سُوئے حرم: ’’یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘‘

7

آقائے دو جہاں رسالت مآب آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبۂ حج 10 ذوالحج سن 10 ہجری بمطابق 623 عیسوی کومیدان عرفات میں مسلمانوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تمہارے خون تمہاری جائیدادیں اور مال اور تمہاری عزتیں اتنی ہی مقدس ہیں جتنا یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر سب کے لیے مقدس ہے۔ یہ ایک طویل خطبہ تھا جو اسلام کے ایک مکمل چارٹر کا احاطہ کرتا تھا اگلے حج سے پہلے آپؐ کا وصال ہو گیا اور یہ تاریخی خطبۂ حج آپؐ کا آخری خطبہ ثابت ہوا جس کے ساتھ ہی قرآن پاک کی آخری آیات نازل ہوئیں کہ اے محبوب ہم نے آج تم پر تمہارا دین مکمل کر دیا۔
اسی خطبہ میں مکہ المکرمہ کے جس تقدس کی بشارت دی گئی تھی اس کی سچائی آج تک قائم ہے اور اس شہر اور اس خطے پر اللہ رب العزت نے ساڑھے چودہ سو سال (1443) گزرنے کے بعد بھی اپنی نعمتیں تمام کر رکھی ہیں۔ آپ دنیاوی طور پر دیکھ لیں اس وقت پوری دنیا مہنگائی اور سکڑتے ہوئے معاشی وسائل کی لپیٹ میں ہے لیکن سعودی عرب کی آمدنی میں تیل کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے کی وجہ سے دن دگنا اور رات چوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
لیکن سعودی حکومت کی طویل مدتی تشویش یہ ہے کہ ایک ایسا وقت ضرور آئے گا جب ان کے تیل کے چشمے خشک ہو جائیں گے لہٰذا ان کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ خطہ کیسے sruvive کرے گا۔ یہ محض ایک علمی بحث ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگلے 100 سال میں ایسا کوئی امکان نہیں سعودی عرب میں تیل کی دریافت کو 90 سال ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں تیل کی یومیہ پیداوار میں سالہا سال سے اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں ہوئی۔
سعودی عرب میں 2015ء میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ولی عہد محمد بن سلمان کی ویژن کے مطابق 2030ء تک ملک کی معیشت کو diversify کرنے کا پروگرام دیا تا کہ ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم کیا جائے حالانکہ سعودیہ ہر سال تیل کی فروخت سے ٹریلین ڈالر کما رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب کے سارے ذرائع آمدنی خشک ہو جائیں تو پھر بھی ایک ذریعہ ایسا ہے جو معیشت کو گرنے نہیں دے گا اور وہ ہے حج اور عمرے سے ہونے والی آمدنی جو کرونا سے پہلے تک سالانہ 30 بلین ڈالر کا ریو نیو دیتی رہی ہے اسے معاشی زبان میںwindfall کہا جاتا ہے یعنی ایسا
کاروباری منافع جس میں آپ کچھ کیے بغیر ہی بیٹھے بٹھائے مستفید ہو جاتے ہیں۔ 30 بلین ڈالر تقریباً 100 بلین سعودی ریال بنتے ہیں جو کہ ایک غیر معمولی رقم ہے۔ حج اور عمرہ مذہبی ٹورازم کے زمرے میں آتا ہے اور دنیا بھر میں یہ دنیا کا واحد سیاحتی مرکز ہے جس کی مارکیٹ 2 بلین مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا 2015 ء کاویژن یہ تھا کہ حج اور عمرے سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی میں اضافہ کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی کہ ہر سال دنیا بھر سے کم از کم 20 لاکھ افراد فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ آتے ہیں۔ اس وقت حج کے انتظامات اور سہولیات میں توسیع کی جائے اور اس کی گنجائش کو 20 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ کیا جائے تو حکومت کی آمدنی 30 بلین سے بڑھ کر 50 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گی اس سلسلے میں 21 بلین ڈالر منصوبے پر کام کا آغاز کیا گیا اور توسیع یا expansion کا یہ عمل تیزی سے جاری ہے جو 2030 تک مکمل ہو گا۔ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ توسیعی منصوبہ سعودی معیشت کے تنوع کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ محمد بن سلمان یہ سمجھتے ہیں کہ تیل کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کا کاروباری مقابلہ بہت سے ممالک کے ساتھ ہے لیکن حج ایسا کاروبار ہے جس میں سعودی عرب کے مدمقابل کوئی اور حریف موجود نہیں ہے گویا اس پر سعودی عرب کی اجارہ داری ایک خدائی نعمت ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 2 سال سے کووڈ کی وجہ سے سعودی حکومت کی آمدنی میں کئی بلین ڈالرکی کمی آئی ہے لیکن یہ ایک غیر معمولی صورت حال کی وجہ سے ہوا ہے۔ آج بھی دنیا کے 200 کروڑ مسلمان حج اور عمرے کو لائف ٹائم چانس اور مقدر سے تعبیر کرتے ہیں۔
جب تک دنیا میں مسلمان موجود ہیں وہ حج یا عمرے پر پہنچ سکیں یا نہ پہنچ سکیں لیکن یہ بات طے ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں مکہ اور مدینہ کی بے پناہ عقیدت کو نہیں نکالا جاسکتا۔ اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی آسمان سے باتیں کرتے بلند و بالا عمارات نے حدود حرم کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور ان میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ سعودی شہریوں کو ملازمت حج اور عمرہ کے کاروبار کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اس کے علاوہ سرکاری آمدنی کے ساتھ ساتھ مقامی کاروبار اور خرید و فروخت سے جو سعودی شہریوں کو فائدہ ہو رہا ہے وہ الگ ہے صرف ایک لگژری سٹائل وی آئی پی اپارٹمنٹ بلڈنگ مکہ رائل کلاک ٹاور جو حرم کے سامنے واقع ہے وہاں ایک suite کا کرایہ 4000 ڈالر ہے یہ بڑی بڑی تمام عمارتیں زیادہ تر سعودی حکومت کا حصہ بھی ہونا چاہیے لہٰذا روواء الحرم المکی پراجیکٹ کے نام سے ایک سرکاری عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا ہے جو خانہ کعبہ سے ایک میل کے مسافت پر ہے اس میں 70 ہزار ہوٹل رومز اور9 ہزار رہائشی یونٹ ہوں گے جس سے سعودی حکومت کو ہر سال 10 بلین ڈالر کی آمدن حاصل ہو گی۔
سعودی حکومت نے اپنے منافع میں اضافہ کے لیے ایک نیا پروگرام ’’مطوف‘‘ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت حج اور عمرہ زائرین بغیر ٹریول ایجنسی سے رابطہ کیے براہ راست امیگریشن پراسیس کر سکیں گے اس مقام سے دنیا بھر کے حج اور عمرہ ٹریول ایجنٹ فارغ ہو جائیں گے اور ان کا کمیشن بھی سعودی حکومت کی جیب میں براہ راست چلاجائے گا۔
جب تک مسلمانوں کے اندر مذہبی جذبات اورمکہ اور مدینہ جانے کی خواہش زندہ ہے سعودی معیشت کوکسی بھی معاشی چیلنج سے کوئی خطرہ نہیں لیکن سعودی حکومت کا اخلاقی اور مذہبی فرض ہے کہ وہ اپنے منافع میں کمی پر رضا کارانہ عمل کریں اور حج اور عمرہ کی قیمت میں ہر سال ہونے والے اضافہ کو نہ صرف روکیں بلکہ اس میں کمی لائیں اس سے انہیں ثواب بھی ملے گا اور منافع بھی بڑھے گا۔

تبصرے بند ہیں.