بجٹ، توقعات،خدشات

22

وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 9502 ارب روپے ہے۔ حسب معمول یہ خسارے کا بجٹ ہے۔ اس سال کا خسارہ  3798 ارب روپے ہے۔ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو یہ حکومت مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کو نہایت سنگین معاشی حالات میں ملی ہے ۔عوام الناس کی حالت زار یہ ہے کہ گزشتہ تین ساڑھے تین برسوں سے مسلسل انہیں کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے۔ قومی خزانہ تقریباً خالی ہے۔ جو چند ارب ڈالر کی رقم پڑی ہے وہ دراصل دوست ممالک نے محض "پارک” کر رکھی ہے۔ جسے ہم خزانے میں صرف رکھ سکتے ہیں، استعمال نہیں کر سکتے۔وطن عزیز پر بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی کا شدید دباؤ ہے۔ آئی۔ ایم۔ ایف کا پروگرام معطل ہے۔ نازک معاشی حالات اور سیاسی بے یقینی کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے اندرونی اور بیرونی سرمایہ کا ر پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔اس نازک اقتصادی صورتحال میں وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کیا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ ایسے دگرگوں حالات میں حکومت اور اسکے بجٹ سے ہمیں کچھ خاص امید نہیں تھی۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر قومی معاملات کی طرح بجٹ بھی ہمیشہ سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ جو حکومت بجٹ پیش کرتی ہے وہ اسے بہترین بجٹ قرار دیتی ہے۔کوئی بھی جماعت اپوزیشن میں ہو وہ پیش کردہ بجٹ کو ہمیشہ بد ترین بجٹ قرار دیتی ہے۔ اب بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایک متوازن بجٹ ہے۔ جبکہ تحریک انصاف اسے بدترین بجٹ قرار دے رہی ہے۔  سچی بات یہ ہے کہ معاشیات پر میری معلومات نہایت محدود ہیں۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی بھی مجھے کوئی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں ۔ بجٹ کے حوالے سے بہت سے صحافتی تبصرے اور معاشی ماہرین کے تجزئیے مجھے پڑھنے سننے کو ملے ۔ یہ تبصرے ، تجزئیے بتاتے ہیں کہ موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں حکومت نے ایک متوازن اور مناسب بجٹ پیش کیا ہے۔
بجٹ کا معاملہ یہ ہے کہ ہمارے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ملکی دفاع میں صرف ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کی باری آتی ہے۔ ان دو بڑے اخراجات کے بعد  دیگر اخراجات پر غور کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں حکومت پر وہ محاورہ صادق آتا ہے کہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ اس بجٹ کے کچھ مثبت نکات کی بات کی جائے تو اچھی بات یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ تجویز ہوا ہے۔ پنشن میں البتہ صرف 5  فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس بات کو بھی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے کہ موبائل فون اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔ زراعت کی اہمیت اور کسانوں کی سہولت کے پیش نظر زرعی آلات، بیجوں وغیرہ پر ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ اسی طرح بجلی بحران کے تناظر میں سولر پینلوںپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ تیس اہم ادویات پر بھی ٹیکس ختم کیا جائے گا۔ مڈل کلاس طبقے کی سہولت کے پیش نظر انکم ٹیکس چھ لاکھ آمدن کے بجائے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر لگانے کی تجویز ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس چھوٹ سے کم آمدن والے افراد کی زندگی میں کچھ نہ کچھ سہولت ضرو ر میسر آئے گی۔
تعلیم کے شعبے کیلئے 109 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم کوئی بہت زیادہ نہیں ہے ، لیکن تعلیم کا شعبہ چونکہ صوبوں کے سپرد ہے اس لئے امید ہے کہ صوبائی بجٹ میں بھی تعلیم کے لئے مناسب رقم رکھی جائے گی۔ صحت کیلئے صرف 24 ارب روپیہ مختص کیا گیا ہے۔ یہ رقم بے حد کم معلوم ہوتی ہے۔ لیکن صحت کا شعبہ بھی چونکہ صوبوں کی ذمہ داری ہے اس لئے امید ہے کہ صوبے شعبہ صحت کیلئے زیادہ رقوم مختص کریں گے۔ وفاقی بجٹ میں بچت سکیموں کے منافع پر ٹیکس کی رقم آدھی کر دی گئی ہے ، جس سے یقینا بچت اسکیموں سے مستفید ہونے والوں کو تھوڑا ریلیف ملے گا۔
ان مثبت اشاریوں کے باوجود سچ یہ ہے کہ یہ نہایت محدود اقدامات ہیں۔ ان کی وجہ سے عوام کی زندگی میں کوئی بڑی اور قابل ذکر تبدیلی نہیں آئے گی۔مہنگائی نے عوام کی جو حالت کر رکھی ہے اس کے مقابلے میں یہ اقدامات اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ یہ بھی سنتے ہیں کہ یہ بجٹ آئی۔ ایم۔ ایف کی وضع کردہ ہدایات کی روشنی میں بنایا گیا ہے۔پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی وصولی جیسی تجاویز بھی عالمی ادارے کے کہنے پر شامل کی گئی ہے۔ اس سے یقینا مہنگائی کا ایک طوفان اٹھے گا۔ یہ بھی سنتے ہیں کہ آئی۔ ایم۔ ایف بجٹ کے معاملے میں مزید ہدایات جاری کرے گا۔
بد قسمتی سے پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ نہایت اہم اور حساس معاملات بھی سیاست بازی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ معیشت جیسے اہم معاملے کا بھی یہی حال ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ پاکستان میں ہم مہنگائی اور معیشت کی ابتری کا رونا روتے رہتے ہیں۔ معیشت کی ابتری یقینا ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ بھی ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں مہنگائی کی شدید لہر اٹھی ہوئی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں بھی لوگ بڑھی ہوئی مہنگائی سے بلبلا اٹھے ہیں۔ پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں نے دنیا بھر میں لوگوںکی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی حالات ابتر ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا کی وبا ہے۔ جس نے معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ دوسری وجہ روس اور یوکرائن کی جنگ ہے۔ جس نے پٹرول کی قیمتیں آسمان تک پہنچا دی ہیں۔ پاکستان میں مگر ہم اس کا سو فیصد ملبہ سیاسی مخالفین پر ڈال دیتے ہیں۔
ان حقائق کی اہمیت تسلیم، لیکن کاصل بات یہ ہے کہ پٹرول، بجلی ، گیس اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستانی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ لہٰذا اب حکومت کا فرض ہے کہ عوام کیلئے ریلیف کا انتظام کرے۔ گزشتہ حکومت جو گڑھا کھود کر گئی ہے یا بقول شیخ رشید عمران خان آنے والوں کے لئے جو بارودی سرنگیں لگا گئے ہیں ، ان کے تذکرے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ اپنے اخراجات کنٹرول کرے۔ سادگی اپنائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ فرح گوگی،بشریٰ بی بی، یا  دیگر کی کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے، عوام کا پیسہ ان لوگوں سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے۔ شہباز حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں تھیں۔ لیکن ان دو ماہ میں موجودہ حکومت نے جو فیصلے کئے ہیں اس سے عوام کی توقعات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ مہنگائی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھی ہے۔ لہٰذا اب عوام کو امید کے بجائے خدشات ہیں کہ نجانے آنے والے مہینوں میں انہیں کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ٰؓٓٗ ٰؓٓؓٓٗ
کچھ برس سے ہم دیکھتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ کے بوجود منی بجٹ سارا سال آتے رہتے ہیں۔ نت نئے ٹیکس عوام پر لگتے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آئے روز بڑھتی ہیں۔ اب پی۔ ڈی۔ ایم نے حکومت کا طوق اپنے گلے میں بہ رضا و رغبت ڈالا ہے تو اس کا فرض ہے کہ منی بجٹ کا راستہ روکے اور سارا سال بڑھنے والی مہنگائی پر کنٹرول رکھے۔

تبصرے بند ہیں.