عمران خان نے آئی ایم ایف سے کیا معاہدے کیے تھے ؟چونکا دینے والے انکشافات 

120

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں کیے گئے آئی ایم ایف سے کیے گئے وہ معاہدے سامنے آگئے جس کی وجہ سے ہی آج عوام کو مہنگائی برداشت کرنا پڑ رہی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق حکومت  بالاخر عمران خان کی حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے منظر عام پر لے آئی ،حکومت کا کہنا ہے مہنگائی کا اصل ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت ہے ،عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے تباہ کن تھے ۔

ذرائع کے مطابق جولائی 2019 میں پی ٹی آئی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا معاہدہ کیا،آئی ایم ایف کے معاہدے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے اضافے کا معاہدہ بھی شامل تھا،عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف سے پرسنل انکم ٹیکس کے سلیبس بھی کم کرنےپر  دستخط کر چکی ہے۔

معاہدے کے تحت تنخواہ دار طبقے پر چار لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر انکم ٹیکس عائد کرنے کا معاہدہ کیا گیا،کم سے کم ٹیکس شرح کو 1.25 سے بڑھا کر ڈیڑھ فیصد کرنے کی شرط کو تسلیم کیا گیا،ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کے لئے سروسز سیکٹر ، بینکوں اور انشورنس کمپنیوں پر عائد ٹیکس میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا گیا،پی ٹی آئی حکومت نے ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی شرط کوبھی  مانا،سیمنٹ پر دو روپے فی کلو ٹیکس عائد کیاگیا،چینی پر عائد 8 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکرنے کا معاہدہ کیاگیا ،کھانے پینے کے تیل، اسٹیلز اور بڑے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائےگا،کھانے پینے کی پیکڈ اشیا پر  17 فیصد ٹیکس لگانے کو بھی معاہدے میں شامل ہیں۔

تبصرے بند ہیں.