محترمہ صائمہ آفتاب سے ملاقات اور شاعری

61

میں نے سوچا کہ عمران خان قوم سے کیے گئے وعدے تو پورے نہ کر سکے مگر موجودہ حکومت جب تک عمران نیازی کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پورے کر لے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ تو حضرت حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے لکھا تھا، عمران کا نعوذ بااللہ! معاہدہ صلح حدیبیہ کس نے لکھا، کا علم ہو جائے، عمران کے حالیہ بیان پر ریاست کیا کرتی ہے، کا فیصلہ ہو جائے، ماہر نفسیات سینئر ڈاکٹر کریم خواجہ کا عمران خان کے نفسیاتی امراض کا علاج کرنے کی پیشکش پر پیشرفت ہو لے۔ پی ٹی آئی اور عمران نیازی اقتدار سے بے دخلی کے حوالے سے باہر آئیں، برباد معاشرت بحال ہو جائے اور جتنے دن یوتھیے، جیالے اور متوالے سوچوں میں گم ہیں کیوں نہ کوئی اور بات کی جائے جس سے تمدن، معاشرت اور ثقافت کے ادب پر بھی نگاہ ڈالی جائے۔ پچھلے دنوں اپنے ہمدم دیرینہ جناب محمد اشرف کسٹم آفیسر سے بات ہوئی بنیادی طور پر لا جواب شاعر ہیں۔ شاعری کی باتیں چلیں تو محترمہ صائمہ آفتاب کا ذکر چل پڑا۔ ان کو پہلی بار میں نے غالباً 2019 میں کسٹم ڈے پر سنا، انتہائی کمال درجہ کے صاحب تصوف، صاحب علم دانش، مجسمہ عجز و انکساری جناب محمد صادق تب کلکٹر کسٹم تھے اب چیف کلکٹر بلوچستان ہیں، نے ایک شام کا اہتمام کیا۔ ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز، ڈاکٹر آصف جاہ (وفاقی محتسب) اور دیگر بہت سے افسران تھے۔ میری محترمہ صائمہ آفتاب سے واقفیت نہ تھی، ان کی شاعری سنی تو مجھے خوش آئند حیرت ہوئی اور اگلے روز اس شام کے حوالے سے ایک کالم کسٹم ڈے لکھ دیا۔ بہرحال وہ پرانی بات ہو گئی ، اب جناب محمد اشرف نے کہا کہ محترمہ صائمہ آفتاب سے ملتے ہیں۔ لہٰذا ہفتہ کو مجھے ان کے دفتر لے گئے۔ معمول سے ہٹ کر ہفتہ کے دن بھی وہ مصروف تھیں۔ بہر حال انہوں نے بڑی پذیرائی کی اور وقت دیا۔ محترمہ پلوشہ خان ایڈیشنل کلکٹر بھی آ گئیں بات ملکی سیاست، کسٹم بیوروکریسی سے شاعری پر آ گئی۔ دراصل شاعر ہو یا کوئی لکھاری اس کا اپنا مزاج اور ذہنی کیفیت بڑی اہم ہوا کرتی ہے بعض اوقات وہ معاشرت کے لیے سوچتا اور لکھتا ہے بعض اوقات وہ اپنی واردات قلبی کی کیفیت بیان کرتا ہے اور کبھی کسی کے دکھ میں ڈھل کر سکھ اور روح میں اتر کر اس کی نمائندگی کرتا ہے جسے پڑھنے والا اپنے حالات کے مطابق پڑھتا ہے اور تشریح کی ممکنہ صورت گری اس کے اپنے سیاق و سباق کے مطابق ہوا کرتی ہے۔ محترمہ صائمہ آفتاب ایک مہذب خاتون ہیں، پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق ہے اور ثقافت، لطافت شگفتگی اور شاعری ان کو وراثت میں ملی ہے۔ ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی شاعری کے چند اشعار سنائے۔
سب کو اس کی پڑی نہیں ہوتی
نوکری زندگی نہیں ہوتی
آرزو بھی ہے آرزو کا فریب
تشنگی تشنگی نہیں ہوتی
باغ سے کون ہو کے گزرا ہے
پھول میں تازگی نہیں ہوتی
شہر کی شام گاؤں کے مانند
سرمئی ملگجی نہیں ہوتی
پہلے ہوتی ہے عمر بھر کی بات
بعد میں بات بھی نہیں ہوتی
کچھ بھی حتمی لکھو تو یاد رکھو
وقت کی ڈائری نہیں ہوتی
دن سنہری طلوع ہوتا نہیں
رات بھی چاندنی نہیں ہوتی
روز دریا سے معذرت کر کے
پیاس میں کچھ کمی نہیں ہوتی
جھوٹے غم کی قسم ہمیں اب تو
کوئی سچی خوشی نہیں ہوتی
……………
پہلے ہوتی ہے عمر بھر کی بات
بعد میں بات بھی نہیں ہوتی
کے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس کیفیت کا احساس اور آمد اُن کو اُن کے والد صاحب کے وصال کے دکھ کے لمحوں میں ہوئی، پڑھنے والے اس کو اپنے اپنے انداز اور سیاق و سباق سے محسوس کرتے ہیں۔ پھر اپنے پسندیدہ شعرا کا ذکر بھی کیا۔ اب ہر چیز کو قید کیا جا سکتا ہے مگر ذہنی پرواز اور سوچ کا پنچھی کبھی قید نہیں ہوتا تبھی میرا دھیان معروف قانون دان، مفکر اور شاعر جن کی شاعری سے گلزار صاحب کی شاعری بھی تسلسل سے یاد آتی ہے، کی طرف چلا گیا۔ جو اپنے والد سے محبت کی وجہ سے اپنا نام انجم سعید لکھتے ہیں، کی نظموں غزلوں سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
اجنبی
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ معلوم نہیں!
کب، کہاں وقت تمہیں اجنبی بنا ڈالے!!!
چاند
تیرے فراق میں جب رات بھر بھٹکتے تھے!
تو چاند راہ میں اک روشنی سی بھر دیتا!!!
گھٹن
میرے اندر، کوئی گھنا بادل!
منتظر ہے، برسنا چاہتا ہے!!
بھول
میں کہیں سانس بھول بیٹھا ہوں!
دیکھنا تم وہاں، جہاں تم ہو!!
آہٹ
دور، بے نام اک دریچے میں!
تیری آہٹ سنبھال رکھی ہے!!!
رسائی
منزلیں چُھو کے؛ بچھڑ جانے سے؛ بہتر تھا کہیں!
دشت میں رہتے؛ بھٹک جاتے؛ فنا ہو جاتے!!!
نشاں
ابھی تو کوئی یہاں سے گزر نہیں پایا!!
دل پے قدموں کے نشاں کیسے ہیں!!!
شرط
میں چلا جاؤں کہیں دور مگر شرط ہے یہ!
زندگی مجھ کو کبھی پھر نہ ڈھونڈنے نکلے!!
احساسیت کی شاعرہ، معروف شاعرہ ناز بٹ کی کتاب ’’وارفتگی‘‘ پر نظر پڑی تو نظر ان کی اس کیفیت پر پڑ گئی۔
مجھے کچھ دیر سونے دو…!!
سنو جاناں!
مجھے کچھ دیر سونا ہے…
اور اپنی آنکھ کی پتلی میں رقصاں تتلیوں کے لمس کو محسوس کرنا ہے…
سنو جاناں! میں آنکھیں بند کرتی ہوں
تو ان مخمور لمحوں میں…
تمہارے ریشمی احساس کی اِک نرم سی خوشبو
نواحِ جسم و جاں میں پھیل جاتی ہے…
فضا مہمیز ہوتی ہے…
اسی ساعت ہوائے نیم شب نِرمل سروں میں گنگناتی ہے…
تمہاری یاد آتی ہے…
ایک میرے دوست سید علی رضا زیدی خوبصورت باتیں بھیجتے رہتے ہیں مثلاً ’’جب کسی سے محبت ہو جائے تو اُس کی طرف سے کبھی بدگمان نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ بدگمانی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے اور شک محبت کا قاتل ہے۔ انسان اگر بدگمانیوں کو اپنے اندر سے نکال دے تو نفرت کبھی بھی محبت کی سرزمین میں داخل نہیں ہو سکتی۔‘‘ بات چل رہی تھی محترمہ صائمہ آفتاب صاحبہ کی، ان سے گفتگو میں ان کی شاعری اور ان کی محفل کے خاص رنگ، انگ اور ادب کے تذکرے میں وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا اور شاعری یاد رہتی ہے جیسے ایک دفعہ سن کر مجھے یاد رہ گئی۔ ان کی زیر طباعت کتاب آئے گی تو شاعری سے مکمل استفادہ ہو سکے گا۔ آخر پر میری کتاب ’’عدل سے نکل کر‘‘ کے ماتھے پہ میرا لکھا گیا شعر حاضر ہے۔
گر لکھا تھا مقدر میں، مقدر سے ہی لڑنا
آدم کو بھی صاحبِ مقدور کیا ہوتا
اللہ کریم وطن عزیز کو شیطانی قوتوں اور کازبین کے گھن چکر سے نکال کر اپنی رحمتوں سے نوازے، اور قائم دائم رکھے۔

تبصرے بند ہیں.