اسرائیل کا حامی کون۔۔۔؟

36

عمران نیازی کی حکومت نے جہاں سکھوں کے لیے کرتارپورہ راہداری کھولی، ہندوﺅں کے لیے درجنوں پرانے مندربحال کیے وہاںپاکستانی یہودیوں کے لیے اسرائیل جانے کاراستہ بھی ہموارکیا۔ایک منصوبے کے ساتھ یہ گھناؤناکھیل کھیلاگیااورآج عمران نیازی اس تمام منصوبے سے اپنے آپ کوایسے نکال رہے ہیں کہ جیسے ان کے دورمیں کچھ ہواہی نہیں۔ہماری قوم بھی بہت جلدبھول جاتی ہے میں یادہانی کے لیے چند واقعات لکھ رہاہوں تاکہ سندرہے ۔اوردیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنے دورحکومت میں کس طرح اسرائیل نوازی کی طرف پیش قدمی کی ہے ۔
تحریک انصاف کی طرف سے اسرائیل کی طرف سب سے پہلے یہ پیش قدمی کی کہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی اسما حدید نے11نومبر2018کوقومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس ہے،مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے، تاہم اب مسلمانوں اور یہودیوں میں اس معاملے پرلڑائی ختم ہوجانی چاہیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھنے کا حکم دیا لیکن جب یہودیوں کے اعتراض پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یروشلم کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔پھر اللہ کی طرف سے جب حکم آگیا کہ جس میں اللہ نے فیصلہ کردیا۔کہ یہودیوں کا کعبہ یروشلم مسجد اقصیٰ ہوگا۔ جبکہ مسلمانوں کا کعبہ ہوگا جوعرب میں ہے۔اس لیے اب مسلمانوں اور یہودیوں کی لڑائی اس معاملے پر توختم ہوجانی چاہیے۔ نبی پاک صلی علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے دشمن کو دوست بنا لو۔نبی پاک نے یہودیوں کے ساتھ کام کرکے ایک مثال قائم کردی ہے۔اسماءحدیدکایہ بیان ریکارڈ پرموجود ہے اس پراگرعمران نیازی کی طرف سے کوئی سرزنش کی گئی ہوتوضرورآگاہ کیجیے گا۔
اسرائیل کی طرف دوسری پیش قدمی یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک یہودی فشیل بن خالدکوپاسپورٹ جاری کیا اور بعدازاں اسے پاکستانی پاسپورٹ پراسرائیل کے سفرکی اجازت بھی دی ،جنوری2019میں دی نیوز میں سینئرصحافی عمر چیمہ نے یہ رپورٹ شائع کی کہ پی ٹی آئی حکومت نے 31 سالہ فشل خالدکونہ صرف اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔بلکہ اس اجازت کی تشہیر کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ ایسا ایک اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کے تین ماہ کے اندر ہوا ہے۔فشل خالد کراچی کا رہائشی اور اپنے مذہبی عقائد کا کھل کر اظہار کرتا ہے۔ اس کے والد مسلمان اور ماں یہودی ہیں۔ اس نے خود یہودیت اختیار کی۔ اس نے نادرا میں خود کو یہودی رجسٹرڈ کرایا۔ اس کے باقی چار بھائی مسلمان ہیں۔
تیسری پیش قدمی یہ ہے کہ اسرائیلی اخبار اسرائیل ہایوم جواسرائیل کاسب سے بڑااخبارہے اورعبرانی زبان میں شائع ہوتاہے اس نے جون 2021میں یہ دعوی کیا کہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی نے گذشتہ برس مبینہ طور پر اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ا وروزیر اعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی نے مبینہ طور پر نومبر 2020 میں تل ابیب ایئرپورٹ پر اسرائیلی حکام سے ملاقات کی تھی۔برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے نامعلوم مشیر کو اسرائیل کی وزارت خارجہ لے جایا گیا جہاں انھوں نے متعدد سیاسی عہدیداران اور سفارت کاروں سے ملاقات کی اور پاکستان کے وزیر اعظم کا پیغام پہنچایا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار نے یہ لکھا کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے معاون خصوصی کانام شائع کرنے کی کلیئرنس نہیں دی۔ بعدازاں اس حوالے سے زلفی بخاری کانام سامنے آیا اگرچہ انہوں نے اس کی تردیدکی تھی مگر اخبار اپنے دعوے پرقائم رہا۔
چوتھی پیش قدمی یہ تھی کہ مولانامحمدخان شیرانی جوآج کل پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی ہیں نے دسمبر2020میں ایک انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے(واضح رہے کہ اس بیان کے بعد مولانافضل الرحمن نے انہیں جماعت سے نکال دیاتھا اورپی ٹی آئی حکومت نے مولاناشیرانی اوران کے ساتھیوں کوچھتری فراہم کی تھی )۔ مولاناشیرانی کا کہنا تھا کہ مغربی حصے میں اسرائیلی اور مشرقی حصے میں فلسطینی ریاست ہونی چاہیے۔مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ فلسطین خلافت عثمانیہ کی ملکیت تھا اس نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے، عربوں کا مقدمہ تھا انہوں نے بھی مان لیا ہے لیکن ہزاروں کلومیٹر دور اس مسئلے پر خوامخواہ کی جذباتی باتیں کی جارہی ہیں جو غیر معقول ہیں۔مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ بے مقصد کی خون ریزی اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ میں اس بات کے حق میں ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اوربین الاقوامی ہے۔ مولانا شیرانی نے اس بیان سے تاحال رجوع نہیں کیاہے۔
پانچویں پیش قدمی یہ تھی کہ ملکی تاریخ میں یہ بھی پہلی مرتبہ ہواکہ 2019میں ایک پاکستانی خلیل الرحمن کانام تبدیل کرکے ڈیوڈآریل (David Ariel )(یہودی نام )سے شناختی کارڈ جاری کیاخلیل الرحمن یہودیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان اسرائیل الائنس کے بانی رکن ہیں۔چھٹی پیش قدمی یہ ہے کہ اسی خلیل الرحمن نے اپریل 2020میں نیشنل پریس کلب کے سامنے اسرائیلی جھنڈے کے ساتھ دوہفتے احتجاجی کیمپ لگایاجس میں مطالبہ کیاکہ پاکستانی پاسپورٹ سے اسرائیل کے خلاف نفرت آمیزالفاظ ختم کیے جائیں تاکہ پاکستانی بآسانی اسرائیل جاسکیں۔
آج تک پی ٹی آئی کاکوئی رہنما اورعمران نیازی اس بات کاجواب نہیں دے سکے کہ 2016میں لندن میئرکے الیکشن میں عمران خان نے مسلمان امیدوارصادق خان کے مقابلے میں زیگ گولڈسمتھ کی انتخابی مہم کیوں چلائی ؟زیک سمتھ ایک کٹریہودی اوراسرائیل کاسخت ترین حامی شمارہوتاہے ۔2019میں امریکی صدرسے عمران خان کی ملاقات میں بھی ٹرمپ کے یہودی دامادجارڈکشنرنے اہم کرداراداکیاکبھی کسی نے سوچاکہ یہودیوں کی عمران خان پراورعمران نیازی کی ان پرنوازشات کی کیاوجہ ہے ؟
اسرائیل کی طرف یہ بھی پیش قدمی ہوئی کہ اسی ٹرمپ اوراس کے یہودی دامادنے عربوں کورام کرتے ہوئے اسرائیل کوتسلیم کرانے کے لیے ابراہم اکارڈ کاوہ معاہدہ کیاجو اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے درمیان اگست 2020 میں طے پایا ۔مگرعمران نیازی نے اس معاہدے کی مذمت تک نہیں کی بلکہ درپردہ اس معاہدے کوسپورٹ کیا۔
گزشتہ روز اسرائیلی صدرآئزک ہرزوگ نے کہاکہ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے وفدنے اسرائیل کادورہ کیااوران سے ملاقات ہوئی ملاقات اسی ابراہم معاہدے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے ۔اس خبرکے بعدعمران نیازی نے کہاکہ ایک تصویرآئی ہے کہ ایک پاکستانی وفد پہلی بار اسرئیل گیا ہے، جس میں ایک پاکستان ٹیلی ویژن میں کام کرنے والا تنخواہ دار بھی شامل ہے، اورحکومت اسرائیل کوتسلیم کرنے جا رہی ہے ۔
عمران نیازی جواب دیں گے کہ اس صحافی کوپی ٹی وی میں کس کے دورمیں رکھاگیاتھا ؟صحافی احمدقریشی نے کہاہے کہ دورے میں شامل ایک پاکستانی نیازی حکومت کی اجازت سے گیاتھا یہ وہی یہودی فشل خالدہے جسے نیازی دوررحکومت میں اسرائیلی سفرکی اجازت دی گئی تھی ۔واضح رہے کہ عمران نیازی نے ایک یہودی کوپاسپورٹ جاری کرنے اوراسرائیلی سفرکی اجازت دینے کی تردیدنہیں کی ہے ۔یہ سب کچھ عمران نیازی کے دورحکومت میں ہوااورآج وہ الزام لگارہے ہیں کہ حکومت اسرائیل کوتسلیم کرنے جارہی ہے ؟اسرائیل اوریہودیوں کے حوالے سے عمران نیازی نے جونوازشات کی ہیں وہ اسرائیل تسلیم کرنے کی طرف پیش قدمی نہیں تواورکیاتھا ؟
اس حوالے سے ترجمان دفترخارجہ نے کہاہے کہ اسرائیلی دورے کا اہتمام ایک غیر ملکی این جی او نے کیا تھا جس کا پاکستان میں کوئی دفتر نہیں ،مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا موقف واضح اور غیر مبہم ہے اور اس حوالے سے ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تبصرے بند ہیں.