کردار کی بلندیاں

55

ہمارے ہاں حکومتیں بننے بدلنے کے ساتھ ہی بیوروکریسی، عوامی عہدے عدالتی تقرریاں گویا پورے کا پورا سسٹم اقربا پروری کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ابھی عمران نیازی کا دور گزرا۔ ورکرز، جنونی، انوسٹرز پتہ نہیں کدھر رہ گئے فرح گوگی، شہزاد اکبر، جنرل ریٹائرڈ مزمل دیگر ایسے کردار واردات ڈال کر چل دیئے اور تو اور ریٹائر ججز کو نئے کنٹریکٹ لاکھوں کے عوض ملے۔ یہی حالت بیوروکریٹس کی رہی موجودہ حکومت ابھی دودھ کے دانت گرے نہیں تعیناتیاں جاری ہیں۔ ظاہر ہے حکومت چلانے کے لیے وفاداروں کی ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن کاش یہ روش ملک سے وفاداروں کے لیے ہوتی نہ کہ ذاتی وفاداروں کے لیے! آج مفتون دیوان سنگھ کے لکھے گئے چند کردار آپ کی نذر ہیں۔
انگریزی زبان کی کہاوت ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ روپیہ گیا تو کچھ نہ گیا، صحت گئی تو کچھ کچھ گیا، اور کریکٹر گیا تو بہت کچھ گیا۔ یعنی کریکٹر کے مقابلہ میں روپیہ اور صحت کی کوئی حیثیت نہیں، اور اس انسان کو انسان قرار نہیں دیا جا سکتا، جو کریکٹر سے محروم ہو۔ دنیا میں صرف ان ہی لوگوں کی پرستش کی گئی، جو کریکٹر کے اعتبار سے بلند تھے۔ موجودہ دور کے چند لوگوں کا کریکٹر ملاحظہ کیجئے۔
مدھیہ پردیش (ہندوستان) کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر کیلاش نرائن کا ٹجو ذات اور نسل کے اعتبار سے کشمیری پنڈت ہیں، جن کا خاندان الہ آباد (یو پی) میں مقیم ہے۔ ان کے عزیز اور رشتہ دار ہندوستان کے اکثر صوبوں میں رہتے ہیں، کیونکہ پنڈت اور کانستھ آبادی کے اعتبار سے باوجود کم تعداد ہونے کے قریب قریب ہر صوبہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ذہنی اعتبار سے یہ دونوں ہی دوسروں کے مقابلہ پر زیادہ لائق اور ذہین ہیں۔ پنڈت کیلاش نرائن کاٹجو سیاست میں آنے سے پہلے الہ آباد میں ایک کامیاب ترین وکیل تھے، جن کی ماہوار آمدنی کئی ہزار روپیہ تھی۔ سیاست میں آنے کے بعد آپ ہندوستان کی مرکزی پارلیمنٹ کے ممبر ہوئے، پھر ہوم منسٹر اور بعد میں بنگال کے گورنر مقرر کیے گئے۔ مسٹر کاٹجو بنگال کے گورنر تھے، کہ آپ اپنے کسی سرکاری کام کے سلسلہ میں دہلی آئے، اور دہلی سے اپنی بہن کو دیکھنے پانی پت تشریف لے گئے۔ کیونکہ تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں آپ کی بہن کا خاندان پانی پت میں مقیم ہوا۔ آپ پانی پت میں اپنی بہن سے باتیں کر رہے تھے، تو بہن نے اپنے بھائی سے کہا:”میرا داماد (یعنی ڈاکٹر کاٹجو کی بھانجی کا شوہر) تعلیم حاصل کرنے کے بعد اب تک بیکار ہے، اور اسے ملازمت نہیں مل سکی۔ آپ بنگال کے گورنر ہیں، آپ اپنے ہاں بنگال میں یا کسی دوسرے صوبے کے گورنر سے سفارش کر کے اس لڑکے کو کوئی اچھی سے ملازمت دلا دیجئے، تاکہ اس کا مستقبل شاندار ہو“۔
ڈاکٹر کاٹجو نے جب اپنی بہن سے یہ سنا، تو آپ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد آپ نے پچیس ہزار کا ایک چیک لکھا، اور یہ چیک اپنی بہن کو دیتے ہوئے کہا: ”میں کسی سے سفارش تو نہیں کر سکتا، یہ پچیس ہزار کا چیک اپنے داماد کو دے دیں، تاکہ وہ کوئی کاروبار کر لے“۔
یعنی ڈاکٹر کاٹجو کا کریکٹر اس قدر بلند ہے، کہ اپنے کسی عزیز ترین رشتہ دار کی سفارش کرنا بھی معیوب سمجھتے ہیں، حالانکہ دوسرے لیڈروں کے سیاست میں آنے کا تمام مقصد ہی یہ ہے، کہ خود روپیہ پیدا کریں اور عزیز و اقارب، دوستوں کو مالا مال کر دیں۔
ڈاکٹر کاٹجو کا دوسرا واقعہ بھی دلچسپ ہے۔ حضرت جوش ملیح آبادی میں یہ بہت بڑی کمزوری یا صفت موجود ہے، کہ کوئی شخص بھی ان کو کسی بڑے افسر کے پاس سفارش کے لیے لے جا سکتا ہے، یہ انکار نہیں کرتے۔ اور ان لوگوں نے بھی ان کے ذریعے ہندوستان کے وزراءسے کام لیے، جو چند روز پہلے تک جوش صاحب کے مخالفین میں سے تھے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہے۔ ایک صاحب جوش صاحب کے پاس آئے، اور آپ سے چاہا کہ ڈاکٹر کاٹجو ہوم منسٹر مرکزی گورنمنٹ ہندوستان سے ان کی سفارش کر دیں۔ جوش صاحب میں انکار کرنے کی جرا¿ت ہی نہیں۔ آپ ان کو لے کر ڈاکٹر کاٹجو کی کوٹھی پہنچے، اور ان کی کاٹجو صاحب سے سفارش کر دی۔ ہندوستان کے وزراءمیں جوش صاحب بہت عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔ جب آپ نے کاٹجو صاحب سے اپنے ساتھی کی سفارش کی تو ڈاکٹر کاٹجو نے کہا:”جوش صاحب، آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، میں اس کو درست اور سچ یقین کرتا ہوں، اور میں خود بھی تحقیقات کروں گا۔ تحقیقات کے بعد اگر آپ کا ساتھی ہمدردی کا مستحق ہوا، تو میں آپ کی خواہش کے مطابق ہی حکم دوں گا۔ مگر میں درخواست کرتا ہوں، کہ آپ آئندہ کبھی میرے پاس کسی کی سفارش نہ کیجئے“۔
یہ واقعہ خود جوش صاحب نے مجھے سنایا۔ یعنی جہاں تک خویش پروری اور سفارش کا تعلق ہے، ڈاکٹر کاٹجو بہت بلند کریکٹر لوگوں میں سے ہیں۔ کریکٹر کی یہ بلندی ان کے لیے ہندوستان کے نئے انتخابات میں بہت مہنگی ثابت ہوئی، اور یہ ناکام ہوئے۔ کیونکہ اگر یہ ووٹروں کے کام نہ آئیں، تو ووٹر ان کو کیوں ووٹ دیں، جب کہ ووٹ کے معنی ہی ووٹر کی نگاہ میں سودے بازی ہو۔
ماسٹر تارا سنگھ کی زندگی کا کافی حصہ تنگدستی میں بسر ہوا، اور یہ واقعہ ہے کہ راشن کنٹرول کے زمانہ میں آپ اپنے گھر کے راشن کارڈوں کو بھی مالی مشکلات کے باعث استعمال نہ کر سکتے تھے۔ ان مالی مشکلات کے زمانہ کا ہی ایک واقعہ ہے۔ مرحوم مہاراجہ پٹیالہ کے خلاف سٹیٹس پیپلز کانفرنس نے ایجی ٹیشن جاری کر رکھی تھی، اور ماسٹر تارا سنگھ اس ایجی ٹیشن کے پنجاب میں لیڈر تھے۔ مہاراجہ کے لیے جب بہت بڑی مشکلات پیدا ہوئیں، تو مہاراجہ کا ایک معتمد ماسٹر تارا سنگھ کے پاس مہاراجہ کا دستخط شدہ چیک کورا لے کر پہنچا، اور مہاراجہ کی طرف سے پیغام دیا، کہ آپ جتنے لاکھ روپیہ چاہیں اس چیک پر لکھ کر یہ روپیہ امپیریل بنک سے وصول کر لیں، اور مہاراجہ کی مخالفت چھوڑ دیں۔ ماسٹر تارا سنگھ اس چیک کو دیکھ کر اور پیغام کو سن کر مسکرا دیئے، اور آپ نے چیک وصول کرنے یا مہاراجہ کی مخالفت ترک کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ اس روز بھی ماسٹر صاحب کے گھر میں کھانا پکانے کے لیے آٹا اور دال وغیرہ کچھ نہ تھا۔
مولانا حسرت موہانی کے ساتھ راقم الحروف (مفتون دیوان سنگھ) کے کئی برس تعلقات رہے، اور آپ کی یہ وضع داری تھی ، کہ مرکزی اسمبلی میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لاتے، تو دفتر ”ریاست“ کو بھی اپنے قدموں سے ہم آغوش ہونے کا فخر بخشتے۔ اس طویل عرصہ میں ہمیشہ ہی دیکھا گیا، کہ آپ کی عینک پر بوسیدگی کے باعث لکیریں پڑی ہیں۔ ٹوپی زیادہ استعمال کے باعث میلی ہے، اور اگر کہیں جانا ہوتا، تو ٹانگہ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ ایک دو آنہ دے کر بیٹھتے، یعنی کبھی سالم ٹانگہ نہ لیتے، اور کسی کے زیر بار احسان نہ ہوتے۔ ورنہ جس صورت میں کہ انگریزوں سے کانگرس، مسلم لیگ اور سوراجیہ پارٹی کے سیکڑوں ممبروں نے سرکاری کمشنوں کی ممبری اور دوسرے ذریعہ سے ہزارہا روپیہ ماہوار حاصل کیا۔ کیا حسرت موہانی جیسے پیدائشی انقلاب پسند کے لیے انگریزوں کے ہاتھوں اپنی سیاسی حرمت کو فروخت کرنا مشکل تھا، کیا وہ بھی موٹروں میں سواری کرتے ہوئے اسمبلی کے دوسرے ممبروں کی طرح فلک نما ہوٹلوں میں قیام نہ کر سکتے تھے۔
آج کے حکمرانوں کے لچھن دیکھ لیں کہ وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔اسی طرح بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدیدار ہوں یا ممبر کسٹم ٹریبونل، عدلیہ کے ججز ہوں ، وہ اپنے طرز زندگی سے ہی پہچانے جا سکتے ہیں ۔ تب کردار کی بلندی تھی اب کردار کی پستی ہے۔

تبصرے بند ہیں.