ضمنی الیکشن یا انقلاب

24

پنجاب کے بیس حلقوں میں17جولائی کو ضمنی انتخاب ہوا اور ایسا ْگماں ہوا کہ گویا وہ انتخاب نہیں انقلاب تھا۔17 جولائی کو جس طرح عوام دیوانہ وار اپنے گھروں سے نکلی اور عمران خان کو ووٹ دیا وہ قابلِ دید تھا۔راقم الیکشن کے دن فیلڈ میں الیکشن کوریج کرتا رہا اور یقین جانیے کہ بہت سے ایسے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے کہ سچ میں ایسے لگا کہ یہ محض انتخاب نہیں بلکہ انقلاب ہے۔دور سے دیکھا کہ ایک بزرگ خاتون وہیل چیئر پر اپنی بیٹی کے ساتھ آرہی ہیں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ ماں جی اتنی معذوری اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ کیوں ووٹ ڈالنے کی زحمت کر رہی ہیں اور وہ بھی محض ایک ضمنی الیکشن میں ؟ فوراً بزرگ خاتون نے قدرے جذباتی انداز میں مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ محض ایک ضمنی انتخاب ہے ہرگز نہیں یہ آج غلامی سے آزادی کا دن ہے اور کہنے لگی میں نے آج صرف ووٹ ہی نہیں ڈالا بلکہ میں نے آنے سے پہلے عمران خان کی کامیابی کے لئے نوافل بھی پڑھے ہیں۔
اسی طرح ایک ضعیف العمر بابا جی کو دیکھا جن کی بینائی مکمل جا چکی تھی اور اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ووٹ ڈالنے اس امید کے ساتھ آئے تھے کہ میں اپنی آنے والی نسلوں کو غلامی سے آزادی دلا سکوں۔غرض منظر ہی یکسر بدلا ہوا نظر آیا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ محض لاہور کے چار حلقوں کا ضمنی انتخاب ہے۔راقم مسلسل فیلڈ سے لائیو اپنے چینل کو لمحہ بہ لمحہ تمام صورتحال سے اپڈیٹ کر رہا تھا اور مجھ سے جب اینکر نے سوال کیا کہ آپ کوکیا لگتا ہے کہ کوئی اپ سیٹ ہو سکتا ہے تو میں نے فوراً جواب دیا کہ مجھے تو عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر یہ انتخاب نہیں انقلاب محسوس ہو رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ تحریکِ انصاف کلین سویپ کر جائے گی جس پر میرے سٹوڈیو میں موجود کولیگز نے میری بات پر قہقہے بھی لگائے ان کو لگا شاید میں مذاق کر رہا ہوں۔شام کو جب نتائج آنا شروع ہوئے تو اس نے ن لیگ کے ہوش ْاڑا کر رکھ دئیے اور بڑے بڑے ْبرج ْالٹ گئے۔
میرے نزدیک ن لیگ کی ناکامی کی تین بنیادی وجوہات ہیں؟
۱۔پرانے پارٹی ورکرز کو ِٹکٹ دینے کے بجائے لوٹوں کو ٹکٹ دینا اور لوٹوں کو ٹکٹ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی قیادت اور وہاں کے کارکنوں نے لوٹوں کو قبول نہیں کیا بلکہ ان کے مخالف امیدواروں کو ووٹ دئیے۔
۲۔ بد ترین مہنگائی نے بھی ن لیگ کو چاروں شانے ِچت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
۳۔الیکشن میں ن لیگ کے پاس کوئی بھی بیانیہ نہیں تھا کہ جس کو ْبنیاد بنا کر الیکشن کمپین چلائی جاتی۔
میرے نزدیک یہ بنیادی عوامل ن لیگ کی عبرتناک شکست کی وجہ بنے۔
جبکہ دوسری جانب عمران خان کے آہنی اعصاب، کرشماتی شخصیت، طاقتور پروپیگنڈہ، اور امریکی سازش جیسے بیانئے نے عوام کے دل میں اپنے جگہ بنا لی اور اس کا نتیجہ سترہ جولائی کو سامنے آیا۔
اب وقت و حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ شہباز شریف صاحب وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوں اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔
باقی یہاں پر میں نیوٹرلز کے کردار کا بھی ذکر کرتا چلوں جنھوں نے سچ میں ضمنی انتخابات میں اپنی نیوٹریلیٹی کو برقرار رکھا،عمران خان اور ان کے کارکنوں کو عظیم فتح مبارک ہو۔ جس دیوانگی سے لوگ اپنے گھروں سے دیوانہ وار نکلے اور عمران خان کو ووٹ دیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
عوام نے اپنے حصے کا کام کر دکھایا اب امتحان پی ٹی آئی قیادت کا ہے کہ پنجاب میں پھر کوئی عثمان ْبزدار جیسے نا اہل شخص کو مسلط کیا جاتا ہے یا ق لیگ کے کسی سابقہ ڈاکو کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور دی جاتی ہے؟
اگر پی ٹی آئی کا وہی پرانا اور روایتی طرزِ حکمرانی رہا تو پی ٹی آئی ورکرز کا کڑا امتحان ہوگا کہ وہ اپنی قیادت کا بھرپور احتساب کریں اور ثابت کریں کہ وہ خان کے کسی فین کلب کے ممبر نہیں بلکہ ایک باشعور طبقہ ہے جو پاکستان میں حقیقی تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے۔جس دن تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنی لیڈر ِشپ کا کڑا احتساب شروع کر دیا تو یقین جانیے انقلاب ِ عظیم دہلیز پر ہوگا اور پھر نہ کسی سیاسی جماعت کی یہ ہمت ہوگی کہ کسی لوٹے لٹیرے کو عوام کے سروں پر مسلط کر سکے۔

تبصرے بند ہیں.