آج کون جیتے گا؟

41

آج پنجاب میں ضمنی انتخابات ہی نہیں ہو رہے بلکہ حمزہ شہباز کی وزارت اعلی ٰکا فیصلہ بھی ہو رہا ہے۔ میرے ایک سینئر صحافی دوست کاکہنا ہے کہ مسلم لیگ نون آج نو جبکہ پی ٹی آئی گیارہ سیٹیں جیتے گی اور اس پر نہ صرف حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ برقرار رہے گی بلکہ پی ٹی آئی کو بھی خو ش کر دیا جائے گا اور میں سوچ رہا ہوں کہ مقتدر حلقوں کو پی ٹی آئی کو خو ش کرنے کی کیا ضرورت ہے اور موجودہ حکومت کو ناراض کرکے انہیں کیا فائدہ ہو گا۔ اگرچہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں ہوسکتا کہ الیکشن کون جیتے گا کہ غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے مگر اس کے باوجود کچھ تجزئیے ہوتے ہیں، کچھ رائے عامہ کے جائزے ہوتے ہیں  میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں انتخابات کے نتائج وہی آتے ہیں جن کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر نہ آئیں تو اس کے بعد رجیم چینج کانسپیرنسی شروع ہوجاتی ہے جیسے پرویز مشرف کے دور میں، مقتدر حلقوں میں ایک طبقے کا، خیال تھا کہ مسلم لیگ قاف میدان مار لے گی مگر دوسری طرف پیپلزپارٹی سے بھی پینگیں بڑھائی جا رہی تھیں اور پھر بے نظیر بھٹو کی شہادت نے پانسہ پلٹ دیا  اس کے بعد آٹھ برس کی محنت اور انتظار سے سیاسی منظر نامہ عمران خان کی صورت قابو میں لایاگیا ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج عمران خان جیت جائیں گے میں ان کی بات سن کر سوچتا ہوں کہ اگر عمران خان نے ہی جیتنا ہے تو پھر اسے نکالنے کی کیا ضرورت تھی۔ میرے پاس بہت سارے دلائل موجود ہیں جن کی بنیاد پر دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ نون واضح اکثریت کے ساتھ ضمنی انتخابات جیت جائے گی جس کی پہلی دلیل تو میں نے اس پیراگراف کے شروع میں ہی دے دی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ تمام الیکٹ ایبلز نواز لیگ کے پاس ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو چار برس پہلے اپنا اپنا حلقہ جیت کر آئے تھے۔ میںنے سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل بہت قریب سے دیکھا ہے اور جانتا ہوں کہ اس میں جیتے ہوا ہی پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ ان بیس میں سے دس ایسے ہیں جنہوں نے بطور آزاد امیدوار مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کے تگڑے ووٹ بنک کو شکست دی تھی اور آج ان کے ساتھ مسلم لیگ نون ہی نہیں حکومت بھی کھڑی ہے۔ کوئی مانے نہ مانے، ضمنی انتخابات میں حکومت کے پاس جو وسائل اور ہتھکنڈے ہوتے ہیں وہ اپوزیشن کے پاس نہیں ہوتے، ہاں، یہ الگ بات ہے کہ حکومت بالکل ہی ’ فارغ‘ اور ’ تھکڑ‘ نہ ہو جیسی عثمان بزدار کی تھی اور اس نے حکومت میں رہتے ہوئے ضمنی الیکشن ہارنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ میں نے دیکھا ہے کہ مختلف حلقوں میں ترقیاتی کام شروع ہیں اورامیدوار واضح طور پرووٹروں کو بتا رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنے مسائل حل کروانے ہیں تو شیر پر ہی ٹھپہ لگانا ہو گا ورنہ کوئی اور جیت گیا تو یہ کام نہیں کروا سکے گا۔ آج ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بڑا ہاتھ یہ ہو گیا ہے کہ اس کے ایم پی اے جاتے جاتے اپنے اپنے حلقوں کی بہت ساری یونین کونسلوں کے چیئرمین اور کونسلر ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے تگڑے لوگ بھی ساتھ لے گئے ہیں۔
میں حلقہ ،حلقہ سیاست کے اسرار و رموز اورجوڑ توڑ ڈسکس نہیں کرسکتا مگر عمومی تجزیہ ضرور دے سکتا ہوں کہ عمران خان اقتدار سے الگ ہونے کے بعد مسلسل غلطیاں کر رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ دباو ٔکے ذریعے مقتدر حلقوں کو ڈرا سکتے ہیں یارام کر سکتے ہیں اور یہ ان کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ وہ صلح کی بات ضرور کرتے ہیں مگر اس کی مکمل رپورٹس موجود ہیں کہ ان کے لوگ ان کی آشیر باد سے توہین آمیز مہمات چلا رہے ہیں۔ میں انہیں واضح طور پربتاناچاہتا ہوں کہ نواز شریف نے بھی اس دباؤ سے کچھ حاصل نہیں کیا اور نہ ہی عمران خان کر سکیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ میں بہت اوپر کی سطح کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن ہی نہیں بلکہ ضلعی سطحوں پر بھی ڈی سی ، سی سی پی اور ڈی آئی جی لیول کے افسران کو دھمکیاں دے کربھی اپنے امیدواروں کے لئے مشکلات بڑھا رہے ہیں۔ اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ کیا ان سب نے دھاندلی کروانی ہے کہ ان کی پروا کی جائے تو میں ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان سے کہتا ہوں، عقل کو ہاتھ مارو، حلقوں اور ضلعوں کی سیاست کے اسرار و رموز سمجھو، یہاں کی سیاست کے طریقے تمہیں اب بھی سمجھ نہیں آئے تو پھر کب آئیں گے، ان لوگوں کوسمجھنا ہو گا کہ یہ بڑھکوں اور دھمکیوں سے آپ فیس بک ، ٹوئیٹر یا انسٹا گرام پر تو واہ واہ کروا لیں گے مگر حلقوں میں امیدواروں کی کمر توڑ دیں گے۔ عمرا ن خان عجیب آدمی ہے کہ وہ ہر ضلعے میں جاکر وہاں کے افسران کو اپنی حکومت آنے پر جیل بھیجنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ کیا اس کے بعد وہ چاہیں گے کہ حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہوجائے؟
یہ نہیں کہ مسلم لیگ نون کے پاس مائنس پوائنٹس نہیں ہیں ، ہیں، مگر وہ ان کامقابلہ کر رہے ہیں جیسے سب سے بڑا منفی کام مہنگائی ہے مگر اس کے لئے حمزہ شہباز شریف کی طرف سے سو یونٹس تک بجلی سستی کرنے کا اعلان زبردست ہے ۔ مان لیجئے، مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ قدرت نے بھی شہباز شریف کا ساتھ دیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے پر الیکشن سے تین دن پہلے ڈیزل چالیس روپے اور پٹرول ساڑھے اٹھارہ روپوں تک سستا کر دیا گیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ مریم نواز کے جلسے عمران خان کے جلسوں سے زیادہ بڑے اور زیادہ جاندار ہوئے ہیں۔ عمران خان لوٹوں کے خلاف سیاسی مہم چلا رہے ہیں مگر دوسری طرف اس مہم کاجواب مریم نواز بہترین انداز میں دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے لوٹے منفی نکتہ ہیں تو انہی کا الیکٹ ایبل ہونا، تجربہ کار ہونا اور حلقوں پر گرفت ہونا فائدہ مند بھی ہے کیونکہ کئی جگہوں پر پی ٹی آئی نے نئے امیدوار اتارے ہیں جن کا اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ نہیں ہے۔ حکومت کا سب سے بڑا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ ہر وہ ووٹر جو حکومت کے کسی بھی وجہ سے خلاف ہے، وہ اس کی بڑی چوائس عمران خان بن گئے ہیں حالانکہ میدان میں تحریک لبیک اور جماعت اسلامی بھی موجود ہیں مگر اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پنجاب کی حد تک وہ مذہبی رجحان رکھنے والا اینٹی نواز شریف ووٹ تقسیم کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں سو اس صورتحال میں مجھے حمزہ شہباز کی حکومت کو کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا۔اس جملے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مسلم لیگ نون زیادہ سیٹیں جیتتی ہوئی نظر آ رہی ہے جو میرے مطابق جتنی بھی ہوں مگر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے مطابق بیس میں سے اٹھارہ ہیں۔

تبصرے بند ہیں.