رہ جاتی ہے چنگیزی

25

ہر بجٹ سیشن میں ایک شعر خوب رگیدا جاتا رہا۔ قرض کی پیتے تھے مے اور کہتے تھے کہ ہاں، رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن! وہ دن بالآخر آن کھڑا ہوا۔ پٹرول نے جو آگ لگائی ہے مہنگائی کو، ساری امیدیں، امنگیں آرزوئیں بھسم کرنے کو کافی ہے۔ امراء گاڑیوں سے اترکر موٹرسائیکلوں، بائیسکل پر آن بیٹھے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹانگوں، ریڑھوں کی نوبت آجائے۔ سبزی کی گدھاگاڑی ہانکنے والوں سے لوگ لفٹ مانگنے پر مجبور ہوں۔ اس فاقہ مستی کے تابوت میں آخری کیل پی ٹی آئی نے ٹھونکا، اور پھر بھگتان انہیں دینا پڑا۔ نکلتے ہی دامن جھاڑکر بری الذمہ ہوکر جمعہ جمعہ چار دن کی حکومت پر ذمہ داری ڈال کر تقاریر پر جت گئے۔ باوجودیکہ ڈالر ان کے ہاتھوں 124 روپے سے 184 پر جا پہنچا۔ 22 ہزار ارب کے قرضے ساڑھے تین سالہ دور میں لے کر ریکارڈ پچھلے توڑے۔ ووٹوں کے چکر میں مشکل فیصلوں سے بچ کر بھاری سبسڈی دیتے رہے اور عوام کو یک بیک معاشی جوار بھاٹے کی مہیب لہروں کا لقمہ بنا ڈالا۔ سیاست دان جانتے ہیں کہ سادہ لوح عوام خطوط کج ریز کی معاشی کہانیوں کے گورکھ دھندوں کو کیا جانیں۔ سو روز کی بنیاد پر گھن گرج کڑک چمک والی تقاریر ہیں اور جذبات کے الاؤ دہک رہے ہیں۔ ان تقاریر سے اور کچھ ہو نہ ہو غیریقینی صورت حال، انتشار، عدم استحکام اس کا فوری نتیجہ ضرور ہے۔ چور مچائے شور کی ساری کہانی ہے۔ 98 کروڑ روپیہ سابقہ وزیراعظم نے ہیلی کاپٹر کے روزانہ سفر پر خرچ کیا۔ زمین پر چلتی گاڑی ان کے شایان شان نہ تھی! اربوں کے قرضے جو اس دور میں لیے ان کا حساب کیا ہوا؟ اپنے کارکنوں میں ہر دور کی طرح بانٹے، ترقیاتی ٹھیکوں کی ریوڑیاں بھی بٹ گئیں۔ کرپشن اسی کا نام ہے کہ حسابات میں شفافیت نہ ہو۔ 22 ہزار ارب قرضے کا حساب دے کر دامن صاف کرلیں تو سبھی نعرہ زن ہوںگے۔ صاف چلی شفاف چلی! بجائے اس کے کہ جب روکا ٹوکا جائے تو واویلا کرتے آسمان سر پر اٹھاکر اقوام متحدہ تک کو آوازیں دی جانے لگیں۔ ملک کے تین ٹکڑے ہونے، ایٹم بم پھاڑ دینے کے ہیجان طوفان برپا کرکے شیخ مجیب الرحمن کا سوانگ بھر لیا جائے۔( شیخ مجیب کے 6 پوائنٹ کی ٹکر پر ان کے 10 پوائنٹ!) فضا کو خوف اور بے یقینی سے دھواں دھواں کردیں۔ خدارا یہ ورلڈ کپ کا میدان نہیں، ملکِ عزیز ہے جس میں 22 کروڑ عوام کے سر ان چوکوں چھکوں سے پھوڑے جا رہے ہیں۔ عمر کے اعتبار سے ستر کے پیٹے میں داخل ہونے والا لیڈر کچھ تو سنجیدہ مدبرانہ رویہ اختیار کرے۔
موجودہ حکومت سخت اور مضبوط ہاتھوں سے وزراء اور اشرافیہ کو کنٹرول کرے۔ پنجاب کے دو وزراء نے پرانی گاڑیاں لینے سے انکار کردیا۔ سیدنا عمرؓ ہوتے تو انہیں برطرف کرتے یا گدھے پر بٹھا دیتے۔ وزراء اپنی گاڑیاں استعمال کریں۔ گیس اور بجلی کے بلوں میں کٹوتی کو تجویز تک محدود نہ رکھیں فوری عمل میں لائیں۔ افسران کو بھی مفت پٹرول بجلی کی عیاشی سے نکالیں۔ جب تک انتہائی غیرمعمولی
کفایت شعاری کے اقدامات حکومتی سطح پر نہ ہوں گے، حالات سنبھلیںگے نہ عوام میں روزافزوں عدم اطمینان اور بے چینی ختم ہوگی۔ افغانستان بدترین مشکل ترین حالات میں پرامن ہے تو وجہ حکمرانوں کا عوام کی سطح سے بھی کمترین وسائل پر رہنا ہے۔ جب وہ اپنے وزیر خارجہ کو بارش، برفباری میں بھی پیدل دفتر جاتے دیکھتے، اور وزراء کو قہوے سے روٹی کھاتے دیکھتے ہیں تو مظاہروں، احتجاج کی حاجت نہیں رہتی۔ حقیقی اسلامی حکومت کی مانند عوام کو سہولت دینا ترجیح اول ہے۔ وی آئی پی کلچر کے خلاف نری دھواں دھار تقاریر نہیں ہوتیں (عمل کی دنیا میں فرعونیت لیے!) وہاں نماز کی صفوں میں: ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وایاز بہ چشم سر دیکھنا دن رات کا معمول ہے۔ نماز کے وقت حکمران باجے نہیں بجا رہے ہوتے! اپنے ماتحت عملے اور ملازموں کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے ہوتے ہیں رب تعالیٰ کی غلامی میں!
امیر کا خادمِ قوم ہونا بھی برسرِزمین وہ دیکھ رہے ہیں۔ سول سرونٹ کی اصطلاح کا ماخذ تو یہی حدیث ہے۔ تاہم ہمارے ہاں سول سرونٹ گاڑی کا دروازہ خود کھولنے اور اپنا بریف کیس تک خود اٹھانے سے معذور ہوتا ہے! ایسے ہی معذورین ملک کو(سودی قرضوں والے) آئی ایم ایف جیسے مہاجنوں کے آگے عوام کو یوں پھینک دیتے ہیں جیسے سفاک بادشاہ بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا کرتے تھے۔ اب آئی ایم ایف، حکمرانوں پر تو کوئی قدغن نہیں لگاتا، ہیلی کاپٹروں، چارٹرڈ جہازوں اور کروڑوں کی گاڑیوں کے اللوں تللوں سے تو نہیں روکتا، عوام کے منہ سے لقمہ چھیننا اور اسے ویگن رکشے سے (کرائے کے ہاتھوں) قیامت خیز گرمی میں اترکر پیدل چلنے پر مجبور کردیتا ہے۔ امراء، روساء، لیڈروں کی قساوتِ قلبی کی کوئی حد تو ہو۔
ہمارے ہاں عوام کے لیے نعرے اسلامی ریاست کے ہوتے ہیں مگر دل میں امریکی بچھڑا بستا ہے۔ جلسے میں امریکی صدر کی سکیورٹی کی مانند کالے سوٹ اور ٹائیوں میں ملبوس نوجوان خیبرپختونخوا کے جلسے میں (شلوار قمیض ماحول میں) نمایاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ابھی قیمتی ترین گھڑی (توشہ خانہ کی امانت) کا تذکرہ چل رہا تھا، قبل ازیں بھی ہیرے کی انگوٹھیوں، ہاروں، قیمتی گاڑیوں کی بازگشت رہی۔ ایسے میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ یاد آتے ہیں۔ آج ہمیں ضرورت ہے انہی جیسے انقلابی رہنما کی جنہوںنے حکومت کی روح بدل ڈالی۔ ان کا کردار امید کی ایک روشن کرن ہے جنہوں نے دنیاوی حکومت کو دوبارہ خلافت بنا دیا۔ ہمارے برطانیہ دبئی برانڈ حکمرانوں کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ عوام پر لادے محاصل جو حکومتیں ذاتی مصرف میں لاتی تھیں، سب بیت المال کو لوٹا کر خزانے مسلمانوں کی بہبود کی طرف پھیر دیے۔ ان کی مدتِ خلافت اس کی عکاس تھی کہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ہادی بناکر بھیجے گئے تھے، تحصیل دار بناکر نہیں۔ عمرؒ قبل از خلافت عوام کی حالتِ زار پر کڑھا کرتے تھے۔ اپنے پاس بے شمار جائیداد دیکھی۔ کچھ میراث میں ملی کچھ تحائف میں۔ بھائیوں کا بھی یہی معاملہ تھا فراوانیوں کا۔ جبکہ اکثر لوگوں کے پاس زمین نہ آمدنی کے ذرائع، نہ گھر کہ ان میں رہیں۔ دیکھا خود کو کہ میں بیش قیمت لباس پہنتا، عمدہ غذا کھاتا اور مہنگی خوشبو استعمال کرتا ہوں۔ جبکہ عوام ننگے پھرتے، فاقے کرتے ہیں انہیں بہ افراط پانی تک میسر نہیں۔ اس پر پہلے اپنی اصلاح شروع کردی۔ خواہشات پر غالب آ گئے، غصے پر قابو پا لیا۔ مطلوبہ اخلاق حاصل کرنے میں جت گئے۔ ترکِ تعیش کیا۔ ایک وقت تھا کہ علی بن جذیمہ کے مطابق بہترین کپڑوں اور خوشبو کی لپٹوں میں اٹھلا اٹھلاکر ناز سے چل رہے تھے اور پھر وہ وقت کہ (سادہ پوش) نہایت عجز وانکساری آچکی ہے۔ خلافت ملتے ہی منبر سے اترکر گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگے۔ امراء اپنی سواریوں پر روانہ ہوئے۔ عمرؒ پیدل ہی گھر پہنچے۔ سب سے پہلے سرکاری سواریاں قطار اندر قطار لائی گئی آپ کے گھر سے نکلنے پر۔ آگے آگے محافظ دستہ کا افسر چل رہا ہے۔ عمرؒ نے یہ کہہ کر سب کو سبکدوش کردیا کہ میں مسلمانوں کی طرح کا ایک مسلمان ہوں مجھے اس سب کی ضرورت نہیں۔ 600 سے زائد سپاہیوں (سکیورٹی والے!) کو برطرف کردیا اور اپنے خچر پر سوار ہوگئے۔ احتساب کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ خچر گھوڑے قناتیں خیمے قیمتی فرش سب فروخت کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ عوام کو مسجد میں اکٹھا کیا منبر پر بیٹھے اور مملوکہ جائیداد کی قومی خزانے کو واپسی اپنی ذات اور اپنے گھر والوں سے شروع کی۔ جائیداد کے کاغذ ٹوکری میں رکھے تھے، عمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ میں قینچی تھی۔ خادم نکال کر پڑھتا گیا۔ حضرتؒ قینچی سے کترتے رہے اور ایک کے سوا (جو کلیتاً اپنی تنخواہ سے خریدی تھی) سب مسلمانوں کو لوٹا دی۔ اس کے بعد اہلیہ فاطمہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ فاطمہ، خلیفہ کی بیٹی، خلیفہ کی پوتی، 4 خلفاء کی بہن اور اب خلیفہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس ہیرے جواہرات تھے۔ کہا کہ یہ مال بیت المال میں واپس کردو یا مجھ سے جدائی اختیار کرلو۔ فاطمہ نے دستبرداری زر وجواہر سے اختیار کرلی اور ہیرے جیسے شوہر کی رفاقت کو ترجیح دی۔ آپ نے صرف اپنی ذات پر اکتفا نہ کیا، (آپ کے بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں تھے، کثیر العیال ہوکر بھی فاقہ کشی کا خوف طاری نہ ہوا۔) اموی خاندان سے بھی گزشتہ چھینے ہوئے اموال قوم کو واپس لوٹا دیے جان کا خطرہ مول لے کر۔ رہی انگوٹھی کی بات تو ایک بیٹے بارے معلوم ہوا کہ اس نے ہزار درہم کی انگوٹھی خریدی ہے۔ اسے فوری سرزنش کا خط لکھا۔ اسے بیچو اور ہزار بھوکے پیٹ والوں کا پیٹ بھر دو۔ دو درہم کی انگوٹھی لے لو اس پر لکھوا لو کہ ’اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے کہ جس نے اپنی اوقات پہچان لی۔‘ سو شاہی خاندان کے پروردہ اللہ کے حضور جوابدہی کے خوف سے اپنی اوقات پر لرزاں وترساں رہے کیونکہ قرآن پڑھ پڑھ کر زار وقطار روتے داڑھیاں تر کرنے والوں میں سے تھے۔ اب نہ داڑھی ہے نہ گریہ نہ خشیتِ الہٰی!
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

تبصرے بند ہیں.