مزید وقت ضائع نہ کریں

7

گوادر سے واپسی پر لاہور کے لیے کراچی ائر پورٹ پہنچا تو پتہ چلا کہ فلائٹ میں ایک گھنٹہ کی تاخیر ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے سب سے قیمتی چیز اس کا وقت ہے۔ اگر دنیا بھر میں وقت ضائع کرنے کا مقابلہ کرایا جائے تو ہم شاید پہلی تین میں سے ایک پوزیشن پر ہوں گے۔ میں نے وقت ضائع کرنے کے بجائے بیگ سے قلم، کاغذ نکالا اور کالم لکھنا شروع کر دیا۔ لکھنے بیٹھا تو خیالات اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ سمجھ سے باہر۔ ملک کے حالات دیکھ کر ایک عجیب سے کڑھتن سی لگی رہتی ہے آج کل، میں جہاں بھی ہوتا ہوں بس ایک فکر ہے کہ اس ملک کا قرض کیسے اترے گا؟ کیا ایسا آئیڈیا ہو جو ہمیں بھنور سے نکال سکے۔ اپنی پوری زندگی میں بہت مشکل حالت دیکھے۔ سخت محنت اور جدوجہد سے اپنی زندگی بنائی۔ یقین کی کیفیت ہر وقت غالب رہی۔ لیکن اب کی بار حالات سے مایوسی نہیں کہوں گا البتہ بے یقینی کا شکار ضرور ہو گیا ہوں ۔ اس نئے پاکستان کے تجربے نے ہمیں کس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب خود کو بار بار تسلی دیتا ہوں کہ رب نے چاہا تو ہم اس مشکل سے بھی نکل آئیں گے۔ میں سوچ رہا تھا کہ حکومت ایسا میکنزم بنائے جس سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا کنسورشیم بن جائے۔ لوکل بزنس مین اپنے وسائل اور فارن بزنس مین کے تجربے سے ملک کی تقدیر بدل دے گا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی مقامی بزنس کمیونٹی کو عزت دینا ہو گی۔ جس طرح باہر سے آئے متوقع انوسٹرز کو عزت دینے کے لیے گاڑیاں ہمارے سربراہان خود ڈرائیو کرتے ہیں۔ ان کے لیے شاندار بگھیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ بینڈ باجوں کے ساتھ سلامی پیش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی ان کی مرضی ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کریں یا نہ کریں۔ یا پھر ناقابل استعمال چند ارب ڈالر دے کر جان چھڑا لیں۔ ہم ایک ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سامنے دو زانو ہو کر ان کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوتے ہیں۔ اپنی خود داری کو جس طرح سے ہم نے داؤ پر لگایا ہوا ہے یقین جانیں سوچ کر ہی ہول اٹھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم مقامی کاروباری حضرات کو آدھی عزت بھی دیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک سے ٹاپ 20 بزنس مینز کا انتخاب کرے۔ اس کے لیے کوئی بڑی کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لسٹ آپ کو گوگل پر مل جائے گی۔ اگر اس میں بھی تردد ہو تو مختلف شعبوں سے وابستہ کامیاب ترین اور اہم ترین نام مع مختصر تعارف پیش خدمت ہیں۔ نشاط گروپ کے میاں محمد منشا سے کون واقف نہیں۔ یہ ٹیکسٹائل اور بینکنگ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بزنس مین ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ ہاشو گروپ کے صدرالدین ہاشوانی ہوٹل انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ان کی خود نوشت ’’سچ کا سفر‘‘ ایک جہد مسلسل، کامیابی اور تجربے کی لازوال داستان ہے۔ جس ملک میں ایسے لوگ ہوں انھیں تو باہر دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ شون گروپ کے ناصر شون اور ان کے بھائی مختصر عرصے میں کیسے کھرب پتی بنے اور ریئل اسٹیٹ کا لینڈ سکیپ ہی تبدیل کر دیا۔ یہ ہوتی ہے اصل تبدیلی۔ حبیب بینک اور انڈس موٹرز کے مالک حبیب رفیق جیسی نابغہ روزگار شخصیت کم ہی قوموں کو نصیب ہوتی ہے۔ اس فیملی نے قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم کو بلینک چیک پیش کیا تاکہ نئی مملکت کو سہارا دیا جا سکے۔ آج یہ ان کا ویژن ہے کہ ان کی کمپنیز مارکیٹ کی سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ میں پچھلے کالم میں ملک ریاض کا تفصیلاً ذکر کر چکا ہوں۔ میں نے اس قدر حیرت انگیز ترقی کرنے والا شخص اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ لیکسن گروپ کے مالک سلطان علی لاکھانی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھیں پاکستان کا بل گیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ 100 سے زائد کمپنیوں کے مالک ہونے کے باوجو اس قدر سادہ، آپ کو ایک لمحے کے لیے محسوس بھی نہیں ہو گا کہ یہ ایک کھرب پتی ہیں۔ یہ کبھی وقت ضائع نہیں کرتے، اپنا نہ آپ کا۔ کیونکہ وقت ہی سب سے قیمتی چیز ہے۔ صرف ایسا نہیں کہ ترقی کا یہ انفرادی سفر صرف لاہور، کراچی جیسے بڑے شہروں کی میراث ہے۔ چناب گروپ کے میاں محمد لطیف کا پنجاب کے چھوٹے سے شہر چنیوٹ سے تعلق ہے۔ نت نئے آئیڈیاز کے ذریعے ٹیکسٹائل اور اپنے چین ون سٹور کے بدولت ان کا شمار پاکستان کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ آواری گروپ کے بریام آواری بڑی شاندار شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ اندرون اور بیرون ملک کئی پانچ ستارہ ہوٹلوں کے مالک ہیں۔ یہ نہایت ملنسار انسان ہیں۔ نئے بزنس آئیڈیاز پر مخاطب کو منٹوں میں قائل کر لیتے ہیں۔ داؤد ہرکولیس گروپ کے حسین داؤد نہایت متحرک اور نظم وضبط کی حامل شخصیت ہیں۔ ایک جانب پاور سیکٹر اور اینگرو کا بزنس سنبھالتے ہیں اور دوسری جانب بزنس کمیونٹی کی نمائندگی، پاکستان میں غربت میں کمی اور داؤد فاؤنڈیشن کے ذریعے فلاحی کام بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان کے تعمیراتی شعبے میں ڈیسکون گروپ کے عبدالرزاق داؤد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ تحریک انصاف حکومت میں یہ بطور مشیر وزیراعظم خدمات دے چکے ہیں۔ لیکن ان کا سکوپ بہت محدود رہا ہے۔ انھیں کھل کر کام ہی نہیں کر نے دیا گیا۔ لاہور سے سید بابر علی کی فیملی پاکستان کا سب سے کامیاب بزنس گروپ ہے۔ یہ لوگ قائد اعظم سے سند یافتہ ہیں۔ یہ ہر وقت ملک
کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے مشکل وقت میں سب سے زیادہ پاکستان کی فکر بیرون ملک پاکستانیوں کو ہے۔ ان میں سے ایک نام شاہد خان کا ہے۔ یہ صرف 16 برس کی عمر امریکہ گئے۔ انتھک محنت اور جدوجہد کی، جس آٹو موٹو کمپنی میں کام کرتے تھے وہ کمپنی ہی خرید لی۔ آج یہ امریکہ کے 46ویں اور پاکستان کے امیر ترین آدمی ہیں۔ یہ امریکہ میں ایک ٹی وی چینل اور فٹبال کلب کے مالک ہیں۔ برطانیہ میں جمیز کان کے نام سے مشہور پاکستانی ناظم خان نے صفر سے اپنی زندگی کا آغاز کیا آج یہ بھی کھرب پتی بن چکے ہیں۔ جیمز کان برطانیہ میں ایک سیلیبرٹی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ رسمی تعلیم حاصل نہ کرنے والا یہ پاکستانی آج ہاورڈ اور آکسفورڈ میں بزنس پر لیکچر دیتا ہے۔ امریکہ میں رہنے والے پاکستانی کنگ ایل وی رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جس پراجیکٹ میں حکومت پیسہ نہیں لگا سکتی یہ وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ کنگ ایل وی کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں جن کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ کامیاب پاکستانیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ میرا کالم ان کے تعارف میں چھوٹا پڑ گیا ہے۔ رفیق رنگون والا، سہگل فیملی، دیوان یوسف فاروقی، ستارہ گروپ کے حاجی عبدالغفور، شیخانی فیملی، عقیل کریم ڈیڈھی، شیرازی فیملی، نذیر فیملی، جہانگیر صدیقی، عبدالرزاق یعقوب سمیت درجنوں پاکستانی ہیں جو ان حالات میں بھی کامیاب ترین ہیں۔ ان تمام افراد کے پیچھے دہائیوں کا تجربہ موجود ہے۔ آج یہ لوگ ایک ایک گھنٹے میں کروڑوں اربوں کا بزنس کرتے ہیں۔ ہمیں ملک کے کونے کونے سے یہ ہیرے چننا ہوں گے۔ اگر حکومت ان کے اس تجربے سے فائدہ لے تو کیا یہ انکار کریں گے؟ میں ان سب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں یہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔ یہ کسی کی انویسٹمنٹ ڈوبنے نہیں دیتے اس لیے لوگ ان پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے وہ صرف سہولت کار کا کردار ادا کرے اور کاروباری فیصلے بزنس کمیونٹی کے حوالے کر دے۔ ان کے فیصلوں کو حرف آخر بنا دیا جائے۔ پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی جائے کہ بیورو کریسی اور عدالتی نظام ہر طرح کی رکاوٹیں ہٹانے کی پابند ہوں۔ سخت معاشی فیصلوں نے عوام کا اہل سیاست پر اعتماد ختم کر دیا ہے۔ فوج، سیاسی پارٹیاں اور دیگر ادارے حکومت کر چکے۔ مزید وقت ضائع نہ کریں۔ ایک بار بزنس کمیونٹی کو آزما کر دیکھیں۔ یہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

تبصرے بند ہیں.