تحریک انصاف میں کیا کررہے ہیں ؟ آج اگر پاکستان سیاسی مسائل کا شکار ہے تو میں حکمرانوں کو بتا نا چاہتا ہوں کہ عوام کا آکسیجن کا سیلنڈر ختم ہونے کو ہے ۔ یہ کھیل تماشے چلتے رہیں گے لیکن اگر عوام صرف اپنے دکھ لے کر باہر نکل آئی تو حکمران اشرافیہ اُس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اُس کا کچھ بھی باقی نہیں بچے گا ۔ یہاں اب مسائل کا حل یقینا عوام کے پاس ہے ۔
بات سیدھی سادھی ہے لیکن ان پڑھ ٗ غریب ٗ بیروز گار ٗ جاہل ٗ یہاں تک کے نیم پاگل کو بھی سمجھ آ جاتی ہے لیکن انسانی تاریخ میں اگر سمجھ نہیں آئی تو حکمران اقلیت کے پلے کبھی نہیں پڑی کہ جب عوام کا چولہا بجھ جائے تو شہر سلگنا شروع ہوجاتے ہیں ۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین سے آسمان تک آگ ہی آگ دکھائی دیتی ہے جس میں شاہ اور شاہ کے سب خیر خواہوں کو’’ ستی‘‘ کی رسم ادا کرنا پڑتی ہے ۔سیاست اور صحافت کی ایک طویل زندگی گزارنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو مشین خراب ہو اُس کی ساری پروڈکشن خراب ہوتی ہے ۔کرپٹ تو زبان ِ زد عام ہوتے ہیں لیکن بظاہر دیانت دار نظر آنے والے بھی صرف اس وجہ سے دیانتدار ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں کرپٹ نہ سمجھیں۔اُنہوں نے بھی اپنی ذات کے گرد دیانت نامی خوشبودار سفوف کی تہہ چڑھا رکھی ہوتی ہے جس کو اتارنے کیلئے کسی سونامی کی ضرورت نہیں سردیوں میں اترنے والے 
ہلکی سی دھند ہی کافی ہوتی ہے ۔
چوراورڈاکوں کا کام تو لوٹناہی ہوتا ہے لیکن اگر ریاست اپنے شہریوں کو لٹوانا شروع کردے تو پھر ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ‘‘ والی بات حق او ر سچ ہوتی ہے ۔لیکن اگر آپ فیض کو پسند کرتے ہیں تو آپ ایک کامریڈ ہیں ٗ آپ کی سوچ بائیں بازو کی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی سستا فتویٰ فروش آپ کے نظریات کو غیر اسلامی بھی قرار دے دے ۔اسی طرح اقبال کے چاہنے والے مومن یا نیم مومن کہلائیں گے اور اُن کی سوچ کو بھی دائیں بازو کی سوچ قرار دے کر ناقابلِ عمل قرار دے دیا جائے گا لیکن جب اقبال یہ کہتا ہے کہ ’’جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقان کو روزی ۔۔۔اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو‘‘تو اُسے کامریڈ نہیں کہا جاتا ۔شاید بات صرف سوچ کی ہے جس کو ہم اپنالیتے ہیں یعنی نیشنلائزکرلیں اُس کا سب کچھ حق اور سچ ہے جو مردود ِ حرم یعنی دھتکارے جائیں اُن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور بعض اوقات تو ہم اُنہیں کُھل کھیلنے کی بھی اجازت دے دیتے ہیں۔ٗ آپ اپنے بچے کیلئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کا جو دودھ خریدتے ہیں اُس پر کوئی قیمت نہیں لکھی ہوتی ٗ میڈیکل سٹور جو قیمت طے کردے وہی آپ کو ادا کرنا ہوتی ہے ۔معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ دودھ چونکہ میڈیکل آیٹم نہیں سو یہ معاملے کنزیومر رائٹس میں نہیں آتا لیکن کم بختوبچے کا خشک دودھ میڈیکل آیٹم میں تو نہیں آتا لیکن بچہ تو ریاست ِ پاکستان کی ملکیت ہے اور پاکستان کی ملکیت کے ساتھ اگر فراڈ یاچور بازاری ہو رہی ہے تو اُس پر مدعی بچے کے ماں باپ ہوں گے یا ریاست ؟ لیکن پھر مجھے لینن یاد آ جاتا ہے جس نے لکھا تھا کہ دنیا میں سامراج (imperalism)  کے بعد مہا سامراج (Ultra_Imperalism) اور سرما یہ داری (Capitalism)  کی جگہ مہا سرمایہ داری (Ultra_Capitalism)  ہو گی ۔سرمایہ دار مل کر لوٹیں گے اور دنیا میں ایک ہی سامراجی طاقت ہو گی جو ساری دنیا کہ انسانوں پر ظلم کرے گی ۔شاید ہم تاریخ کے اُس عہد میں داخل ہو چکے ہیں ۔آج سرمایہ داروں کا اتحاد دنیا کے مظلوم لوگوں کو لوٹ رہا ہے ۔اعداد کے یہ جادوگر ہر شے جب چاہیں چھو منتر کرجاتے ہیں ۔اکلوتی اور لاڈلی سپر پاور کو مہا سامراج بنانے میں کلید ی کردار ہمارا ہے اور ہم اس پر آج بھی اس پر شرمند ہ نہیں۔
ہم قلم کی مزدوری کرنے والے لوگ ہیں ٗ لفظ اور خیالات بیچتے ہیں ۔یعنی ہم اپنے خریدار کو کوئی میز کرسی بنا کرنہیں دیتے ۔جس معاشرے میں لوگ ہر شے مفت لینے کے عادی ہو جائیں وہاں سب سے زیادہ جن لوگوں کو عتاب کا نشانہ بننا پڑتا ہے و ہ قلم کا مزدور ہی ہوتا ہے ۔چند لوگوں کو ہیرو بنا کر اُن کا ریٹ بڑھا دیا جاتا ہے اور باقی سب کو مالکان اور اداروں کے اِن چہیتے ٹرکوں کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے جن کی قسمت میں قید کی اذیت ناک موت کے سوا ء کچھ نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ دیانت دار ہیں ورنہ کرپٹ آدمی تو قبرستان سے بھی خرچہ لے ہی آتاہے ۔رہی بات نظام بدلنے کی تو جن کے ذہنوں میں دنیا بدلنے کے نقشے ہوتے ہیں اُن کے پاس گھر واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہوتا ۔میں نے بہت سے اہلِ علم کو میلوں پیدل چلتے دیکھا ہے جس کیلئے وہ اکثر واک نامی کسی گمنام محبوب کا نام لے کر معاملے پر مٹی ڈال دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے کہ اُن کی جیب میں کچھ نہیں ہوتا ۔دیانتداری کا درس دینے والے کب کی اپنی دکان بڑھا چکے ہیں ٗاب کسی نئے مسیحا کے منتظر پھر سالوں تک اپنے کوڑزدہ ودجود کا خود ہی علاج کرتے رہیں گے ۔پاکستان میں الیکشن کے نتیجہ میں آنے والی تبدیلی ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی پرندے کا پنجرہ کمرے سے اٹھا کر صحن میں رکھ دے ٗ یعنی صرف جگہ بدلتی ہے قیدکے ایام وہی ہوتے ہیں ۔
یہ کھیل تماشے تو جاری ہیں اور جاری رہیں گے لیکن اصل بات یہ ہے کہ غریب کا چولہا بجھنے کے بالکل قریب ہے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ عنقریب شہر سُلگنا شروع ہو جائیں گے ۔جس کے بعد ہو سکتا ہے بہت سے سیاسی مداری اپنی پٹاریاں کھلی چھوڑ کریہاں سے نکل جائیں اور پیچھے بچ جائے ایک خونریزی ٗ قتل و غارت گری اور وہ مناظر جو اس سے پہلے اس قوم نے نہیں دیکھے تھے ۔سب کچھ تباہ و برباد کرنے پر تلے سیاست دان اپنی انائوں کی جنگ میں پاکستان کو ہرانے کا تہیہ کرچکے ہیں ۔ان حالات میں اگر کوئی پاکستان کو بچا سکتا ہے تو وہ صرف پاکستان کے نوجوان ہیں لیکن انہیں ایک لیب ٹاپ اور ایک نائٹ پیکج پورے پاکستان سے عزیز ہے ۔جن سے توقع ہے میں نے کبھی اُن کی سیاسی حمایت نہیں کی لیکن میں اتنا کہنے میں تو بہرحال حق بجانب ہوں :’’تمہیں نے درد دیا ہے تمہیں دو دینا ‘‘۔اب یہ شاعری نہ تو فیض کی ہے اور نہ ہی اقبال کی :  سو لیفٹ اور رائٹ کی آلودگی اس میں شامل نہیں مگر مسئلہ کا آخری حل یہی ہے کہ چیز جہاں گم ہو اُسے وہیں تلاش کرنا چاہیے ۔ہم نے امن افغانستان کے پہاڑوں اور قبائلی علاقوں میں دفن کیا تھا یہ وہیں سے برآمد ہو گا ۔ افغانستان کے پہاڑوں سے چلنے والا حکم اگر لاہور پہنچتا ہے تو یہ چین آف کمانڈختم کرنا ہوگی لیکن یہ سوچنا آپ کی ذمہ داری ہے کیوںکہ اِن کی موت بھی انہیں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ بتانا صرف یہ چاہتا ہوں کہ عام پاکستانی نے عمران خان کے موجودہ بیانیے کو ووٹ دیا ہے اور تحریک انصاف کے ورکرو ں نے اس قوم کو عمران خان دیا تھالیکن عمران خان نے ابھی تک عوام کو کچھ بھی واپس نہیں کیا سوائے ایک بُرے کلچر کے فروغ کے ۔

تبصرے بند ہیں.