رشوت ایک معاشرتی ناسور

7

دینِ اسلام جہاں حلال ذرائع سے رزق کمانے کی تعلیم دیتا ہے وہیں حرام ذرائع سے اجتناب کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ رشوت اور کرپشن ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ یہ پاکستانی معاشرے میں ناسور کی طرح سرایت کر چکی ہے۔ رشوت سے مراد وہ مال ہے جو کسی کے حق کو باطل کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔ نبی کریمﷺ کے ارشاد کے مطابق رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیﷺ وہ ذات ہیں جنہوں نے اپنے دشمنوں کے حق میں بھی دعائے خیر کی اس ذات اقدسﷺ کا کسی شخص پر لعنت بھیجنا معمولی بات ہرگز نہیں۔ فرمانِ باری تعا لیٰ ہے ’’اور تم ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) نا جائزطریقے سے کھا سکو حالاں کہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔ اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت میں دیا جانے والا مال حلال، چاہے دینے والا اپنا کام نکلوانے کی غرض سے دے رہا ہو حرام ہے۔ رشوت انسانی معاشرے کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور مہلک مرض ہے۔ جس معاشرے میں رشوت، کرپشن اور سود عام ہو جائے، اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بے لگام پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رشوت کے لیے ایک خاص  لفظ ’’السحت‘‘ کا استعمال کیا ہے ۔ السحت کے لفظی معنی کسی چیز کو جڑ سے کھود کر برباد کر دینے کے ہیں۔ رشوت صرف اپنے لینے اور دینے والے
کو ہی برباد نہیں کرتی بلکہ پورے ملک و ملت کی بنیاد اور وہاں کے امن و امان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ جس معاشرے میں رشوت کا بازار گرم ہو جائے وہاں کا قانون معطل ہو کر رہ جاتا ہے، اور اگر قانون معطل ہو جائے تو نا کسی کی جان محفوظ رہ سکتی ہے، نا آبرو اور نا ہی مال۔ پاکستان میں ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کو کرانے کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے، پھر چاہے وہ جائیداد کے کاغذات حاصل کرنے ہوں یا بجلی، گیس کے زائد بل ٹھیک کرانا ہوں، یہاں تک کہ عدالت میں بھی کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا اور عوام اپنا کام کرانے کے لیے بحالت ِ مجبوری رشوت دیتے اور لیتے ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ بل گیٹس کو پڑھنا ترک کریں اور حضرت محمدﷺ کی زندگی کو پڑھیں جنہوں نے پوری کائنات کو بدل کر رکھ دیا۔ بزنس ٹائیکون ملک ریاض کے فارمولے کو نا سمجھیں بلکہ رشوت ستانی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ فائلوں کو پہیے نا لگائیں اور احکامات ِ خداوندی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رشوت دینے اور لینے سے اجتناب کریں۔
آج جہاں پورا پاکستان اس وقت رشوت ستانی کی دلدل میں جکڑا ہوا ہے۔ وہیں بہت سے افسران اپنے محکموں کے لیے ایک زندہ مثال ہیں کہ انسان اپنے اندر کی انسانیت، حب الوطنی اور شفیق رویے سے عوام کی داد رسی بخوبی کر سکتا ہے۔ ایسے میں ڈی۔ سی وہاڑی میاں محمد رفیق احسن ہوں، ڈی سی راولپنڈی طاہر فاروق، ڈی سی عمر جہانگیر، محکمہ جنگلات سے جاوید گل۔ صوبائی محتسب پنجاب اعظم خان، ڈی جی اینٹی کرپشن عبدالجبار، سی پی او راولپنڈی سید شہزاد ندیم، ڈی آئی جی سہیل چودھری ہوں یا کامران عادل ان تمام نے اپنے دروازے مظلوم عوام کی داد رسی کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے۔ اور اپنے اخلاق سے عوام کو جو ریلیف دیا وہ اس سے پہلے عوام کے لیے شاید ایک خواب جیسا تھا۔ لیکن ان افسران کے ہوتے ہوئے پاکستان کے عوام یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ سرکاری دفاتر میں رشوت کے علاوہ میرٹ پر عوام کی داد رسی بھی کی جاتی ہے۔ ایسے بہت سے اور افسران بھی ہیں جن کے نام لکھنا ممکن نہیں، لیکن عوام کو بھی چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر قومی اداروں کے ایسے ہمدرد افسران کی مثبت تشہیر بھی ضرور کریں تا کہ پاکستانی معاشرے میں رشوت ستانی کو ختم کرنے میں ان جیسے افسران کی شخصیت کو دیکھ کر رشوت خور عملہ راہ ِ راست پر آ سکے۔ جو لوگ معاشرے کو تباہی کے راستے پر ڈال کر حق داروں کا دل دکھا کر، غریبوں کا حق چھین کر اور ملت کی کشتی میں سوراخ کر کے رشوت لیتے ہیں بظاہر ان کی آمدنی میں خواہ کتنا ہی اضافہ کیوں نا ہو جائے لیکن خوشحالی اور راحت و آسائش روپے کے ڈھیر، عالی شان گھر یا لگژری لائف کا نام نہیں بلکہ دل کے سکون، روح کے اس قرار اور ضمیر کے اس اطمینان کا نام ہے جسے دنیا کے کسی بھی بازار سے کسی مول بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ رشوت کا گناہ شراب نوشی اور بدکاری سے بھی کئی درجے زیادہ سنگین ہے کہ شراب نوش اور بدکار شخص اگر صدق دل سے توبہ کر لے تو وہ اللہ کے ہاں اسی لمحے معاف کیا جا سکتا ہے مگر رشوت کا تعلق چونکہ حقوق العباد سے ہے، اس لیے جب تک وہ ایک ایک حق دار کی رقم واپس نا چکا دے یا اس شخص سے معافی نا طلب کر لے، اس کے گناہ کی معافی کا کسی صورت کوئی راستہ موجود نہیں۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔۔۔ آمین

تبصرے بند ہیں.