قومی ترقی میں یونیورسٹیز کا کردار

16

جدید دور میں سوشل چینج اور ڈویلپمنٹ کے حوالے سے یونیورسٹیوں کا کردار بڑا اہم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قومی ترقی جدید یونیورسٹیز کے بغیر ممکن نہیں ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں کی فنڈنگ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ آج نالج بیسڈ اکانومی میں معاشی ترقی کے لئے یونیورسٹیوں کے کردار سے انکار ممکن نہیں ۔ معاشی ترقی کے ساتھ یونیورسٹیاں ثقافت، سیاسی استحکام اور مثبت سوشل چینج میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ کسی قوم کی ترقی محض سائنسدانوں اور لکھاریوں پر ہی منحصر نہیں بلکہ ان کے علاوہ اچھے اساتذہ، انجینئر، ڈاکٹر، سیاستدان اور کاروبار کو جدید تقاضوں کے مطابق چلانے والے ہنرمندوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ قومی ترقی کے لئے سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے ایسے شہریوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو سیاسی و سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔ اچھی یونیورسٹیز کا دارومدار اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار فیکلٹی کے ساتھ محنتی طلبا پربھی  ہوتا ہے۔ کسی بھی  یونیورسٹی کا سب سے اہم کام ہنر مند افراد پیدا کرنا اور مسائل کے حل کے لئے ریسرچ کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یونیورسٹیاں نئے اداروں کی تشکیل، نئی سماجی قدروں کے فروغ اور لوگوں کی جدید تقاضوں کے مطابق ٹریننگ میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو یونیورسٹیاں نیا علم پیدا کرتی ہیں اور انڈسٹری کے ساتھ مل کر اسے  commodify کرتی ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو علاقائی مسائل کا مکمل ادراک ہونا چاہیے اور کمیونٹی و انڈسٹری کے ساتھ مضبوط روابط استوار کرنے چاہئیں۔
ایک بار ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا تھا کہ پاکستان میں نئی بننے والی یونیورسٹیوں کا کردار زیادہ اہم ہے کیونکہ نئے ادارے اپنی اقدار کی تشکیل خود کر سکتے ہیں اور اپنی ترجیحات کو باآسانی قومی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں پنجاب میں نئی یونیورسٹیز میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اس ضمن میں ایک مثال ہے۔ 2019 سے یہ یونیورسٹی توسیع کے ساتھ استحکام کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس وقت خواجہ فرید یونیورسٹی میں 180 پی ایچ ڈی اساتذہ کرام اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس یونیورسٹی سے پبلش ہونے والی ریسرچ کا ایمپیکٹ فیکٹر دو سال کے عرصے میں 560 سے بڑھ کر 4500 سے زائد ہو چکا ہے۔ نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز کے تحت پچیس سے زیادہ ریسرچ گرانٹس اس یونیورسٹی کو حاصل ہو چکی ہیں۔ انٹرنیشنل یونیورسٹی رینکنگز میں بھی خواجہ فرید یونیورسٹی کے رینک میں بہتری آ رہی ہے جس کی مثال ٹائم ہائر ایجوکیشن رینکنگ، یو آئی گرین میٹرک رینکنگ اور SCIMago کے رینکنگ چارٹس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ خواجہ فرید یونیورسٹی میں کوالٹی ایجوکیشن اور تخلیقی تحقیق اولین ترجیح ہے۔
حال ہی میں خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرف سے مختلف انجینئرنگ پروگرامز میں گرلز سٹوڈنٹس اور حفاظ کرام کے لئے سو فیصد سکالر شپ کا اعلان کیا گیا ہے۔ گرلز سٹوڈنٹس کے لئے یہ سہولت ایک طرح سے ساؤتھ پنجاب میں وومن ایمپاورمنٹ کے مترادف ہے۔ یونیورسٹی میں طلبا کو دیئے جانے والے سکالر شپس 1000 ملین روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔ 28 ایکٹو سٹوڈنٹ سوسائیٹیز سرگرم عمل ہیں جن کے پلیٹ فارم سے طلبا کی اعتماد سازی اور کردار سازی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان سوسائٹیز کے زیر اہتمام بے شمار کانفرنسز، سیمینارز، ویبینارز، ٹریننگ ورکشاپ، سٹڈی سرکلز، نمائشوں اور مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ طلبا کے صحتمند مستقبل کوممکن بنانے کے لئے خواجہ فرید یونیورسٹی کو سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس بنا دیا گیا ہے۔ طلبا کے لئے مناسب سپورٹس کی سہولیات اور ٹریننگ کا بندوبست موجود ہے۔ 2019 سے اب تک یونیورسٹی ایتھلیٹ مختلف نیشنل مقابلوں میں پچاس سے زائد میڈلز اپنے نام کر چکے ہیں۔ انفراسٹرکچر میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ گیسٹ ہاؤس، ایگزیکٹو کلب، سپورٹس کلب اور فیکلٹی ہاسٹلز فنکشنل ہو چکے ہیں ان کے علاؤہ سٹوڈنٹ ہاسٹلز اور ایکڈیمک بلاک بھی جلد ہی فنکشنل ہو جائیں گے۔ جدید آلات پر مشتمل ہائی ٹیک لیب کا قیام عمل میں آ چکا ہے جس سے پی ایچ ڈی ریسرچرز کو تحقیق کی بہتر اور جدید سہولیات میسر آئیں گی۔ خواجہ فرید یونیورسٹی کمیونٹی سروسز کے ضمن میں بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ فری میڈیکل کیمپ، صاف پانی کی دستیابی، افطار دسترخوان اور ضرورت مند خاندانوں میں راشن کی تقسیم کی صورت یونیورسٹی کے طلبا سماجی خدمت میں مصروف ہیں۔ چولستان میں خشک سالی کے دورانیے میں یونیورسٹی طلبا نے واٹر ٹینکرز کے ذریعے جانوروں کے لئے چولستان میں پانی مہیا کیا اور بے شمار خاندانوں کے لئے پینے کے پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ماحول دوست انفراسٹرکچر بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں 145KV کے سولر پلانٹ کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔ کیمپس میں پچاس ہزار سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں جن میں اسی فیصد سایہ دار اور بیس فیصد پھل دار پودے لگائے گئے ہیں۔ یونیورسٹی نے اپنا ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا ہے جس سے ویسٹ واٹر ٹریٹ کر کے ہارٹیکلچر اور زراعت کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ سیکیورٹی سٹاف کو کیمپس میں استعمال کے لئے ماحول دوست الیکٹرک موٹر سائیکل دیئے گئے ہیں۔
بزنس انکوبیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ طلبا کی بزنس سے متعلق سکل کو مزید پالش کیا جا سکے۔ سٹوڈنٹس کو تمام سروسز کی ون ونڈو فراہمی کے لئے سٹوڈنٹ facilitation سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ NAVTTC کے اشتراک سے ساؤتھ پنجاب سکل ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد کم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانا ہے تاکہ وہ بہتر روزگار حاصل کر کے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ریسرچ کو فروغ دینے کے لئے چالیس سے زائد نیشنل اور انٹرنیشنل اداروں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ ایم او یوز سائن کئے گئے ہیں۔ اب خواجہ فرید یونیورسٹی علاقائی انڈسٹری اور ایگریکلچر سے جڑے مسائل کے حل پر ریسرچ کرے گی اور ان کے مناسب حل تجویز کرے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا تفصیلات کی بنیاد پر خواجہ فرید یونیورسٹی کا ماڈل ملک میں موجود باقی ترقی پذیر یونیورسٹیوں کے لئے ایک مثال بن چکا ہے۔ ہائر ایجوکیشن میں مربوط پلاننگ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ علاقے کی تعمیر و ترقی اور نیشن بلڈنگ کے لئے ایک اہم سنگ میل بھی ہے۔ بلاشبہ خواجہ فرید یونیورسٹی گورنمنٹ آف پنجاب کے ہائر ایجوکیشن وڑن کے مطابق ایک بہترین مثال کے طور پر ابھری ہے۔ عدم استحکام سے استحکام تک کا سفر یقینا جہاں گورنمنٹ کی توجہ اور سپورٹ کا مظہر ہے وہیں فیکلٹی و سٹاف کی لگن، محنت اور ہنر مندی کا غماز بھی ہے جس کی بدولت اب خواجہ فرید یونیورسٹی کا شمار پاکستان کی صف اول کی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.