للکار، پکار اور ضمنی انتخابات

18

ایک ٹی وی پروگرام میں کسی نے کہا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہے اسی پروگرام میں اس کا کیا خوب جواب آیا کہ للکار نہیں رہا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو پکار رہا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ للکار کا انداز بیاں اور ہوتا ہے جبکہ پکار کا کچھ اور ہوتا ہے۔ 2014 کے دھرنوں کے دوران جب خان صاحب ہر روز عوام کو ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی خوش خبریاں سنا رہے تھے تو اس وقت چونکہ خان صاحب اور ان کے میڈیا منیجرز نے انہیں چی گویرا کا کردار نہیں سونپا تھا اسی لیے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والی کوئی تھیوری میڈیا میں بیان نہیں کی گئی لیکن اس وقت چونکہ خان صاحب کو عوام کے سامنے ایک انقلابی کردار میں پیش کرنا مقصود ہے تو خان صاحب کی پکار کو للکار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ خان صاحب اپنے ہر خطاب میں اسٹیبلشمنٹ کو مختلف انداز میں پکار پکار کر ان سے مدد طلب کر رہے ہیں۔ کبھی ان کو خدا کا خوف دلاتے ہیں کہ خدا نے کسی کو نیوٹرل رہنے کا نہیں کہا بلکہ حق کا ساتھ دینے کا کہا ہے (حق سے ان کی مراد یقیناً تحریک انصاف ہے) کبھی انہیں ڈراتے ہیں کہ اگر انہیں دوبارہ اقتدار میں نہ لایا گیا تو ملک میں بڑی خرابی ہو جائے گی اور جب ترلے منتوں کی ساری پکار بیکار جاتی ہے تو پھر کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ ان کے پاس بندے بھیج کر صلح کے پیغام بھی بھجوائے جاتے ہیں۔
خان صاحب اور ان کے حواری دھونس دھمکی پیار محبت ڈرانے دھمکانے تک ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں کہ کسی طرح بات بن جائے لیکن بات ہے کہ بن نہیں رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں اگر دھاندلی ہوئی تو پاکستان میں طوفان آ جائے گا۔ عمران خان ہر جلسے میں دھاندلی کا واویلا کرتے ہیں اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ خان صاحب کو خود بھی اپنی شکست کا یقین ہے لیکن وہ حسب سابق اپنی ہار کو دھاندلی کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں اور جہاں تک ملک میں طوفان لانے کی باتیں ہیں تو خود سوچیں کہ لانگ مارچ میں اگر بندے نہیں آ سکے دو تین مرتبہ احتجاج کی کال پر اگر عوام گھروں سے باہر نہیں نکلے تو طوفان کے لیے بندے کیا آسمان سے اتریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کا عنصر نواز لیگ کے لیے ایک منفی پوائنٹ ہے لیکن اس کے باوجود بھی کچھ وجوہات کی بنا پر نواز لیگ کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ان وجوہات کا ذکر کریں اس سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ 2014 کے دھرنوں کے دوران بھی یہ حال تھا کہ رات کو دھرنا میں دو ڈھائی سو بندے ہوتے تھے جسے میڈیا ہزاروں کی تعداد بنا کر دکھاتا تھا اس کے بعد میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کو تا عمر نااہل قرار دے کر ان پر پارلیمانی سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دئیے گئے 2018 کے انتخابات میں الیکٹ ایبلز کی اکثریت کو انگلی کے اشارے سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑایا گیا اور جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ جہانگیر ترین نے اپنے جہاز میں سواریاں بھر بھر کر بنی گالہ پہنچا کر پوری کر دی۔ ان کوششوں اور کاوشوں اور مقبولیت کے بلند بانگ دعووں کے باوجود بھی نہ پنجاب اور نہ وفاق میں تحریک انصاف سادہ اکثریت کا ہدف حاصل کر سکی بلکہ تخت لاہور کہ جہاں پر تحریک انصاف کو اپنی مقبولیت کا ہمیشہ سے بڑا زعم تھا وہاں بھی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے کہ سوشل میڈیا کی مدد سے مقبولیت کا طوفان بپا کرنا اور بات ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہونا اور بات ہے۔
مستقبل میں کیا ہو گا اس کا حتمی علم تو خدائے بزرگ و برتر کی ذات کو ہے انسان تو بس اپنی انتہائی محدود سوچ کے تحت ہی فقط کچھ اندازے لگا سکتا ہے۔ جن وجوہات کی بنا پر ضمنی انتخابات میں ہم نواز لیگ کو بہتر پوزیشن میں دیکھ رہے ہیں ان میں پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت میں ایک آدھ کے سوا تمام ضمنی انتخابات نواز لیگ جیتی تھی تو اب مہنگائی کا عنصر یقیناً نواز لیگ کے خلاف ایک انتہائی خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو گا اور عین ممکن ہے کہ اس سے الیکشن نتائج کے حوالے سے تمام اندازے غلط ثابت ہوں لیکن دوسری طرف نواز لیگ کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ جو لوگ 2018 میں ان حلقوں سے الیکشن جیتے تھے اب وہی نواز لیگ کی جانب سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ نواز لیگ کا ووٹ بنک بھی انہیں ہی پڑنے کے امکانات ہیں لیکن انہی حلقوں سے 2018 اور اس سے پہلے جو لوگ نواز لیگ کی جانب سے الیکشن لڑ رہے تھے ان کی جانب سے مزاحمت نہیں تو انتخابی مہم میں عدم دلچسپی نواز لیگ کے ووٹ بنک کو متاثر کر سکتی ہے لیکن بہرحال اس کے امکانات کم ہیں تیسرا نواز لیگ اس وقت حکومت میں ہے اور اس کے اپنے بے انتہا وسائل ہوتے ہیں جو نواز لیگ کی فتح میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نواز لیگ کو انتخابات لڑنے کا اور خاص طور پر انتخابات کے دن ووٹ کاسٹ کرانے کا وسیع تجربہ ہے۔
اگر تو ان انتخابات میں تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیں کہ تحریک انصاف اتنی اکثریت حاصل کر لیتی ہے کہ وہ پنجاب میں حکومت بنا سکے تو پھر تو پاکستان کی سیاست میں واقعی ایک طوفان کی کیفیت طاری ہو جائے اور وفاقی حکومت بھی فقط ایک ہلے کی مار ہو گی لیکن یہ ایک فرضی امکان کے حوالے سے گفتگو ہے لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ ضمنی انتخابات کا معرکہ نواز لیگ بآسانی سر کر لے گی اور یاد رکھیں کہ جو لوگ ابھی سے دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں کیا وہ الیکشن ہارنے کے بعد سکون سے بیٹھ جائیں گے جبکہ حالت یہ ہے کہ ان کی حکومت آئینی طریقے سے ختم کرنے کے دوران اور بعد میں انہوں نے ملکی سیاست میں کس حد تک منفی کردار ادا کیا ہے یہ تو شکر ہے کہ عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا ورنہ اس وقت سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی بحران کا حجم اس حد تک وسعت اختیار کر چکا ہوتا کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلتا۔ وہ جو سازش اور غداری کے بیانیہ کا شور تھا وہ تو تھم چکا ہے اس لیے ملک میں انتشار اور سیاسی عدم استحکام کے لیے خان صاحب کو اب کسی نئے بیانیہ کی ضرورت ہے اور ضمنی انتخابات کے نتائج کی شکل میں ان کے ہاتھ ایک ہتھیار آ جائے گا جس کو لانگ مارچ کی طرح عوامی پذیرائی تو نہیں مل سکے گی لیکن سوشل میڈیا پر کھپ ڈال کر کچھ دن اپنے دل کا رانجھا ضرور راضی کر لیں گے لیکن دوسری جانب نتائج نواز لیگ کے حق میں آنے کی صورت میں حکومت کو ایک نئی توانائی، اعتماد اور اخلاقی برتری حاصل ہو جائے گی اور وہ بتدریج جارحانہ انداز میں اپنی پیش قدمی شروع کر دے گی اور اس کے بعد تحریک انصاف اور اس کے حامی میڈیا کے لیے موجودہ رویہ جاری رکھنا شاید ممکن نہیں رہے گا اور مشکل معاشی فیصلوں کے بعد 150 روپے آئل اور گھی کی قیمتوں میں کمی کے بعد اگر 15 جولائی کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی کم ہو جاتے ہیں تو آنے والے دنوں میں معاشی کے ساتھ ساتھ ان شاء اللہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.