آصف زرداری کی عمران خان کے بیان کی شدید مذمت

58

کراچی: سابق صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم عمران خان کے پاکستا ن سے متعلق بیان کی مذمت کی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق سابق صدر  آصف  زرداری نے عمران خان کے بیان  پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکڑے ہونے کی بات نہیں کرسکتا، انہوں نے سابق وزیراعظم کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ  یہ زبان ایک پاکستانی کی نہیں بلکہ مودی کی ہے،  عمران خان  صاحب! دنیا میں اقتدار ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، بہادر بنو اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر سیاست کرنا سیکھ لو،  اس ملک کے تین ٹکڑے کرنے کی خواہش ہمارے اور ہماری نسلوں کے جیتے جی نہیں ہوسکتی، عمران خان کے ناپاک بیان پر گلی گلی احتجاج کریں۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ  اگر اسٹیبلشمنٹ اس وقت صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ بھی تباہ ہوں گے ملک بھی تباہ ہوگا اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی، ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب 25 کی صبح ہم جب نکلے تو سپریم کورٹ کی ایک رولنگ آئی جس میں کہا گیا کہ اب راستے بھی کلئیر کردو، اور جن لوگوں کو پکڑا ہوا ہے ان لوگوں کو بھی چھوڑ دو، جو ہمارا حق ہے پرامن احتجاج کا۔ جس کے بعد ہم پرسکون ہوگئے اور سمجھے کہ اب آرام سے نکل جائیں گے۔ لیکن مجھے سوچنا چاہئیے کہ ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے، یہ مجرم ہیں اس قوم کے، 30 سال سے اس ملک پر ظلم کر رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مافیا اسٹائل یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ لوگوں کو خرید کر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں یا انہیں ختم کر دیتے ہیں، دہشت پھیلاتے ہیں اور جھوٹے کیسز کرتے ہیں، مار پیٹ کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے ڈر جائیں۔ یہ گھروں میں گھس گئے، عورتوں کو خوفزدہ کیا۔ یہ ایک میجر کے گھر چلے گئے جہاں اس کی ماں اور دس سال کی بیٹی تھی۔ کونسا ملک اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے جو انہوں نے اس رات کیں۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے دوران جب مجھے ساتھ آٹھ دن کے لیے جیل میں ڈالا گیا وہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، یعنی ڈکٹیٹر شپ میں ایسی کوئی حرکت نہیں ہوئی جس ان لوگوں نے کی۔

 

عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ہیں مجرم، رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں دن دہاڑے ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، 14 قتل کئے، 70 سے 80 لوگوں کو گولیاں لگیں کوئی معذور ہوا تو کسی کی کمر میں گولی لگی۔ ساڑھے تین سال میں اپنے دور میں کوشش کرتا رہا، طاہرالقادری کے میسیجز آتے تھے، لیکن اس پر اسٹے آرڈر ملا ہوا تھا۔ ان کی سسٹم پر ایسی پکڑ ہے اور یہ ایسا مافیا ہے کہ یہ بچ جاتے ہیں۔ شہباز شریف کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر ذوالقرنین نے ابھی بتایا کہ ان کا کیس ہی نہیں لگتا۔

 

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے شہباز شریف کو سزا ہوجانی چاہئے تھی۔ کبھی کمر کا درد تو کبھی کچھ مہینوں تاخیر کی جاتی تھی۔ یہ مافیا ہے ان کی جڑیں نیچے تک پہنچی ہوئی ہیں، انہوں نے ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے عورتوں، بچوں اور بزرگوں پر ہاتھ ڈالا۔

 

ایک سوال کے جواب  عمران خان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے اگر ہمیں پھر سے وہی حکومت ملتی تو میں کبھی قبول نہیں کرتا وہ ایک اتحادی حکومت تھی جن لوگوں نے ہمیں جوائن کیا ہم انہیں جانتے نہیں تھے، ہم بڑے کمزور تھے۔ اگر مجھے حکومت ملتی پھر سے تو میں دوبارہ انتخابات کی طرف چلا جاتا  کہتا کہ ری الیکشن کراؤ، اکثریت ہوگی تو آؤں گا ورنہ نہیں آؤں گا۔ اس وقت ہمارے ہاتھ بندھ گئے، ہم ہر طرف سے پکڑے گئے، ہر جگہ سے بلیک میل ہوتے تھے، پاور پوری طرح ہمارے ساتھ نہیں تھی، اور جو پاور ہے سب کو پتا ہے کہ وہ کدھر ہے۔ تو ان لوگوں پر ہمیں انحصار کرنا پڑا اور ان لوگوں نے کئی اچھی چیزیں بھی کیں، لیکن جو چیزیں کرنی چاہئیے تھیں وہ نہیں کیں۔

 

انہوں نے کہا کہ جو ہم کرنا چاہتے تھے وہ ہم کر نہیں سکے، یعنی ذمہ داری میری ہے ملک کی لیکن میرے پاس اختیارات نہیں ہیں، تو ایسے سسٹم نہیں چلتا۔ پاکستان کا چیلنج ایک طرف یہ ہے کہ ہمیں ایک طاقت ور فوج چاہئیے کیونکہ ہمیں دشمنوں سے خطرہ ہے، خطرہ پہلے بھی تھا لیکن  جب سے ہم ایٹی قوت بنے ہیں خطرہ کچھ کم ہے۔ جس ملک کی فوج پروفیشنل اور طاقتور نہیں ہوتی تو دیکھ لیں کہ مسلمان دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے، آپ شروع کریں یمن، لیبیا، شام، صومالیہ افغانستان، لبنان، عراق، چن چن کر ایک ایک ملک کو نشانہ بنایا گیا۔ تو ہمارے لیے یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ ہماری فوج تگڑی ہے۔ اب دوسرا یہ کہ ایک طرف آپ کے پاس طاقت ور فوج بھی ہو اور مضبوط حکومت بھی تو یہ بیلنس ایک چیلنج ہے، حکومت تب مضبوط ہوگی جب اختیار اور ذمہ داری ایک ہی جگہ ہوگی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اب میری جو کوشش تھی قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی وہ یوں پوری نہیں ہوسکتی تھی کہ جو طاقت ور تھے ان کی جڑیں اتنی پھیلی ہوئی تھیں، ان کے اتنے کنیکشن تھے کہ اتحادی حکومت میں یہ آپ کر ہی نہیں سکتے۔ اگر آپ کی اکثریت نہیں تو تمام وقت آپ بلیک میل ہوتے رہیں گے۔

 

عمران خان نے کہا کہ مشرف نے سب سے بڑا ظلم کیا جب اس نے ان دو چوروں کو این آر او دیا، انہوں نے 11 سال جو کرپشن کی تھی وہ تمام کیسز آئے ہوئے تھے اور میچور ہو چکے تھے، سوئٹزرلینڈ میں پڑے 60 ملین ڈالرز پر انہیں پکڑے جانا تھا، وہ پیسہ پاکستان واپس آنا تھا۔ پاکستان کیس جیت چکا تھا، سرے محل کا کیس جیت چکا تھا، حدیبہ پیپر مل کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اسحاق ڈار نے باقاعدہ بینک اکاؤنٹس بتائے تھے کہ پیسہ کہاں باہر بھیجا جاتا تھا۔ مشرف نے این آر او دے کر دونوں کو معاف کردیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کا قرضہ 4 گنا بڑھ گی۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ  یہ جب سے آئے ہیں روپیہ نیچے جارہا ہے، چیزیں مہنگی ہورہی ہیں، اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے کی طرف جارہا ہے۔ پاکستان اگر بینکرپٹ ہوتا ہے تو سب سے بڑا ادارہ جو کہ فوج ہے وہ پہلے ہٹ ہوگی، جب فوج متاثر ہوگی تو ہم سے کنسیشن وہ لی جائے گی جو یوکرین سے لی گئی، یعنی ڈی نیوکلارائزیشن، جب پاکستان نیوکلئیر پاور نہیں رہے گا تو میں آج کہتا ہوں کہ پاکستان کے تین حصے ہوں گے،پاکستان کیخلاف بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد ہے،  ان کے پاکستان کو توڑنے کے پلان بنے ہوئے ہیں، بھارت نے بلوچستان کو الگ کرنے کا پلان بنا رکھا ہے۔

تبصرے بند ہیں.