میرے ملک کے سیاستدان

12

اپنے کالموں میں پہلے بھی یہ بات بارہا کہہ چکی ہوں کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے سیاستدانوں کا یہی وتیرہ رہا ہے کہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو سابق حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومت ملک کو تباہ کر گئی ہمیں کچھ وقت لگے گا ملک بہتر کرنے میں۔ جبکہ اقتدار میں آنے سے پہلے ملک کیلئے بلند و بالا دعوے کرتے ہیں اور عوام کو یہ دکھاتے ہیں کہ ہم سے زیادہ آپ کا خیر خواہ کوئی بھی نہیں ہے اور عوام کو یہ نقشہ پیش کرتے ہیں کہ ہم ہی ہیں جو اس ملک کو ٹھیک کر سکتے ہیں باقی سب تو نااہل ہیں۔ 2013 سے ہمارے ملک میں ایک تماشا برپا ہوا ہے وہ ہے احتجاج، گالم گلوچ، دھرنے کی سیاست جس نے میں سمجھتی ہوں کہ ملک کا بُرا حال کر کے رکھ دیا ہے۔ اپنے ملک کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کچھ حالات پہلے بُرے تھے کچھ پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھال کر کر دیئے اور رہی سہی کسر موجودہ حکومت نے نکال دی۔
پی ٹی آئی کو پی ڈی ایم نے اس لیے نکالنے کی تحریک چلائی تھی کہ یہ عوام کے بہت خیر خواہ بن رہے تھے اور کہتے تھے کہ ہمیں اپنے عوام کا بہت بُرا حال دیکھ کر پریشانی ہوتی ہے ہمارے عوام کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے مہنگائی کر دی جس سے عوام کا جینا محال ہو گیا ہے۔ ہمارے پاس اقتدار ہوتا تو ہم ان کو سیدھا کرتے تھے عوام کو ہر چیز سستی ملتی۔ وہ یہ سب باتیں، لارے، جھوٹے وعدے باقی سیاسی پارٹیوں کی طرح مگر اب کیا ہوا پی ڈی ایم جو کہ عوام کے حق میں پی ٹی آئی کے خلاف بڑے بڑے جلسے جلوس کرتے ہوئے نکلی تھی، مہنگائی کی جنگ کے خلاف اب جب وہ اقتدار میں آئی تو آتے ہی عوام کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے۔ عوام کا منہ بند کر دیا۔ پٹرول بجلی اشیائے ضروریہ کی چیز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا۔ کیا عوام نہیں دیکھتے کہ آنے والی نئی حکومت نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔ پھر اس کا مطلب پی ٹی آئی صحیح کہتی تھی جب بھی پی ڈی ایم مہنگائی کے نام پر نکلتی تھی تو پی ٹی آئی کہتی تھی کہ انہیں عوام کا خیال نہیں صرف ابو بچاؤ مہم چلا رہے ہیں۔ اب اگر اس وقت کے ان بیانات کا موازنہ کرتے ہیں تو آج کے دور سے بالکل صحیح کہتی تھی پی ٹی آئی کہ عوام سے کوئی پیار نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت جب تھی مجھے ہمیشہ اختلاف رہا کہ وہ اپنے وعدے اور دعوے کر کے مکر کیوں جاتی ہے مگر اب اختلاف مجھے پی ڈی ایم سے بھی ہے کیوں کہ جو ایک امید پی ڈی ایم سے تھی وہ بالکل نہیں رہی۔
زرداری صاحب بہت کمال کے سیاستدان ہیں بہت بڑے گیمر بھی ہیں جو ملک کے حالات سے بہت اچھی طرح واقف تھے اور جانتے تھے کہ وزیر اعظم کی سیٹ پر جو بھی بیٹھے گا اسے بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا اور سارا ملبہ اسی کے سر پر گرے گا اور اگلے عام انتخابات میں ہمارے لیے یہ بازی جیتنا بہت آسان ہو گی تو انہوں نے اپنی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہباز شریف کا جتنا اچھا تاثر عوام میں تھا پہلے وہ سب ختم کر دیا ہے اور عوام کہتے ہیں کہ اب تو ہم کسی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ایک ہفتے کے دوران پٹرول کی ساٹھ روپے قیمت بڑھانا عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور حکومت کا یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جانا کہ آئی ایم ایف کی شرط پر پورا اترنا ضروری تھا تو جناب اگر آپ نے بھی اسی طرح مہنگائی کرنی تھی تو رہنے دیتے حکومت پی ٹی آئی کے پاس، ان کا بھی شوق پورا ہو جاتا پانچ سال مکمل کرنے کا۔ جلسے، جلوس، تحریک عدم اعتماد جیسے تماشے لگانے کا کیا جواز بنتا تھا۔ اس نے بھی عوام کا جینا محال کیا تھا اور عوام کا جینا آپ لوگوں نے بھی محال کر دیا اور مزید کر بھی رہے ہیں۔ ہمیشہ سے سیاستدانوں کے تماشے عوام کے سامنے ہی رہے ہیں مگر میرے ملک کے معزز سیاستدان سن لیں کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ اگر آپ لوگوں پر کسی کا شفقت بھرا ہاتھ نہ ہو تو آپ ملک کے اقتدار میں اپنی قابلیت پر آ کر دکھائیں، میں آپ کو مان لوں گی اور رہی بات وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی نون لیگ کی، تو عوام کو ان سے تھوڑی سی امیدیں وابستہ تھیں سب ختم ہو گئیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ شہباز شریف شاید ملک کے حالات کو بہتر کر سکیں گے، مہنگائی سے جان چھڑا سکیں گے، جیسے پنجاب کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا تھا۔ مگر میں سمجھتی ہوں شہباز شریف صرف وزیراعلیٰ کی حد تک ہی کامیاب سیاستدان رہے ہیں وزیراعظم کی سیٹ پر آ کر یہ بھی فیل ہو گئے ہیں۔ اگر آپ میری بات سے اختلاف کرتے ہیں تو چلیں میرے ساتھ عوام کی عدالت میں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر محسوس یہ ہوا ہے کہ میرے ملک میں گیم صرف کرسی کی ہے کارکردگی کی نہیں، میرے ملک کے عوام مہنگائی سے مر رہے ہیں آپ کو فرق نہیں پڑتا کیونکہ آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے ختم ہوں تو غریب بندے کی کیفیت آپ کو پتہ چلے۔ اس بندے سے پوچھے جو اس وقت دو وقت کی روٹی کو پریشان بیٹھا ہے اور باقی کی رہی سہی کسر اس وقت ملک میں جاری لوڈشیڈنگ نے پوری کر دی ہے۔ شہباز شریف کا وہ چراغ کہاں گیا جس نے 2013 سے 2018 میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دی تھی۔ اس وقت بیچارے عوام بُری طرح سے پریشان ہیں، مہنگائی کو لے کر اور دوسرا قیامت خیز گرمی میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ سے۔
خدارا ہم پر رحم کریں ہمیں نہیں چاہیے پی ٹی آئی نہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نہ ہی کوئی سیاسی خیر خواہ کیونکہ اب سمجھ آئی ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کی عوام سے ہمدردی اصل میں سیٹ کی گیم ہے اور ان کے مگرمچھ کے آنسو اپنے مفاد کے لیے ہیں عوام کے لیے نہیں۔ نہیں چاہیے ہمیں اپنے ملک کے لیڈروں کی جھوٹی حمایت، چلے جائیں ہمارے ملک کی حکمرانی چھوڑ کر، ہمارے لیے اللہ اور اس کا رسول ہی کافی ہے آخر میں سب سیاستدانوں کو میری طرف سے ایک پیغام ان دو فقروں میں۔۔
کرسی ہے تمہارا جنازہ تو نہیں
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

تبصرے بند ہیں.