این آر او کیوں دیا ؟

344

جھلسا دینے والے موسم میں اکتا دینے والے واقعات رونما ہو رہے ہیں ، پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 60 روپے کے کمر توڑ اضافے نے پوری قوم پر سکتہ طاری کردیا ۔ اسی کیفیت میں جب یہ نوٹیفکیشن جاری ہوا کہ تمام سرکاری افسروں کے تبادلوں ، تعیناتیوں اور ترقیوں کے لیے آئی ایس آئی کی کلیئرنس لازمی ہوگی تو نام نہاد آئینی اور جمہوری نظام مزید سکڑتا نظر آیا ۔ کیا پاکستان کو لاحق اصل بیماری ناکام ترین عمران خان حکومت کو ختم کرکے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک قومی حکومت کرنے سے دور ہوسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ کیا کسی گرینڈ ڈائیلاگ کے نتیجے میں کوئی پائیدار نظام بن سکتا ہے ؟ ناممکن ۔ معروف عالم دین اور بے مثل دانشور جاوید احمد غامدی نے کیا خوب کہا ہے ‘‘ بندوق سے یہ منوانا کوئی آسان کام ہے کہ وہ آپکے ماتحت رہے گی ، یعنی کسی کے پاس بندوق ہو اور ہم نہتے اس کو لیکچر دے رہے ہوں ، فلسفہ بگھار رہے ہوں ، کیاحیثیت ہے اس کی ؟ ‘‘ بنیادی بات تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو پرامن جد و جہد کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کرنے چاہئے کہ جہاں تمام ادارے اپنے آئینی کردار تک محدود ہو جائیں ۔ صرف ایسا ہونے کی صورت میں ہی وہ مطلوبہ ٹھہرائو پیدا ہو گا وہ سیاسی حکومتوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا کہ وہ اپنی پالیسیوں کے ذریعے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مستقل نظام وضع کر سکیں اور پھر اس پر عمل درآمد بھی کرا سکیں ۔ اس کے سوا پاکستان کی سمت درست کرنے کا کوئی اور طریقہ ہے ہی نہیں ۔ ایک ایسے موقع پر کہ جب ہائبرڈ حکومت کے ناکام ترین تجربے نے نظام چلانے والوں کے پاؤں میں بیڑیاں ، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور گلے میں طوق ڈال دئیے تھے ۔ بہتر ہوتا ہے کہ تجربہ کار سیاستدان ملک کو بحران سے نکالنے کی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ سے بنیادی شرائط منوا لیتے ۔ عمران حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے جس طریقے سے اقتدار سنبھالا اس پر ان کے اپنے حامیوں کی آرا میں تقسیم تو ہوسکتی ہے مگر سیاسی شعور رکھنے والے عوام کی غالب اکثریت اور جمہوریت نواز حلقے اسے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں اور کہا جارہا ہے ملک میں خرابی پیدا کرنے والے اصل کرداروں کو فیس سیونگ دی گئی اور این آر او فراہم کیا گیا ۔ ورنہ اداروں کے ساتھ گرینڈ ڈائیلاگ کے حوالے سے یہ ایک سنہرا موقع ثابت ہوسکتا تھا ۔ ماضی قریب میں جب وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت گرانے کے لیے مختلف اداروں کی مشترکہ کوششیں جاری تھیں تو اس وقت کے صدر ممنون حسین نے گرینڈ ڈائیلاگ کرانے کے لیے متعلقہ طاقتور ادارے سے بات کی تو جواب ملا ہم تو کچھ کر ہی نہیں رہے پھر ڈائیلاگ کیسے ؟ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اداروں سے معاملات طے کرنے کے لیے مخصوص حالات کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت کی بدترین ناکامی اور حالات کے جبر کے باعث یہ تاریخی موقع آگیا تھا مگر لگ ایسا ہی رہا ہے کہ جائز مطالبات منوائے بغیر ہی حکومت لے لی گئی۔ ایسا نہیں کہ اتحادی جماعتوں کی حکومت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ خود پی ٹی آئی میں موجود سیاسی دماغ رکھنے والے تجربہ کار لیڈر نجی محفلوں میں کہہ رہے ہیں کہ اس سیٹ اپ کو کام کرنے دیا گیا تو ملک کو کچھ مہینوں کے بعد ٹریک پر لے آئے گی ۔ مگر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ملک آئینی سکیم کے مطابق ہی چلے گا ۔ سب سے پہلے تو اس امر کا تعین ہونا چاہیے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ، کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ بدترین لوڈ شیڈنگ پر نئی نویلی حکومت عوام سے معافیاں مانگ رہی ہے ۔ گردشی قرضوں کا پہاڑ کس نے کھڑا کیا ، وہ کون تھا جس نے پچھلے چار سال کے دوران بجلی بنانے کا ایک بھی نیا
کارخانہ نہیں لگایا ۔ آئی ایم ایف سے عوام دشمن معاہدہ کس نے کیا اور پھر اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کرکے پاکستان کی عالمی ساکھ اور استحکام کو خطرات سے دوچار کردیا ۔ یہ بھی پتہ چلنا چاہیے کہ وہ کون سے ہاتھ ہیں جو حکومت وقت کو عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی سے روک رہے ہیں ۔ کرپشن کے بے تحاشا سیکنڈل موجود ہیں ۔ ملک کے بارے میں تین ٹکڑے ہونے اور ایٹمی اثاثوں سے محروم کیے جانے کے بیانات پر بھی زبانی جمع خرچ سے کام لیا جارہا ہے ۔ ایسے ماحول میں اعلی عدالتیں جو کچھ کررہی ہیں اس پر زیادہ کھلے انداز میں گفتگو کیے جانے کی ضرورت ہے ۔ آرٹیکل 63 اے کی وضاحت ہو یا سو موٹو کا معاملہ صرف مولانا فضل الرحمن کھل کر بولے ، وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی اس پر بات کرنی چاہیے تھی – بہرحال یہ بھی غنیمت ہے کہ انہوں نے ذہین و فطین اور بے باک عرفان قادر کو اپنا وکیل بنا کر کم از کم اتنا تاثر تو دیا کہ وہ لاکھ تابعدار سہی مگراس بار اپنا سر طشتری میں رکھ کر پیش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران پراجیکٹ فلاپ ہونے کے بعد کپتان کو صرف ایسے ہتھیار کے طور پر برقرار رکھا جائے گا جو حکومت کو مسلسل زچ کرتا رہے۔ حکومت کا گھیرائو عدالتوں کے ذریعے بھی کرایا جائے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ہی ہو مگر اس کی بھی ایک حد ہے ۔ اگر حکومت میںشامل کچھ شخصیات کو کام لیے جانے کے بعد فوری طور نااہل کرانے کی کوشش کی گئی تو اس کا ایک مطلب ہوگا کہ نام نہاد جمہوریت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اب حالات ہی ایسے بن چکے ہیں کہ خالص غیر جمہوری نظام کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ مکمل غیر یقینی کے اس موسم میں سیاسی جماعتیں بھی پوری طرح الرٹ ہیں۔ منصوبہ سازوں کے پاس بھی زیادہ آپشن موجود نہیں ۔ یہ بھی ماننا ہوگا کہ اگر حکومت لینے والے معاشی مسائل کے سبب بری طرح سے پھنس چکے ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی اور اس کے سرپرستوں کی احتجاجی سیاست بھی بند گلی کی طرف جارہی ہے۔عمران خان کا بنی گالہ چھوڑ کر پشاور میں پناہ گزین ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ جیل جانے سے خائف ہیں ۔ لانگ مارچ اور دھرنے کی ایک کوشش دم توڑ چکی ۔ اگلے کے لیے منصوبہ بندی تو ہو رہی ہے مگر بوجھل دل کے ساتھ ، پی ٹی آئی میں خلفشار ہے۔ باہر موجود قوتوں میں اگر کوئی عمران خان کی احتجاجی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تو وہ ایک حد سے زیادہ مدد فراہم نہیں کرسکتا۔ اسٹیبلشمنٹ مسلسل یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ اب نیوٹرل ہی رہے گی – طاقتور حلقوں میں یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ عمران خان کا بت بنانے کے دوران باقی سب سیاسی قائدین کو غدار ، کرپٹ ، نااہل ثابت کرنے کے لیے چلائی جانے والی مربوط اور منظم مہم کے نتائج الٹا گلے پڑ رہے ہیں اور یہ ایک بلنڈر تھا۔ اسی لیے موجودہ فوجی قیادت کی مخالفت کرنے والے ریٹائرڈ افسروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس کے اثرات بھی نظر آرہے ہیں۔ کچھ ملک سے فرار ہوگئے ، کچھ سدھر گئے ، ایک چھوٹے سے گروہ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد پریس کلب کے باہر اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کی تو دو تین صحافیوں نے صرف سوالات کرکے سب کی دوڑ لگوادی۔ اگر حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی کوئی ہاتھ ہوا  کھیل اتنا ہی ہے کہ میدان میں نکل آئیں ، اب انہیں بھی کوئی روک نہیں سکے گا ۔ ملک میں کسی گر ینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت نہیں قانون پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے ۔ عوام ہی نہیں اداروں کو بھی آئین کی بالادستی ماننا ہوگی ۔ احتساب لازمی ہے لیکن جب تک بلا امتیاز عہدہ و محکمہ ہر کسی کا نہیں ہوگا قانون سے کھلواڑ کا سلسلہ رک نہیں سکتا ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر )جاوید اقبال نے ادارے کو کتنی بری طرح سے پولیٹیکل انجیئنرنگ کے لیے استعمال کیا ، ‘‘ طاقتور گروہ ‘‘ کے آلہ کار بن کر بے گناہ لوگوں کی ز ندگیوں کے کئی سال ضائع کردئیے ۔ جب ان کی ایک خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آئی تو کسی نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا ۔ اب وہ اپنے عہدے پر موجود نہیں ۔ ان کے زخم خوردہ سیاستدان حکومت میں ہیں ۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اب ان کے تمام اعمال کا حساب ہونا چاہیے ۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں ۔ ابھی تک وہ ماحول بنا ہی نہیں جس میں ایسوں کا بھی احتساب ہوسکے ۔لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو کھل کر کہا جاسکتا ہے کہ ذلت آمیز شرائط پر اقتدار قبول کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی برابر کی قصور وار ہے۔ تھوڑا صبر ، معمولی انتظار وہ معجزہ دکھا سکتا تھا جس میں ان سب کا احتساب کیا جاسکتا جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر قانون سے آزاد ہیں ۔ نظر تو یہی آرہا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال عہدے سے ہٹنے کے بعد مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہونگے جبکہ کسی کی فرمائش پر ان کی طرف بنائے گئے الٹے سیدھے مقدمات میں کئی سیاستدان طویل عرصے تک عدالتوں کے دھکے کھاتے اور ساکھ بھی داغدار کراتے رہے ہیں۔ ہو سکتا کسی روز جسٹس جاوید اقبال اپنے کسی انٹرویو کو تہلکہ خیز بنانے کے لیے ‘‘ انکشاف ‘‘ کریں کہ میں کیا کرتا جھوٹے مقدمات بنانے کیلئے پیچھے سے بہت دبائو تھا ۔ بالکل ویسے ہی جیسے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک انٹرویو میں کمال ڈھٹائی سے اعتراف کرلیا تھا کہ ‘‘ ہم کیا کرتے ، بھٹو کو پھانسی دینے کے لیے جنرل ضیاالحق کا بہت دبائو تھا ‘‘ ۔
کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوعِ سحر سے ہم

تبصرے بند ہیں.