بجٹ 23-2022 اور آئی ایم ایف

13

چند ہفتے پہلے بننے والی اس حکومت نے بجٹ 23-2022 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس بجٹ کے وہ تمام نکات اپنی تقریر میں شامل کیے جس سے کہا جائے کہ مشکل حالات میں یہ ایک بہترین بجٹ ہے۔ بجٹ اعدادوشمار کا ایک گورکھ دھندہ ہے جسے عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے۔ بجٹ دستاویزات سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ بجٹ میں کیا ہے۔حق بات یہ ہے کہ اس حکومت نے عوام کا کچومر نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسے یہ کہہ کر معاف نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں معیشت اس حالت میں ملی تھی کہ ان کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ پھر آپ انہیں یہ بجٹ پیش کرنے دیتے تاکہ وہ ایکسپوز ہوتے۔ اب آپ کی کارکردگی اور اہلیت مشکوک ہو گئی ہے کہ آپ عوام کے لیے کوئی بھی ریلیف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ درآمدی بل کو کم کرنا ہے اور اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ سب سے زیادہ پیسہ تیل کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے کیا آپ نے اس بجٹ میں کوئی ایسے اقدامات دیکھے ہیں کہ ہم کہہ سکیں کہ حکومت تیل کی درآمد کو کم کرنے کی کوئی حکمت عملی تیار کر چکی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ سولر کے آلات پر سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی فری کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کو استعمال کرنے پر آج تک کوئی جامع منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی۔ اس بجٹ میں یہ ضرور ہوا ہے کہ حکومت نے 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو آسان اقساط پر سولر پینل خریدنے کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے چالیس ہزار روپے سے کم آمدنی والے افراد کو 2000 روپے دینے کا اعلان پہلے ہی کر دیا تھا کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان لوگوں کو نقد پیسے دینے کے بجائے سولر پینل دیا جاتا تاکہ وہ فری میں بجلی استعمال کرتے اور بجلی کے شارٹ فال میں کمی کا سبب بنتے۔ میری تجویز یہ ہے کہ آسان اقساط میں سولر انسٹالیشن کی سکیم کی حد کو بڑھا دیا جائے اور اسے 300 یونٹ کر دیا جائے تو اس سے بجلی بچانے میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ تیل کا درآمدی بل بھی کم ہو گا۔ ویسے حکومت بنکوں کے ساتھ مل کر کم شرح سود پر سولر پینلز کی تنصیب کے لیے قرضوں کے اجرا کی موثر منصوبہ بندی کرے۔ بنک کاروں کے لیے قرضے دے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ 6-5 فیصد کی شرح سے سولر پینلز کی تنصیب کے لیے قرضہ فراہم کیا جائے تاکہ لوگ بجلی کا بل بھرنے کے بجائے اس کی آسان قسط دیا کریں۔ یہ کرنے سے بڑی تعداد میں گھریلو اور کمرشل صارفین بجلی خود پیدا کرنا شروع کر دیں گے۔ ایک اوسط آمدنی والے گھرانے کے لیے 5 کلو واٹ کا سسٹم کافی ہوتا ہے جس پر وہ فریج، پانی کی موٹر، پنکھے اور لائٹس کو استعمال کر سکتا ہے۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں زیادہ تر بجلی ہائیڈل کی بجائے تھرمل سے پیدا ہو رہی ہے۔ اس تھرمل بجلی کا جب تک آپ متبادل لے کر نہیں آئیں گے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ رینیوایبل انرجی کو سسٹم میں لا کر ہم اپنی بہت سی مشکلات کو دور کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ونڈ انرجی کے لیے پاکستان میں بھی بہت سی جگہیں موجود ہیں جہاں پر ونڈ ملز لگا کر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔تھرمل کو ہائیڈل، ونڈ اور سولر انرجی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سولر اور ونڈ انرجی کے لیے کتنا پیسہ درکار ہے اس کا تخمینہ لگایا جائے۔ مجھے امید ہے کہ ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے برابر اخراجات کرنے سے ہم ایک اچھا متبادل لا سکتے ہیں۔ چین بہت اچھے سولر پینل بنا رہا ہے۔ چین کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر سولر شیٹس کی تیاری کے یونٹ لگائے جا سکتے ہیں۔ اس سے سولر پلیٹس کی ترسیل پر آنے والے اخراجات سے بچا جا سکتا ہے۔ اپنے سائنس دانوں سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس پر تحقیق کریں۔ اگر ہم ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو سولر سیل، ونڈ مل یا اس طرح کے دوسرے یونٹس لگانا کوئی بڑی سائنس ہرگز نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ اس حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق نہیں کیا۔ یہ سارا کیا دھرا پچھلی حکومت کا ہے لیکن آپ نے اپنے اقدامات سے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں کی کہ مشکل کی اس گھڑی میں سب ساتھ ساتھ ہیں۔ بجٹ دستاویز میں کسی جگہ یہ بات نہیں کی گئی کہ آپ نے حکومتی اخراجات کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدامات تجویز کیے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر حکومت نے بم گرا دیا ہے۔ ڈھائی کروڑ کی مالیت سے بڑے پلاٹس پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کو دو گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ ریٹیلر پر ہر مہینے 3 ہزار سے 10 ہزار کا ٹیکس لگانے کی تجویز بھی موجود ہے۔ یہ ایک نیا جگا ٹیکس متعارف ہو گیا ہے جو بجلی کے بل کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔ لالی پاپ دے کر عوام کا گلا گھونٹے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور یہ سارا کچھ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبے پر پٹرولیم کی مصنوعات پر لیوی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس پر بھی حکومت اتفاق کر چکی ہے۔ صرف لیوی کی مد میں حکومت نے 750 ارب روپے اکٹھے کرنے کا پروگرام پیش کیا ہے۔ آئی ایم ایف
کے مطالبے پر عوام کو دی جانے والی 1515 ارب روپے کی سبسڈی کو کم کر کے 699 ارب پر لایا جا رہا ہے۔ یعنی ایک طرف مزید 750 روپے لیوی کی مد میں وصول ہوں گے اور سبسڈی ختم کر کے 800 ارب روپے سے زائد بچائے جائیں گے۔ اتنی بڑی رقم عوام پر وہ ٹیکس ہے جس سے بہت سے لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر ہی حکومت اگلے مہینے سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کرنے جا رہی ہے تاکہ سرکولر ڈیبٹ کو کم کیا جائے۔ اس وقت پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر تک رہ گئے ہیں یہ وہ صورتحال ہے جو ملک کو دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہی ہے۔ افراط زر کی شرح 11.5 فیصد بتائی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ 20 سے 30 کے درمیان چلی جائے گی اور اس کا سارا دباؤ مڈل کلاس پر آئے گا اور خدشہ ہے کہ حکومت کے ان اقدامات کے نتیجہ میں یہ طبقہ مزید سکڑ جائے گا۔ اس معیشت کا یہ حال کیوں ہوا ہے اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ عمران خان کی حکومت نے 700 ارب کے قریب
روپیہ پٹرولیم پر لیوی سے اکٹھا کرنا تھا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا تھا کہ جنوری تک تیل پر 30 روپے لیوی کی مد میں وصول کیے جائیں گے لیکن تیل کی قیمت بڑھنے کے بعد لیوی کو ختم کر دیا گیا۔ آئی ایم ایف نے معاہدے کی خلاف ورزی پر قرضے کو معطل کر دیا۔ عمران خان نے 700 ارب کے بجائے صرف 135 روپے اکٹھے کیے اور جب انہیں علم ہوا کہ وہ جا رہے ہیں تو لیوی کو بالکل ختم کر دیا گیا تاکہ ایک طرف آنے والی حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کو جاری نہ رکھ سکے اور دوسری طرف وہ لیوی اور ٹیکس لگائے تو اپنے ہی بوجھ تلے دب جائے۔
تنخواہ دار طبقے کو ضرور خوش کیا گیا ہے ان کی تنخواہ میں ایک طرف 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دوسری طرف اس طبقے پر ٹیکس کی حد کو 6 لاکھ سے بڑھا کر بارہ لاکھ کر دیا گیا۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا، حکومتی اخراجات میں کمی لانے کے بجائے اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اپوزیشن نے اس بجٹ کو عوام دشمن اور کاروباری طبقے کے لیے قاتل بجٹ قرار دیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس پر کتنے سنجیدہ ہیں۔ مہنگائی ان کا مسئلہ نہیں وہ صرف امپورٹڈ حکومت کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وہ اگر امپورٹڈ حکومت کے نعرے کی بجائے مہنگائی کو اپنی احتجاجی تحریک کا موضوع بنائیں تو ان حالات میں انہیں فایدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف نے بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ ہم دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں لیکن حکومت ٹیکس پر ٹیکس لگا رہی ہے مگر عوام تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ اس ملک کو اس حال میں پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ اس عمران خان کی حکومت نے 71 برس کی حکومتوں کا 80 فیصد قرض لیا ہے کافی نہیں ہے اس کی مکمل تفصیلات عوام تک پہنچانا ضروری ہیں ورنہ عوام سے گالیاں کھانے کے لیے خود کو تیار کریں۔ ملک مشکل میں ہے اور ٹیکسوں سے جمع ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں جا رہا ہے۔ ڈالر کو ہم اگر نیچے لانے میں کامیاب ہو جائیں تو قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہو جائے گی۔ عوام یہ ضرور سوال کرتے ہیں کہ اتنے زیادہ قرضے کس نے لیے اور اس کا مصرف کیا تھے۔ کس کس نے ان قرضوں کو عوام کے لیے استعمال کیا۔ کیا ان قرضوں سے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع ہوئے یا حکومتوں نے قرضے لے کر اپنا مال پانی بنایا اور اب اس کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کا بجٹ کا زیادہ تر حصہ قرضوں کی واپسی اور دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ ان میں کمی نہیں ہو رہی بلکہ اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر تنقید ہو رہی ہے کہ اس بجٹ میں تعلیم اور صحت پر بہت کم پیسہ رکھا گیا ہے تو اس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیم اور صحت اب وفاق کے پاس نہیں ہے بلکہ یہ دونوں شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔
پاکستان کا ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس دے رہا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اسے ٹیکس دے کر بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ ملک کے اندر ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے کہ مشکل وقت میں اس کا کوئی پرسان حال ہو۔ یہ عوام دوست بجٹ نہیں بلکہ آئی ایم ایف زدہ بجٹ ہے جس میں عوام کا خون نچوڑنے کا تمام تر سامان شامل ہے۔

تبصرے بند ہیں.