عید قرباں اور نئی منطق

31

دوستو،آج عیدالاضحی ہے، آپ سب کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ۔۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا: بقرعید کے دن قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں ہے اور بلاشبہ قربانی کرنے ولا قیامت کے دن اپنی قربانی کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (یعنی یہ حقیر اشیاء بھی اپنے وزن اور تعداد کے اعتبار سے ثواب میں اضافے کا سبب بنیں گی اور (یہ بھی) فرمایا کہ بلاشبہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے،لہٰذا خوب خوش دلی سے قربانی کرو۔ (مشکوٰۃ)حضرت زیدبن ارقمؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسولﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابہؓ نے عرض کیا، ہمارے لیے اس میں کیا ثواب اور اجر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا، اگر اون والا جانور ہو (یعنی دنبہ ہو جس کے بال بہت ہوتے ہیں) اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کے بھی ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ (مشکوٰۃ)
مہنگائی کا جوحال ہے ایسے حالات ہوگئے کہ کچھ لوگ چاہنے کے باوجود سنت ابراہیمی پر عمل نہیں کرپائیں گے۔ جو گھرانے جانور نہیں خرید سکے وہاں خاموشی ہے، چپ ہے، دکھ ہے۔ آپ اس سلسلے میں بس اتنا کیجیے کہ بلاوجہ دوستوں رشتہ داروں سے قربانی کے بارے میں مت پوچھتے پھریں، کسی رشتے دار سے فون پر بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں۔گلی سے گزرتے بچے سے بھی مت پوچھیں قربانی کے لیے کیا لیا؟ نہ ہی یہ جتانے کی ضرورت ہے کہ آپ نے کتنے ہزار یا لاکھ کا جانور لیا۔ سنت پوری کریں، دکھاوا ضروری نہیں۔۔ کس مسلمان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ اپنے ہاتھ سے قربانی کرے، اکثر کے مالی حالات اجازت نہیں دیتے۔ حیرت انگیز طور پر ہر بقرعید سے قبل سوشل میڈیا پر کچھ ایسی چیزیں سامنے آجاتی ہیں جس میں لبرلز قربانی کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں، جتنے کا جانور آتا ہے، یتیم بچیوں کی شادیاں کرادو، کبھی کوئی کہتا ہے کہ اپنے دوست کے گھر گیا تو دیکھا اس کے بچے بغیر بجلی کے گرمی میں تڑپ رہے تھے اسے جانور کی خریداری کے رکھی رقم دے آیا، کوئی پانی کا کولر لگانے سے متعلق کہتا ہے۔۔کوئی انہیں سمجھا دے کہ ایک نیکی کا شوق دلانے کا کوئی طریقہ نہیں کہ دوسری نیکی چھڑوا دیں۔ اب واٹر کولر اور جنریٹر لگوانے کو قربانی ترک کرنے سے جوڑ رہے ہیں۔ گرمی کے چھ مہینوں میں سے آپ کو صرف ذی الحجہ کے دس دنوں میں ہی غریب کی گرمی نظر آتی ہے! جنہوں نے قربانی کرنی ہوتی ہے، وہ سارا سال جنریٹر اور واٹر کولر کا صدقہ بھی نکالتے ہیں اور اشتہار بھی نہیں لگاتے۔ اور جنہوں نے نہیں کرنی ہوتی، وہ فرضی کہانیوں کے رستے ذی الحجہ میں واٹر کولر اور جنریٹر صدقہ کرنے کے خوب اشتہار لگاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔
ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ کیا جس میںکہتے ہیں کہ ۔۔جانور قربان کریں، سفید پوش طبقے کے جذبات نہیں۔میں قربانی کا جانور لینے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ فیس بک پر ایک لبرل صاحب نے پوسٹ ماری ہوئی تھی کہ میں قربانی نہیں کروں گا بلکہ ان پیسوں سے واٹر کولر خرید کر گھر کے باہر لگاؤں گا۔۔جب وجہ پوچھی تو فرمایا۔۔ غریب آدمی کو قربانی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا مگر میرے کولر سے غریب ٹھنڈا پانی پئیں گے۔۔ اچھا، توپھر یہ بتائیں ہم قربانی کا جانور لینے منڈی پہنچے ، منڈی میں چارہ بیچنے والا کون؟جانوروں کی سجاوٹ کی اشیا بیچنے والا کون؟؟جس بیوپاری سے جانور خریدا وہ بھی ایک غریب تھا جسکا ذریعہ معاش جانور بیچنا تھا، کہہ رہا تھا اس بار ان پیسوں سے بیٹی کی شادی کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔گرمی بہت تھی،مویشی منڈی کے باہر جوس شربت اور ٹھیلوں والے اپنی جیبیں گرم کر رہے تھے کیونکہ لوگ گلاسوں پہ گلاس پی رہے تھے یہ بھی غریب لوگ تھے جنکی بکری ہو رہی تھی۔ہم نے ایک لوڈر رکشا میں جانور لادا، رکشے والا بھی غریب بندہ اس بیچارے کو بھی روزی مل گئی۔۔گھر آئے تو جانور کا چارہ یاد آیا وہ بھی ایک غریب سے خریدا عید والے دن قربانی بھی ایک قصائی نے کی جو کہ غریب آدمی اس نے ایک دن میں اچھا خاصا کما لیا۔آخر گوشت کے تین شرعی حصے کئے اور تیسرا حصہ کئی غربا میں تقسیم کیا جن کو سارا سال گوشت میسر نہیں آیا۔ قربانی کی کھال ایک مدرسے کو ہدیہ کی جہاں غریب بچوں کو مفت کھانا اور رہائش ملتی ہے۔۔کولر، جنریٹر اور یتیم بچیوں کی شادیوں والے احباب دیکھ لیں، میرے ایک جانور نے کتنے غریبوں کو معاشی فائدہ پہنچایا؟ ۔قربانی حکم خدا ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں۔۔
اب آجائیں قربانی کی وجہ سے ملک کا معاشی پہیہ کیسے چلتا ہے؟ گزشتہ سال تقریبا 35 لاکھ گائیں قُربان کی گئیں، جن کی مالیت کا تخمینہ 180 ارب روپے، 80 لاکھ بکرے جن کی مالیت کا اندازہ قریبا  100 ارب روپے، 8 ارب روپے کے دُنبے اور 80 ہزار اونٹوں کی قربانی کی گئی جن کی مالیت کا اندازہ بھی قریبا 5 ارب کے قریب  لگایا جاتا ہے۔ جانوروں کے لانے اور لے جانے کے کرائے کی مد میں 5 ارب روپے خرچے گئے جبکہ اندازہ 10 ارب روپے کی کھالیں فروخت کی گئیں۔ عید الفطر کی نسبت عیدقربان پر لوگوں کی توجہ شاپنگ کی طرف کم ہوتی ہے لیکن پھر بھی بازاروں میں سوارب روپے کی شاپنگ کی گئی، جس میں خصوصی طور پر، کپڑوں، جیولری، جوتے، کاسمیٹکس اور دیگر مصنوعات کی خرید و فروخت کی گئی۔ اگر عید الاضحی پر خرچ کی جانے والی کل رقوم کا اندازہ لگایا جائے تو یہ چارسو ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہیں۔ کیٹل فارمنگ سے ہماری درجنوں انڈسٹریز چلتی ہیں، اس سے لیدر انڈسٹری چلتی ہے، اس سے ہماری کیٹل فیڈ کی انڈسٹری چلتی ہے، کیٹل فیڈ میں کوئی 2 درجن اجناس استعمال ہوتی ہیں ہر جنس کی اپنی ایک الگ انڈسٹری ہے، ان اجناس کی خرید و فروخت سے غلہ منڈی میں اربوں کا بیوپار ہوتا یے، کھاد، بیج، ہل، ٹریکٹر سے متعلقہ ساری صنعتوں کا پہیہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ اسکا معاشرتی پہلو تو ہے ہی کہ قربانی میں آپکی فیملی،، آپکے عزیز و اقارب، اور غرباء و مساکین کے تین برابر حصے ہیں۔ ہر مسلمان ایسے ہی قربانی کرتا ہے، اور اسکا گوشت ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، ایک بوٹی بھی ضائع نہیں ہوتی۔ اس گوشت پر ہماری سوشل گیدرنگز ہوتی ہیں، ہیومن ویلفیئر کا کام ہوتا ہے۔ یہ ڈھور ڈنگر،بچھڑے اپنے فارمر سے لے کر ٹرانسپورٹیشن، خوراک سے لے کر کسان، اور فارم سے لے کر اسکی مینٹیننس اور لیبر تک کروڑوں لوگوں کا روزگار چلاتے ہیں۔ اس معاشی سرگرمی سے یہ سرمایہ دولت کے مراکز سے نکل کر انڈسٹری، مارکیٹ، اور پھر گاؤں گاؤں کھیتوں میں کھلتی کونپلوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اس عیدپر صرف جانور ہی قربان مت کریں، اپنی ضد،انا،حسد کو بھی قربان کیجئے، نیت صاف رکھیں تاکہ قربانی قبول ہو جائے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔ عیدمبارک۔۔

تبصرے بند ہیں.