وزیراعلیٰ پنجاب، اس جانب بھی نظر کرم ہو!!!

53

گزشتہ تین سال میری زندگی کے عجیب ترین اور مشکل ترین سال گذرے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عرصہ میں عوامی فلاح و بہبود کا کوئی ایک بھی کام ڈھنگ سے نہ ہوا۔ چونکہ میں عام آدمی کی زندگی سے بخوبی واقف ہوں اور اس بات کا ادراک ہے کہ وہ کیسے اپنی زندگی عذاب کی مانند گذارنے پر مجبور ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آغاز سے لیکر چھ ماہ تک اداروں میں ہونے والی کرپشن، ظلم و نا انصافی پر کھل کر لکھا ، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ’’بادشاہوں‘‘ کے کان، معلوم ہوتے تھے کہ بند ہیں ، ان کی نظریں اقتدار کی چکا چوند نے دھندلا کے رکھ دی تھیں اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ عام لوگوں کے لئے آئے ہی نہیں ۔ چونکہ ہمیں عادت پڑی ہوئی تھی کہ خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کے دور حکمرانی میں مجھ جیسے چھوٹے قلم کار کے کالم ،جو عوامی مسائل کی نشاندہی کرتے تھے، ان پر ایکشن لیا جاتا تھا اور باقاعدہ ،جب تک معاملات بہتری کی جانب جاتے نظر نہیں آتے تھے ، تب تک افسران بھی چین سے نہیں بیٹھتے تھے ۔ میں اس بات پر بھی شہباز شریف کو تحسین پیش کروں گا کہ نہ صرف پرائے بلکہ اپنے قریبی ساتھیوں کی کرپشن کے خلاف شکایات پر بھی سخت ایکشن لیا جاتا بلکہ دوسروں سے زیادہ اپنوں کے خلاف سختی ہوتی ۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے کہ لاہور چلڈرن ہسپتال میں موجود میرے ایک ذرائع نے ہسپتال میں ایک ایمبولینس کی خریداری میں ہونے والی چھوٹی سے غلطی کی نشاندہی کی جسے میں نے اپنے کالم میں تحریر کیا، اسی روز اس میں ملوث مسلم لیگ کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور پارٹی کے پرانے رہنما کی قربت کو پس پشت رکھتے ہوئے عوام اور ملک کی بہتری کے لیے فیصلہ کیا گیا ۔
لیکن ان ساڑھے تین سال میں جس طرح عام عوام کے حقوق سلب کئے گئے اور پھر ان مسائل کی نشاندہی کرتے قلم کاروں کے الفاظ کی جس طرح پامالی کی گئی ، اسے دیکھتے ہوئے میں بھی دوسرے قلم کاروں کی طرح شدیدمایوس ہوااور یوں عام آدمی پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھتا رہتا اور اس وقت کا انتظار کرتا کہ کب آسمان سے مسیحا اترے جو درد کے مارے ، ان مفلوک الحال اور پریشان لوگوں کی داد رسی کرے ۔ شاید خدا نے میری دعا قبول کی اور کم از کم پنجاب سے اندھی، گونگی اور بہری حکومت کا خاتمہ ہوا۔
جناب وزیر اعلیٰ پنجاب !!! آپ کے والد گرامی کو پاکستان کے تمام سیا ستدانوں میں جو امتیاز حاصل ہے وہ یہ ہے کہ انہیں غریب اور عام آدمی کے دکھوں کا بخوبی علم ہے اور عام آدمی کو تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے والے ان سفاک مجرموں کو بھی وہ بخوبی جانتے ہیں ۔ پھر ان کے خلاف شکنجہ کس کر ، انہی سے عام آدمی کو سہولت فراہم کر نے کا مشکل ترین کام، وہ بڑی آسانی سے کر جاتے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہی ’’خوبی‘‘ آپ میں بھی پائی جاتی ہو گی اور آپ کے ابھی تک ہونے والے اقدامات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی اپنے والد گرامی کے ’’عوامی خدمت‘‘ والے رستے کے مسافرہیں ۔ بلاشبہ ان ساڑھے تین سال میں جس طرح اداروں کی تباہی کی گئی، ہڈ حرام افسران یہاں تعینات کئے گئے ، لوگوں کی تذلیل کر نے میں جو فخر محسوس کرتے ہیں ، یہ گند جلدی ختم نہیں ہو گا ۔ لیکن آپ کی جہد مسلسل اور سپرٹ کی بدولت بہت جلد عوام کو ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے ۔
ان شاء اللہ !میں عوامی مسائل سے متعلقہ اپنی گذارشات آپ کے سامنے پیش کرتا رہوں گا لیکن آج کے کالم میں آپ کی توجہ پنجاب کے سر کاری ہسپتالوں کو عقوبت خانوں میں تبدیل کرنے اور یہاں موت کے سوداگروں کی بادشاہت کی جانب مبذول کرانا ہے ۔ سر کاری ہسپتالوں میں بالخصوص لاہور کے سر کاری ہسپتالوں میں ادویات کی لوکل پر چیز کی مد میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا۔ جس میں سٹور سے لیکر ایم۔ایس اور پھر متعلقہ محکمے کے سیکریٹری تک نے خوب پیسہ کمایا۔ لیکن اس کے باوجود بھی لوگوں کو اپنے پیاروں کے لئے مہنگی ادویات خریدنا پڑتی تھیں ۔ آج بھی ہسپتالوں میں کرپشن کا بازار اسی طرح قائم ہے ۔ کرپٹ مافیا ز نے اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں جو صرف وصرف اپنے مفادات کے چکروں میں غریب عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔ آپ سپیشل برانچ سے ہسپتالوں کے سابقہ و حالیہ ایم۔ایس کی انکوائری کرا لیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ کس بے دردی کے ساتھ صحت کے نام پر اپنی جیبیں بھری جا رہی ہیں ۔ عام آدمی ابھی بھی ہسپتالوں میں رسوا ہو رہا ہے۔ آپ سب سے پہلے صرف اور صرف پنجاب کے شعبہ صحت میں ہنگامی ایمرجنسی لگاتے ہوئے ، اس میں بہتری لانے کے لئے کوشش کریں ۔ خود اس کے نگرانی کریں ۔ میں سمجھتا ہوں جس دن لوگوں کو بہترین علاج و معالجہ ملنا شروع ہو گیا لوگوں کے 80فیصد مسائل ختم ہو جائیں گے۔ آپ کے پاس تو گھر میں ہی والد گرامی کی صورت بہترین ایدمنسٹریٹر ہے ، ان سے مشورہ لیں اور آج اور ابھی سے ہی اس پر کام شروع کردیں ۔ پھر دیکھیں کیسے قدرت جو آپ پر پہلے ہی مہربان ہے ، عام لوگوں کی دعائوں کے نتیجے میں آپ کے خاندان کا نام رہتی دنیا تک روشن رکھے گی۔ جناب وزیر اعلیٰ پنجاب!!!

تبصرے بند ہیں.