قرض سے اللہ کی پناہ

13

قرض لینا اْن معاملات میں سے  ہے ، شریعتِ مطہرہ نے جسے جائز قرار دینے کے باوجود لینے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ لہٰذامعقول اور جائز اْمور کے لئے  اِنتہائی ناگزیر حالات میں قرض لینے کی اِجازت دی ہے۔ بوقتِ ضرورت جنابِ رسولؐ اللہ اور صحابہ کرامؓ بھی قرض لیا کرتے تھے اور جیسے ہی اَسباب پیدا ہوتے ، بغیر تردّْد و تاخیر واپس بھی کردیا کرتے تھے۔ اَحادیثِ مبارکہ میں رسولؐ اللہ سے منقول ایسی کئی دعائیں ملتی ہیں، جن میں آپؐ قرض لینے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمارہے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ قرض سے اِس قدر زیادہ پناہ کیوں طلب کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ جب بندہ مقروض ہوتا ہے ،تو بات کرتا ہے ،تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے ،تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ ایک حدیث مبارک میں ہے کہ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنی جانوں کو نہ ڈراؤ،تو اْنہوں نے عرض کیا کہ جانوں کو ڈرانے کا مطلب کیا ہے، تو آپؐ نے فرمایا، قرض۔ یعنی قرض باعثِ خوف ہوتا ہے،کیونکہ قرض دار اِس کی وجہ سے ہر وقت خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ قرض خواہ اْس کے ساتھ کیا کردے۔گویا کہ قرض کی ابتداء غم ہے اور اَنجامِ کار ناداری۔ 
شریعتِ مطہرہ کے اِن اَحکام کی روشنی میں ملکِ خداد پاکستان کی حالتِ زار دیکھی جائے ،تو یہ سرتا پاؤں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ممالک کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، اِن اداروں میں آئی ایم ایف سرفہرست ہے۔ اِسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ بلیٹن کے مطابق  مارچ 2022ء تک پاکستان کے اندرونی وبیرونی قرضوں کا حجم 53544.3 ارب روپے ہے اور اِس میں روز افزوں تیزی سے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ جبکہ اِس قرض پر قابلِ ادا سود  کا حجم 2927.4 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے۔اس طرح پاکستان کا ہر شہری اِس وقت کم و بیش دولاکھ سینتیس  ہزار سات سو تریسٹھ روپے کا مقروض ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے اِس قرض کو ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہ قرض اب ملک کے لئے دو دھاری تلوار کی مانند بن چکا ہے۔ جب بھی کسی ادارے کو قرض واپس کرنے کا وقت آتا ہے ،تو ملک کے پاس  وسائل نہ ہونے کی وجہ سے لامحالہ اِسے کہیں اور سے سابقہ قرض کی ادائیگی کے لئے قرض لینا پڑتا ہے یا اِسے مؤخر کرنے کے لئے تگ و دو کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال بیرونی قرض میں سے آٹھ سے دس اَرب ڈالر قابلِ ادا ہوجاتا ہے ،جس کی ادائیگی کے لئے مزید قرض لینا پڑتا ہے ،مزید برآں بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے بھی بیرونی قرض کی ضرورت پڑتی ہے۔ عجیب تماشا یہ ہے کہ یہ سب قرض صرف قرض نہیں ہوتا بلکہ اِس میں سود بھی شامل ہوتا ہے۔ یعنی قرض تو قرض سود کی ذمہ داری بھی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ 
یہی وہ قرض ہے ،جس کی وجہ سے ملک روز بروز سامراجی قوتوں کا آلہ کار بنتا جارہا ہے۔اَقوامِ عالم میں سر اْٹھاکر بات کرنا مشکل ہوچکا ہے۔وہ جو چاہتے ہیں ، ہم سے منوالیتے ہیں ، بجٹ اپنی نہیں بلکہ اْن کی مرضی کے مطابق بنایا جاتا ہے۔ اَربابِ اِقتدار ملکی مفادات سے زیادہ قرض دینے والے مالیاتی اداروں کے مفادات کو تحفظ دینے پر مجبور ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آئے دن اَشیائے صرف پر اْن کی خواہش پر مختلف النوع ٹیکسز لگا کر غریبوں اور متوسط طبقے کو معاشی مشکلات کا شکار کیا جارہا ہے۔ اِسی قرض کی نحوست ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں سو روپے کا ظالمانہ اِضافہ کردیا گیا۔ اور اب بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے جب اِس میں کمی کا سوچا جارہا ہے،تو شنید ہے کہ اِس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہے ،کیونکہ اْسے تو اپنے قرض سے غرض ہے چاہے عوام مہنگائی کی چکی میں پس کر اپنا وجود ہی نہ کھو دیں۔ لہٰذا اب تک جو ہونا تھا ہوگیا، اب تمام سیاست دانوں کو،چاہے اْن کا تعلق حزبِ اِقتدار سے ہے یا حزبِ اِختلاف سے، مل بیٹھ کر یہ سخت فیصلہ کرنا ہی پڑے گا کہ ملک کو بچانا ہے ،تو قرض لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے سے مصیبت نہیں ٹلے گی۔ ماہرین سر جوڑ کر سوچیں اور ایسی پالیسی مرتب کریں ،جس پر عمل درآمد کرکے مزید قرض لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ خود دار قوم بننے کے لئے یہ فیصلے ناگزیر ہیں۔ اعلیٰ سطح سے نچلی سطح تک کفایت شعاری اور میانہ روی کو عام کیا جائے۔ سب سے پہلے اَربابِ اقتدار اپنی شاہ خرچیوں کو ختم کریں اور ملکی وسائل کو غیر ترقیاتی کاموں میں خرچ کرنے کی بجائے ترقیاتی کاموں پر خرچ کریں۔ بیوروکریٹس اور ملک کے دیگر مراعات یافتہ طبقوں سے غیر ضروری مراعات  واپس لے کر اْن پیسوں کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کیا جائے۔ یہی مشکل فیصلے ہیں جن سے ملک معاشی مسائل سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ آج کہا جارہا ہے کہ ملک کو بچانے کے لئے مشکل فیصلے ناگزیر ہیں لیکن اْن فیصلوں کا پورا منفی اثر صرف غریبوں اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے مراعات یافتہ اب بھی محفوظ ہیں، یہ درست طرزِ عمل نہیں۔ اِس سے نچلے طبقوں میں اِحساسِ محرومی پیدا ہورہا ہے اور ردِّ عمل کے طور پر مختلف قسم کے سماجی اور معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ملک کی ترقی بیرونی  قرض سے چھٹکارے میں ہے، اِس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں۔ یہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جس کے حل کے لئے اِجتماعی کوششوں اور اِخلاص کی ضرورت ہے۔ 

تبصرے بند ہیں.