ایسی چلی ہو اغلط۔۔۔

22

’’ یہ تصویر آئبیرین پین اِن سُلا کی ہے اور ناسا نے نو سال پہلے جاری کی تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر دیکھ کر میرا یہ کہنا تھا کہ میرا پڑھا لکھا دوست میرے گلے پڑ گیا کہ تمھاری تو عادت ہے کہ تم نے حالیہ جلسوں کی مخالفت کرنی ہے اور مجھے بتایا کہ یہ تصویر ایک حالیہ جلسے کی ہے اور ایک وفاقی وزیر نے اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ میں نے اپنے دوست کو انتہائی مشکل سے یہ سمجھانے کے قابل ہوا کہ بھائی ساؤتھ ویسٹ یورپ میں یہ علاقہ پرتگال اور سپین شیئر کرتے ہیںاور یہ جلسہ نہیں بلکہ اُس علاقے کی رات کی روشنیوں کی تصویر ہے۔ یہ مثال اس لیے دینا چاہتا ہوں کہ خدا کیلئے اپنے معاشرے کا تحفظ کریں کیونکہ سوشل میڈیا کی سائبر اِن سکیورٹی ،پروپیگنڈا، ٹرولنگ اور اندھی اطاعت نے دوستیاں، رشتے اور تعلقات کا جنازہ نکال دیا ہے۔اور حالیہ سیاست سے گالی گلوچ اور عدم برداشت کا جو کلچر ہم بو رہے ہیں یہ ہماری اقدار کا جلوس نکال دے گا۔جب سید علی گیلانی زندہ تھے تو ایک سیاسی لیڈر نے عالمی فورم پر کشمیر بارے تقریر کی تو فوراً ہی سید علی گیلانی کا ٹویٹ مارکیٹ میں پھیلنے لگا جس کا موضوع تھا ’’کشمیر کا مجاہد‘‘ اور کافی دنوں بعد سید علی گیلانی کی جماعت کو بیان میں کہنا پڑا کہ سید علی گیلانی کا کوئی ٹوئیٹر اکاؤنٹ ہی نہیں ہے۔ چند دن پہلے عالمی سازش کے موضوع پر انتہائی محترم بیگم ناصرہ اقبال کا اردو اور انگریزی کا ایک مضمون وائرل ہونے لگا جس سے ایک مخصوص سیاسی سوچ واضح کرنا مقصود تھا حتیٰ کہ بیگم  ناصرہ اقبال کو کہنا پڑا کہ یہ مضمون میرا نہیں ہے۔
پراپیگنڈا حقیقی رائے سازی کی مخالف پوزیشن ہے۔ اِس میں مسلط ہونے اور رپلیکیٹ ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یہ انتہائی تیزی سے ملٹی پلائی ہوتا ہے جس کے نتیجے میں غلط رائے جنم لیتی ہے۔ فیک کو فیکٹ اور فیکٹ کو فیک بنا دینے والے یہ سوشل میڈیا ٹرولرز معاشرے کی جڑیں ہلا دیتے ہیں۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی یہ مشینری ماضی میں بھی تھی مگر پچھلے چار سال میں یہ انڈسٹری بن گئی ہے۔ پچھلے دنوں ایک سابق وفاقی وزیر نے کسی ویب پیج سے ایک کارٹون اُٹھایا اور عدلیہ کی کردار کشی کیلئے اِس میں قطع برید کی اور نیچے لکھ دیا کہ یہ کارٹون آج اخبار نیویارک ہیرالڈ میں چھپا ہے۔جب تک یہ ثابت ہوتا کہ یہ اخبار (80) اسی سال پہلے بند ہو چکا ہے یہ فارورڈ پوسٹ کی صورت میں ادارے کی کردارکشی بھی کر چکا تھا اور یہ مخصوص سوچ بھی تشکیل دے چکا تھا۔ مذکورہ خاتون وزیر کی اس جعلسازی پر تنقید ہوئی تو یہ اُن کے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
حالیہ دور میں ٹرولنگ کی طاقت نے نابینا مقلد پیدا کر دیئے ہیں جو کوئی دلیل سننے کو تیار نہیں اور اس کی ذمہ دار موجودہ سیاسی قیادت ہے۔ رائے سازی کی موجودہ شکل کسی ایلگوردھم، لوگارتھم مشین، ڈیپ فیکٹ ٹیکنالوجی اور روبوٹک اکاؤنٹس کی مرہونِ منت ہے اور اِس کے موجود ٹرولرز کسی کی بھی پگڑی اُتار سکتے ہیں۔ اِدھر اُن کا ایک جعلسازی سے بنا ٹوئیٹ لگا اور ایک منٹ میں لاکھوں لائیکس اور ری ٹوئیٹس میدان میں۔ اور اِس سٹریٹیجی سے ایک غلط رائے تشکیل ہو کر ٹرینڈ، ہیش ٹیگ اور بیانیے کی صورت لے لیتی ہے۔ یہی اسٹریٹیجی تھی ہٹلر کے وزیر گوئیبلز کی کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگنے لگ جائے۔ ماضی میں جھوٹ  اگلے دن اخبار میں چھپتا اور آج جھوٹ ڈیجیٹل ورلڈ میں آیا اور تماشہ شروع۔ فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس اپ اور ایمو سوشل میڈیا ٹولز ہیں اور اِن کا مقصد لوگوں کو قریب لانا اور رابطے بڑھانا تھا مگر ٹرولرز مافیا ،انتہا پسندوں اور سیاسی پارٹیوں نے اِسے پراپیگنڈہ ٹول بنا دیا ہے۔ اور ظلم یہ ہے کہ سب بے چہرہ لوگ جو اپنے جعلی آئی ڈیز، جھوٹے صفحات، فراڈ گروپس کے ذریعے وی پی این (VPN) لگا کر اوورسیز اسٹیٹس لیتے ہیں اور جعلی تقاریر، ویڈیوز، پرانی تصویروں کو نئی گرافکس بنا کر مارکیٹ میں پھیلا دیتے ہیں اور ایک جھوٹی، جعلی اور غلط رائے سازی ہموار کر دیتے ہیں اور پورا نظام خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ سائیکولوجسٹ دو  ذہنی کیفیتیں بیان کرتے ہیں حقیقت جان کر مقلد ہونا یا اندھی اطاعت کے اسیر ہوجانا۔ اور اس اندھی اطاعت سبب ہم سب سکرین اور کی بورڈ کے غلام بھی اور سولجر بھی بن چکے۔بغیر سوچے سمجھے ہم فارورڈڈ میسجز، تصاویر، خبر، گرافکس اور ڈیٹا کو فارورڈ کر دیتے ہیں اور ساتھ دھمکی آمیز اپیل بھی کہ آگے فارورڈ کرنا آپ کا فریضہ ہے۔ خدا کیلئے یہ رویہ بدلیں ورنہ یہ معاشرہ جہنم بن جائے گا۔
قتیل شفائی یاد آرہے ہیں:
رشتہ ِ دیوارودر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
مت گرا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
تیرے میرے دَم سے ہی قائم ہیں اِس کی رونقیں
میرے بھائی یہ نگر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
اب اوپر بیان کردہ حقائق کی روشنی میں آپ کو حالیہ لانگ مارچ کے ضمن میں چھپنے والی تین اخباری تصویروں کی لفظی شکل دیکھانا چاہتا ہوں۔ ایک تصویر میں مریم نواز کانسٹیبل کمال شہید کے گھر افسوس کیلئے گئیں جہاں شہید کا بچہ بھی بیٹھا تھا جو باپ کے جنازے میں جس طرح سسکیاں لے رہا تھا وہ عدم برداشت کے اِس معاشرے کے منہ پر ایک تھپڑ تھا۔ یاد رہے اس غریب خاندان کیلئے محترم وزیرِاعظم نے گھر دینے کا وعدہ تو کیا ہے مگر اِن بچوں کا باپ تو واپس نہیں آ سکتا جو غلط رائے پر مبنی بیانیہ وار اور سیاسی بخار کی بھینٹ چڑھ گیا۔ دوسری تصویر کارکن احمد جان کی ہے جو مردان کا رہائشی تھا اور اِس لانگ مارچ کی بھینٹ چڑھا اور تیسری تصویر ڈسکہ کے رہائشی کانسٹیبل جاوید شہید کی ہے جس کے گھر وزیراعلیٰ پنجاب افسوس کرنے گئے۔ اِن کے متعلق یہ ہی کہا جا سکتا ہے ۔
کھا گئی کل ناگہاں جن کو فسادوں کی صلیب
اِن میں اِک نورِ نظر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
یہ سب ٹرولرز کے تخلیق کردہ جھوٹے بیانیوں کے سبب ہے جس نے اصل صحافت کہیں دفن کر دی ہے اور سچ کے جنم سے پہلے جھوٹ اتنا پھیلا دیا جاتا ہے کہ متاثرہ ذہن بدل نہیں سکتا۔ پچھلے دنوں میر جعفر اور سازشوں کا اتنا ذکر ہوا اور وہ ٹرولنگ ہوئی کہ میں جنگِ پلاسی کو ایک مرتبہ پھر پڑھنے پر مجبور ہوا اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ ولیم ٹیمپلر کی کتاب’’دی انارکی‘‘ ، ہمایوں مرزا کی کتاب ’’ فرام پلاسی ٹو پاکستان‘‘ اور سراج الدولہ کے کزن سید غلام حسین خان کی کتاب ’’ سیارالمتاخرین ‘‘ پڑھ لیںاور تاریخ کی دوسری کتابوں سے بھی استفادہ کر لیں اور بالآخر آپ یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہوں گے کہ سراج الدولہ حکومت  سازشوں سے نہیں بلکہ اپنی حکومت کی نااہلی، بدانتظامی اور ذاتی کمزوریوں کے سبب ختم ہوئی۔
کالم کے آخر میں دوستوں سے گزارش ہے کہ سیاسی نظریات اپنی جگہ مگر کسی کے اندھے مقلد نہ بنیں اور ٹرولنگ مواد پر مشتمل فارورڈڈ پوسٹیں فارورڈ نہ کریںاور بیان کردہ حقائق کی تحقیق ضرور کر لیا کریں۔ سورۃ الحجرات کے ہدایت نامہ میں ایک ہدایت یہ بھی ہے کہ ’’ خبر کی خوب تحقیق کر لیا کرو‘‘ ۔ آپ اپنے طور پر ٹرولنگ، پروپیگنڈہ اور افواہ سازی کو روکنے کی سعی کریں گے تو ہی معاشرے میں برداشت کا چلن پیدا ہو گا ورنہ آج اِس ٹرولنگ دور میں ہر چیز ہی غیر معتبر ہو گئی ہے۔
کچھ نہ رہا معتبر کیا تھا درست کیا غلط
دیر کہا ہوا غلط تیرا سنا ہوا غلط
کچھ نہ رہا مقام پر ایسی چلی ہوا غلط

تبصرے بند ہیں.