پنجاب کا ضمنی الیکشن

104

اتوار17 جولائی کو پنجاب میں ہونے والا ضمنی انتخابات کا معرکہ ، حقیقت میں اقتدار کی جنگ ہے ،پاکستان کے اقتدار کی جنگ ،جس کے پاس پنجاب ہو اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ، اگر ایک طرف پنجاب ،دوسری طرف خیبر پختونخواہ تو تو اسلام آباد درمیان میں پس کر رہ جاتا ہے، کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم زمینی حقائق اور طرفین کی جانب سے ہونے والی محاذ آرائی پتہ دیتی ہے کہ اطراف نے تمام جنگجو اس ید میں جھونک دیے ہیں ،یہ وہ بیس حلقے ہیں جہاں عام انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار وں نے کامیابی سمیٹی تھی مگر چند ما ہ قبل لوٹے بن کر ن لیگ سے جا ملے تھے ،ان ارکان کی حمایت کی وجہ سے ہی حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا الیکشن جیتا،تحریک انصاف کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہ لیا تو ہائیکورٹ نے ان ا رکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا حکم دیا ، الیکشن کمیشن نے 20براہ راست منتخب ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا مگر مخصوص نشستوں پر کامیاب 5ارکان کو ڈی سیٹ نہ کیا جس سے ن لیگ کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے مایوس ہو کر ایک بار پھر ہائیکورٹ سے رابطہ کیا،ہائیکورٹ نے ان ارکان کو ڈی سیٹ کر کے تحریک انصاف کے تجویز کردہ افراد کے رکن اسمبلی بننے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تب جا کر تحریک انصاف کو اس کا آئینی حق ملا۔
اس تمہید کا مقصد قارئین کو یہ بتانا تھا کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں دراصل مقابلہ عوام اور سرکاری مشینری کا ہے ، عمران خان کے جلسوں کے شرکاء کی تعداد بتاتی ہے عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے،دوسری طرف ن لیگی امیدواروں کو وفاقی اور صوبائی مشینری کی بھر پور حمایت حاصل ہے،جس کا ایک نمونہ الیکشن کمیشن کے اقدامات سے بھی ہوتا ہے ، انہی دنوں چیف الیکشن کمشنر کی اہلیہ محترمہ جو کسٹمز میں اعلیٰ افسر ہیں کو فوری طور پر لاہور میں ایک منافع بخش عہدہ دیا گیا ہے ،یوٹیلیٹی سٹورز کو عام شہریوں کیلئے ممنوعہ علاقہ بنا کر وہاں سے رعایتی قیمت والا سارا سامان ٹرکوں میں لاد کر لیگی امیدواروں کے حلقہ میں ان کے ذریعے تقسیم کرنا بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی بدترین خلاف ورزی تھی،مگر چشم فلک نے ایسا ہوتے دیکھا الیکشن کمیشن نے دکھاوے کیلئے نوٹس لے لیا مگر اب تک کوئی ایکشن نہیں ہوا ،لیگی امیدواروں کے حلقہ میں راتوں رات ترقیاتی منصوبوں اور دیرینہ مسائل کا جادو کی چھڑی سے حل بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ انتظامیہ کھل کر ن لیگ کی حمایت کر رہی ہے۔
انتخابی حلقوں اور ووٹرز لسٹوں میں لیگی امیدواروں کے حق میں رددو بدل تو الیکشن کمیشن خود انجام دے رہا ہے جب شفاف غیر جانبدار الیکشن کرانے کا ذمہ دار ادارہ خود دھاندلی کے راستے کھولے،الیکشن کو غیر شفاف اور جانبدار بنائے پھر کیا امید رکھی جا سکتی ہے،اور الیکشن کی شفافیت پر کیسے یقین کیا جائے؟حکومتی ذمہ داران بھی درپردہ اور اندروں خانہ ضمنی الیکشن کا معرکہ جیتنے کیلئے سرگرم ہیں،یوں الیکشن نتائج کے حوالے سے کچھ کہنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، ہاں محترمہ مریم نواز صاحبہ اس انتخابی مہم میں نہایت سمجھداری سے شریک ہیں،انتخابی حلقوں میں جلسے کرنے کیساتھ جیت کیلئے حکمت عملی کی تیاری کیساتھ سرکاری مشینری سے بھی رابطے میں ہیں اور اپنے امیدواروں کی جیت کیلئے سرگرم عمل ہیں،یہ انتخابی حلقے بنیادی طور پر تحریک انصاف کے ہیں،لاہور بلا شبہ ن لیگ کا قلعہ ہے، مگر یہاں بھی لیگی ووٹرز پہلی دفعہ مخمصے میں مبتلا ہیں،ن لیگ نے منحرف ارکان کو نوازنے کیلئے ان کو الیکٹ ایبلز سمجھ کر ٹکٹ دیا ہے مگر ان حلقوں کے سنجیدہ ووٹرز ان کو لیگی امیدوار تسلیم کرنے سے انکاری ہیں،لیگی مستقل ووٹرز بھی ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں،یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کی انتخابی مہم کارکن کم اور سرکاری عمال زیادہ سرگرمی سے چلا رہے ہیں،سنجیدہ اور لیگی ووٹرزکے مطابق جو لوگ اپنی پارٹی اور لیڈر کے نہ ہوئے ،عمران خان سے وفا نہیں کی تو کیسے یقین کر لیا جائے کہ یہ نواز شریف اور ن لیگ سے وفا کریں گے اور کسی مشکل وقت میں پھر لوٹے نہیں بن جائیں گے۔
اگر چہ مریم نواز کے انتخابی حلقوں میں جلسے بھی شرکاء کی تعداد کے لحاظ سے قابل ذکر ہیں مگر خیال ہے کہ ان کے جلسوں میں شرکا نظریاتی یا پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی طلسماتی شخصیت کی وجہ سے شریک ہوتے ہیں،یہ بات تو تسلیم کرنا پڑے گی کہ مریم نواز نے مختصر وقت میں گروم کیا ہے ،وہ عوامی باتیں کرنے اور انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ،مریم نواز کی شخصیت میں ایک لیڈرانہ کشش ہے جسے ووٹرز محسوس کر رہے ہیں اور جوق در جوق ان کی گفتگو سننے آتے ہیں،مگر عمران خان کا سیاسی قد کاٹھ اب بھی بہت بڑا ہے،ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے مایوس لوگ تو ان کو سننے آتے ہی ہیں مگر عمران خان نے اپنی مسلسل جدو جہد سے جس نوجوان طبقہ کو سیاسی شعور دیا اور ملک کا وہ طبقہ جسے سیاست سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں تھی وہ بھی عمران خان کی کال پر سڑکوں اور جلسوں میں آتے ہیں،کوئی مانے نہ مانے مگر عمران خان نے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بھی سیاست میں متحرک کیا ہے،ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ان کے جلسوں میں شرکت سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
جن حالات میں عمران خان کی حکومت کو چلتا کر کے عدالتوں میں مقدمات بھگتنے والے سیاستدانوں کو اقتدار سونپا گیا اس نے ملکی سیاست اور الیکشن عمل کو مشکوک بنا دیا ہے عوام کا اعتماد سیاسی جماعتوں اور الیکشن کرانے کے ذمہ دار اداروں سے مکمل طور پر اٹھ چکا ہے،ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی شرکت کی اصل وجہ ن لیگ کو میدان کھلا دینا نہ تھا،ورنہ عمران خان بہت پہلے سے چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں،آئین کیا کہتا ہے اس بارے رائے آئینی ماہرین دے سکتے ہیں مگر اخلاقی طور پر منحرف لوٹوں کو کسی سیاسی جماعت کو ٹکٹ دینا ہی نہیں چاہئے تھا مگر ایسی اخلاقیات کی ہماری سیاست میں کوئی روایت ماضی میں بھی دکھائی نہیں دیتی اور لگتا ہے کہ اخلاقیات کا یہ سبق بھی عوام ہی ان لوٹوں کو دیں گے ،عوام حقیقی نمائندے لانے کے خواہشمند ہیں اور سرکاری مشینری ن لیگ میں حال ہی میں شامل ہونے والے لوٹوں کی کامیابی کیلئے مصروف ہے،ایسے میں نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ اہم نہیں اہم یہ ہے کہ اس روئیے سے ہم کن روایات کو جنم دے رہے ہیں اور مستقبل میں ان اقدامات کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے 100یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بجلی بل معاف کرنے کا ’’انقلابی‘‘ اعلان کیا اگر چہ اس پر عمل درآمد بھی الیکشن تک روک دیا گیا،مگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی عوام کو ایک امید دلائی گئی اس پر کوئی ایکشن نہ ہوا،ایسے میں منصفانہ الیکشن ایک خواب ہے مگر عوام کا شعور بتا رہا ہے کہ لوٹے ہونے والے امیدوار سخت مشکل میں ہیں،ہر روز ایک نیا ریلیف،پٹرول بجلی سستی کرنے کی باتیں اور ایک کے بعد ایک وزیر کا استعفیٰ حکومتی صفوں میں سراسیمگی کو خود ہی آشکار کر رہا ہے،رہے نام اللہ کا۔

تبصرے بند ہیں.