پاکستان ایسے ہی چلے گا

26

آپ چاہیں اعداد و شمار کی جتنی مرضی گھمن گھیریاں ڈال لیں، تحریک انصاف کی جیت ہوچکی ، پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم اس کے حق میں جا چکی، اگر عمران خان نے اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق یوٹرن نہ لیا تو پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی ہو ں گے اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ وہ ایڈمنسٹریشن اور سیاست میں عثمان بزدار سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوںگے۔ انتخابی نتائج نے تمام تجزئیے اور سروے غلط ثابت کر دئیے ہیں کہ اتنی سیٹوں کی توقع آف دی ریکارڈ گفتگوؤں میں خود پی ٹی آئی والے نہیں کر رہے تھے، ہاں، آن دی ریکارڈ دعوے تو سب ہی کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شہباز شریف اور ان کے ساتھی وفاق میں اپنی حکومت برقرار رکھیں گے جب پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہو گی ، میرا گمان ہے کہ آصف زرداری انہیں حکومت قائم رکھنے کا مشورہ ہی دیں گے، یوں بھی اس نفسیاتی فضا میں جذباتی فیصلے کرتے ہوئے الیکشن میں جانا ان کے لئے خاصا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
میں نے مذاق میں پوسٹ کی اور کہا کہ شہباز شریف پٹرول سو روپے لیٹر اور بجلی دس روپے یونٹ کرنے کا اعلان کریں اور اس کے بعد اسمبلیاں توڑ دیں مگر اس کا بھرپور رسپانس ملا۔ نواز شریف کا بھی یہی کہنا ہے کہ عوام نے مشکل فیصلوں پر ردعمل دیا ۔پاکستان کے بارے میں برا کہنے والے کے منہ میں خاک، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو سخت فیصلے نہیں کرنے چاہئیں تھے۔ کیا عمران خان کی طرح پٹرول اور بجلی پر سب سڈی برقرار رکھنی چاہئے تھی اورا س کے نتیجے میں پاکستان ،سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کر جاتا۔میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ آپ کی نظر میں دیوالیہ ہونا محض ایک سیاسی بات ہو گی مگر اس کے نتیجے میں پاکستان کے امپورٹ اور ایکسپورٹ کے تمام معاہدے معطل ہوجائیں گے یعنی وہ تمام کاروبار ختم جن کی بنیاد درآمدی مال پر ہے یا وہ کوئی سامان تیار کرکے باہر بھیجتے ہیں اور اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں نکلے گاکہ آپ کے کروڑوں کی تعداد میں مزدور بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ہم بڑی حد تک بجلی کی پیداوار سے بھی محروم ہوجائیں گے، عین ممکن ہے کہ دیوالیہ پاکستان میں بجلی کی فراہمی محض ایک سے دوگھنٹوں کے لئے ہو اوراس کا دائرہ کار بھی بڑے شہر ہوں۔ بات یہیں تک نہیں رہے گی بلکہ سری لنکا کی طرح پاکستان میں بھی عام ٹرانسپورٹ کو پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی بند ہوجائے گی۔ سری لنکا میں اس وقت صرف ایمبولینسز اور فوڈ سپلائی کی گاڑیوں کو تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک ایک پٹرول پمپ پر چھ، چھ سو رکشے کھڑے ہیں مگر پٹرول موجود نہیں ہے۔ ابھی پنجاب کے بیس حلقوں سے پی ٹی آئی کی کامیابی کے نتائج آئے ہیں، ابھی پنجاب میں عمران خان کی ٹیم نے حکومت نہیں سنبھالی اور میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں تو ڈالر اوپن مارکیٹ میں چھلانگ لگا کے دو سو سولہ روپوں پر پہنچ گیا ہے اور حکومت بننے تک سوا دو سو تک جانے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ نعرہ بہت خوب ہے کہ ہم امریکا یا آئی ایم ایف کی غلامی نہیں چاہتے مگر اس کے نتیجے میں اگرہمارے قرض اور امداد رکتی ہے تو ہمارے روزمر ہ کے معاملات چلنا بھی مشکل ہوجائیں گے۔ میں نے ایک تاجر رہنما سے پوچھا کہ اب امریکا او ر آئی ایم ایف کا ہمارے ساتھ رویہ کیا ہو گا تو اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا کہ اگر میں اپنی لینڈ کروزر میں جا رہا ہوں اور ایک فقیر گاڑی کے باہر کھڑا ہو کے مجھے دعائیں دیتا ہے یا بددعائیں، مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
کیا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ عمران خان معیشت سنبھال نہیں سکیں گے تو میں نے قیاس آرائیاں چھوڑ دی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ اگلے ایک برس میں پاکستان کو امریکا اور فرانس کے برابر معاشی قوت بنا دیں کیونکہ اب میرے خیال میں سب کچھ ممکن ہے مگر میرا تجزیہ ان کی سابق پالیسیوں کی روشنی میں ہے جس کے بارے میں بار بار کہہ چکا کہ وہ شوگر کے مریض کو چاکلیٹ دے رہے تھے اور دل کے مریض کو پراٹھے پیش کر رہے تھے، اب اگر مریض اس کے نتیجے میں چاق و چوبند گھوڑا بن جائے تو یقینی طور پر میرا ہی نہیں بلکہ طبی ماہرین کا تجزیہ اور رائے بھی غلط ہوجائے گی۔ منطقی طور پر یہی لگتا ہے کہ عمران خان کو بھی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی اور امریکا اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیلنگ کے لئے موجودہ حکومت سے زیادہ محنت کرنا پڑے گی مگر سوال پھر یہی ہے کہ کیا شہباز شریف اور ان کے ساتھی اب بھی لڑنا چاہیں گے، ا س قوم کے لئے سخت فیصلے کرنا چاہیںگے کہ بظاہر دونوں طرف ایک مشکل وقت ہے۔ اگر وہ اپنی حکومت برقرار رکھتے ہیں تو انہیںپنجاب سے مزاحمت ملے گی اور نئے انتخابات کے لئے دباو رہے گا لیکن اگر وہ انتخابات میں جاتے ہیں تو عمران خان پنجاب کی جیت کے نفسیاتی دباؤ کے ساتھ آئیں گے چاہے کوئی لاکھ کہتا رہے کہ یہ حلقے عمران خان کے ہی تھے اور انہوں نے ہی واپس لیے ہیں۔
میں نوے کی دہائی سے لکھتا چلا آ رہا ہوں۔ مجھے اپنا ایک آرٹیکل یاد ہے جو میں نے موٹروے بننے پر لکھا تھا کہ روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں مگر اب میں سوچتا ہوں کہ ایک آدھ پھول تو کسی گملے میں کھلایا جا سکتا ہے مگر ہماری مجموعی حالت بہت بری ہوچکی ہے۔ مجھے کسی دوست نے کہا کہ تم نے اگر اپنی حالت دیکھنی ہے تو کسی بھی بڑی شاہراہ یا بازار پر اپنے پبلک ٹوائلٹس دیکھ لو۔ تم وہ قوم ہو جو کہتے ہو کہ صفائی تمہارا نصف ایمان ہے مگر تم اپنی گندگی تک بہا کے نہیں آتے اور جب وہ وہاں موجود ہوتی ہے تو اس کامطلب ہوتا ہے کہ تم اپنی صفائی کر کے بھی نہیں آتے اور اسی حالت میں نما ز پڑھنے چلے جاتے ہو۔ کسی پنجابی مولوی نے ایک دوسرے صوبے میں جا کے درس دیا کہ وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ جب اس نے اس بات کو بار بار دہرایا تو ایک بوڑھا اٹھ کھڑا ہوا اور غصے سے بولا، چپ کر مولوی، میں نے کئی بار پڑھا ہے اور ہو گیا ہے۔ اسی طرح کسی سائنسدان نے اپنے سٹوڈنٹس کو لیکچر دیتے ہوئے کہا، سائنسی اصول ہے ، کسی پرندے کے پر اس کے جسم سے چھوٹے ہوں تو وہ اس کا بوجھ نہیں سہار سکتے سو وہ اڑ بھی نہیں سکتا لیکن چونکہ کئی پرندوں کو اس سائنسی اصول کا علم نہیں اس لئے وہ چھوٹے پروں کے ساتھ اڑتے پھر رہے ہیں۔
سو پیارے قارئین میں بہت ریلیکس ہوں، مجھے ہنسی آ رہی ہے اور انجوائے کر رہا ہوں کہ معیشت اورسیاست کے اصولوں کی ایسی تیسی، ہماری نماز بھی ہوتی رہے گی اور ہمارے پرندے بھی اڑتے رہیں گے یعنی پاکستان ایسے ہی چلتا آ یا ہے اور ایسے چلتا رہے گا۔ ہمیں زیادہ بڑے دانشور بننے اور فکر مندی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیا ہمارے بزرگوں نے اپنی فکرمندی سے بنگلہ دیش بننے سے روک لیا تھا؟

تبصرے بند ہیں.