دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

28

کپتان کے حواری اور کچھ مخصوص اینکر متواتر یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ کپتان جھوٹ نہیں بولتا۔ کہا گیا کہ 9 اپریل 2022ءکو وزیرِاعظم ہاؤس خالی کرتے وقت اُس نے صرف ایک ڈائری اُٹھائی اور نکل گیا۔ قومی دولت کا اتنا خیال کہ سڑک سے پانی کی آدھی بوتل بھی اُٹھا لی کہ وہ اِسے بھی ضائع کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ یہ شور بھی اُٹھا کہ اُس کے مُنہ میں کبھی لقمہ حرام نہیں گیا۔ ایک کاسہ لیس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کپتان عشاءکے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتا ہے۔ اُس کی صداقتوں اور امانتوں پر پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے مہرِتصدیق ثبت کر رکھی ہے۔ ہاتھ میں ہمہ وقت تسبیح تھامے رکھنے والے عمران خاں کو مہاتما کا درجہ دینے والوں کا دھیان کبھی اُس کی خامیوں کی طرف نہیں گیا۔ اُنہوں نے کبھی سوچا تک نہیں کہ جو شخص قدم قدم پر نہ صرف یوٹرن لیتا ہے بلکہ یوٹرن نہ لینے والوں کو احمق قرار دیتا ہو، اُسے ایک سچا اور کھرا انسان کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بجا کہ اُس نے سڑک سے پانی کی آدھی بوتل اُٹھا لی کہ پانی ضائع نہ ہو لیکن یہ بھی تو غلط نہیں کہ اُس نے ساڑھے تین سالوں میں بنی گالہ سے وزیرِاعظم ہاو¿س تک صرف ہیلی کاپٹر پر 98 کروڑ روپیہ صرف کر دیا۔ یہ بھی ثابت ہو چکا کہ اُس کے دَور میں 27 ہزار ایک سو ارب کے پوشیدہ اخراجات ہوئے جن کا بجٹ دستاویز میں نام ونشان تک نہیں۔ اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ محض اپنی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے اُس کے دَور میں 45 ارب ڈالر تجارتی خسارہ ہوا، 5 ہزار 5 سو ارب بجٹ خسارہ اور 18 ارب جاری کھاتوں کا خسارہ ہوا تو پھر بھی توشہ خانہ کے تحائف کی فروخت، فرح گوگی کی کرپشن اور ملک ریاض کو 40 ارب روپے کی واپسی کو کِس خانے میں فِٹ کریں گے؟۔
صادق وامین کا اعلیٰ ترین عدالت سے تمغہ حاصل کرنے والے عمران خاں پچھلے 12 سالوں سے چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی صدائیں بلند کرتے رہے لیکن جب حکومت سے نکالے گئے تو پتہ چلا کہ اُنہوں نے قوم کو لنگرخانوں پر لگا کر خود توشہ خانے پر ہاتھ صاف کر دیا۔ اُنہوں نے صرف گھڑیاں ہی نہیں تحفے میں ملنے والے کَف لنکس اور قلم تک بیچ ڈالا۔ جس پاکستانی دوکاندار کو یہ چیزیں فروخت کی گئیں، وہ بھی سوچتا ہوگا کہ کِس وزیرِاعظم سے پالا پڑا ہے۔ بے شرمی کی انتہا یہ کہ وہ کہتا ہے ”میرے تحفے میری مرضی“، حقیقت مگر یہ نہیں۔ بیرونی ممالک سے ملنے والے تحائف قوم کی امانت ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی صورت فروخت نہیں کیا جاتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس گُل حسن نے فرمایا ”جو بھی تحفہ دیا جاتا ہے وہ آفس کا ہوتا ہے گھر لیجانے کے لیے نہیں۔ تحائف صرف ملتے ہی نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس سے بیرونی ممالک کے سربراہان کو بھجوائے بھی جاتے ہیں“۔ جسٹس صاحب نے حکم دیا کہ جو لوگ تحائف اپنے گھر لے گئے، اُن سے واپس لیے جائیں۔ کپتان تو سارے تحائف بیچ کر ڈکار گیا۔ اب اِن کی واپسی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اِس کے علاوہ بھی اِن ساڑھے تین سالوں میں جو کرپشن کی گئی، اُس کے مسلمہ ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ اب عنقریب خاںصاحب کے ”کارناموں“ کی آڈیوز اور ویڈیوز سامنے آنے والی ہیں۔ اِن آڈیوز اور ویڈیوز کی فرانزک بھی ہو چکی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب خاں صاحب اور اُن کے حواریوں کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی بنیاد 25 اپریل 1996ء کو رکھی گئی۔ عمران خاں اِس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔ انصاف، انسانیت اور خودداری اِس جماعت کا نعرہ ہے۔ خاں صاحب نے متعدد بار کہا کہ اُنہوں نے 22 سالوں تک جدوجہد کی۔ یہ عین حقیقت ہے کہ اُنہوں نے 22 سالوں تک جدوجہد تو ضرور کی لیکن ملک وقوم کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کے لیے۔ اُنہیں ابتدا ہی میں ادراک ہو گیا تھا کہ اگر اُنہیں اقتدار تک پہنچنا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کا دامن تھامنا ہوگا۔ اُن کی ساری جدوجہد اسٹیبلشمنٹ کے گرد ہی گھومتی رہی۔ آئی ایس آئی کے جنرل حمید گُل مرحوم اِس جماعت کا ابتدائی خاکہ تیار کرنے والوں میں سے تھے۔ پرویزمشرف کے ”کُو“ کے بعد عمران خاں اُس کے جذباتی حامی بن کر سامنے آئے۔ پرویزمشرف کے ریفرنڈم میں وہ گلی گلی اُس کی حمایت میں تقریریں کرتے پائے گئے۔ خاںصاحب کا خیال تھا کہ 2002ءکے عام انتخابات کے بعد پرویزمشرف اُنہیں وزیرِاعظم کی کرسی سونپ دے گا۔ شاید ایسا ہو بھی جاتالیکن اِن انتخابات میں خاںصاحب کے حصّے میں اُن کی اپنی اکلوتی سیٹ ہی آئی اور پورے پاکستان میں تحریکِ انصاف نے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ پھر خاں صاحب پرویز مشرف سے بددل ہو کر پیچھے ہٹے ضرور لیکن اسٹیبلشمنٹ سے ناطہ نہیں توڑا۔
تحریکِ انصاف کو عروج اکتوبر 2011ءکے مینارِپاکستان کے جلسے سے ملا۔ یہ واقعی ایک عظیم الشان جلسہ تھا لیکن اِس جلسے کے پیچھے ساری تگ ودَو شجاع پاشا کی تھی۔ شجاع پاشا نے قدم قدم پر عمران خاں کا ساتھ دیا اور الیکٹیبلز کو تحریکِ انصاف میں شرکت پر مجبور کیا لیکن اِس کے باوجود بھی 2013ءکے عام انتخابات میں بھی خاںصاحب کے حصّے میں محض چند سیٹیں ہی آئیں۔پھر یہ طے ہوا کہ خاںصاحب جلوس کی شکل میں اسلام آباد جا کر دھرنا دیں گے اور میاں نوازشریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔ عمران خاں اپنے سیاسی کزن طاہرالقادری کی ہمراہی میں اسلام آباد پہنچے اور ڈی چوک پر ڈیرے جما لیے۔ اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے میاں نوازشریف کو دھمکی دی کہ اگر اُنہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو عمران خاں اور طاہرالقادری اُن کا بُرا حشر کر دیں گے۔ پھر میاں نوازشریف کے ہاتھ ایک آڈیو لگی جس میں دھرنے کی سازش کے تانے بانے بُنے گئے تھے۔ میاں نوازشریف نے وہ آڈیو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو دی جنہوں نے فوری طور پر ظہیرالاسلام کو بلا کر وہ آڈیو سنائی۔ ظہیرالاسلام نے تصدیق کی کہ آڈیو میں آواز اُنہی کی ہے۔ اُس وقت تو یہ معاملہ دَب گیا لیکن 26 جون 2022ءکے جنرل ظہیر الاسلام کے خطاب نے یہ پنڈورا بُکس پھر کھول دیا۔ اُنہوں نے اپنے خظاب میں کہا ”ہم نے مختلف پارٹیوں کو ٹرائی کیا۔ ہم نے ایک تیسری فورس پی ٹی آئی کو منتحب کیا۔ ہمیں لگا کہ یہ ڈلیور کر سکتی ہے“۔ جنرل صاحب نے یہ خطاب پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے ایک اُمیدوار کی کارنر میٹنگ میں کیا۔ جس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ خاںصاحب کو شیروانی پہنانے والے ہاتھ اسٹیبلشمنٹ ہی کے تھے۔ وہ بقول چودھری پرویز الٰہی ساڑھے تین سال تک نیپی باندھے اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی سیاست کی الف بے تک سے واقف نہیں۔ منتقم مزاج اور نرگسیت کے شکار عمران خاں نے سیاست سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ جس نرسری میں پلے بڑھے، وہاں صرف حکم دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خاں کبھی بھی اپنی انانیت کا بُت توڑ نہیں سکے۔ اُنہوں نے اپنا سارا زور اپوزیشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے پر صرف کیا اور جب اُنہیں یقین ہو گیا کہ اُن کی حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے تو پھر ایسا کر گئے کہ جس کی توقع کسی محبِ وطن رَہنماءسے تو ہر گز نہیں کی جا سکتی۔ شیخ رشید نے اعتراف کیا ” عمران خاں کو چار ماہ پہلے ہی آئی بی نے بتا دیا تھا کہ اُس کی حکومت ختم ہونے والی ہے اِس لیے اُس نے آنے والی حکومت کو ناکام کرنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ اُس نے معیشت تباہ کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیلا“۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص انتقام میں اتنا اندھا ہو جائے کہ اُسے ملک کی پرواہ رہے نہ قوم کی، اُسے رَہنماءکیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں کچھ احوال حکومتِ پنجاب کا۔ لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رُکنی بنچ نے فیصلہ دیا کہ یکم جولائی کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوبارہ ووٹنگ کی جائے۔ اِس فیصلے کو تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور شائد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ ہوا کہ سپریم کورٹ نے کسی آئینی یا قانونی ضابطے کے بغیر مصالحت کنندہ کا کردار ادا کیا۔ اب حمزہ شہباز 22 جولائی تک وزیرِاعلیٰ پنجاب رہیں گے اور وزارتِ اعلیٰ کا انتخاب بھی 22 جولائی ہی کو ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.