پاکستان قرضوں میں کیسے پھنسا؟

21

پاکستان کی معاشی حالت 1970 کے بعد آج ایک بار پھر ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے چند قدم آگے دیوالیہ پن کی سرحد کھڑی ہے۔ 75 برس بعد بھی ریاست پاکستان کے لڑکھڑاتے قدم اب تک آنے والی قیادتوں پر سوالیہ نشان ہیں۔ بھوک اور افلاس کے سائے میں رہنے والے کروڑوں پاکستانی، اشرافیہ کی مفاد پرستی اور بے حسی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ قدرت کی بے پناہ مہربانیوں اور تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود وطن عزیز کی معاشی حالت ایک فقیر کی سی ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا مقصد کاسہ گدائی لیے ملک ملک صرف اس لیے پھرنا ہے کہ کہیں سے امداد یا قرض حاصل کیا جا سکے۔ پھر اس قرض سے مخصوص اشرافیہ کو فوائد دیئے جائیں۔ ملک میں ایک چھوٹا سا طبقہ امیر سے امیر تر ہوا ہے۔ جبکہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد نان جویں سے محروم ہے۔ مڈل کلاس کو کسی بھی سوسائٹی کا انجن سمجھا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ ٹیکسز، سوشل پریشر اور مسائل مڈل کلاس کو دیکھنا پڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درمیانہ طبقے کو پاکستان میں پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ پاکستان قرضوں میں جکڑی ایک ریاست ہے۔ پاکستان کے ہر فرد کا بال بال عالمی ساہوکاروں کو گروی رکھا جا چکا ہے۔ قرض مانگنے کا آغاز 1947 میں ہی ہو گیا تھا۔ یکم ستمبر 1947 کو کراچی میں امریکی قونصل خانے میں فون کی گھنٹی بجی۔ دنیا کی ابھرتی سپر پاور کے اس قونصل خانے کو سفارت خانے کا درجہ مل چکا تھا لیکن تا حال سفیر تعینات نہیں ہوا تھا۔ قونصل جنرل چارلس لیوس جو کہ قائم مقام سفیر بھی تھا، کو بتایا گیا کہ پاکستان کے وزیر خزانہ غلام محمد لائن پر ہیں۔ غلام محمد نے ملنے کی خواہش کا اظہا رکیا۔ جسے بخوشی قبول کر لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ملاقات کے دوران امریکی قونصل جنرل کو بتایا کہ ا بھی یہ معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ اگر آپ ہمیں ایک دوست کے طور پر یہ بتائیں کہ کیا امریکہ ہمیں ڈالر دے گا۔ حکومت پاکستان کے پاس نقد رقم کی شدید کمی ہے۔ ہم امریکا سے ملنے والے قرض یا امداد سے اپنے حکومتی اور عسکری اخراجات پورے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر امریکا ہمیں مطلوبہ رقم دے دے تو ہم نہایت شکر گزار ہوں گے۔ اس تاریخی ملاقات کے بعد ایسے حالات نے جنم لیا جس نے نوزائیدہ ریاست کو قرضوں کی ایسی دلدل میں اتار دیا جہاں سے نکلنا مفاد پرست حکمرانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔ ملک چلانے کے لیے سخت محنت، عرق ریزی سے تیار کی گئی پالیسیاں اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر فیصلوں کی
ضرورت ہوتی ہے۔ اقتدار کی ہوس اور مال بنانے کے لیے سیاست کرنے والے صرف ایک مخصوص طبقے کا ہی تحفظ کر سکتے تھے۔ حکمرانوں کو قرض لینے کے عادت پڑ گئی۔ ملک چلانے کے لیے امداد اور قرض سے ملنے والے مال کی لت کے باعث آج پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے خود انحصاری کے بجائے قرض لینے کا راستہ کیوں اپنایا؟ یہ ایک بڑی ڈرامائی اور حیرت انگیز داستان ہے۔ اگر موقع ملے تو انگریزی کی کتاب ’’اکنامک ہٹ مین‘‘ ضرور پڑھیں۔ اس کتاب کا مصنف جان پرکنز آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سابق ملازم تھا۔ اس نے اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کے ذریعے بڑے انکشافات کیے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کو قرضوں کے شکنجے میں کیسے پھنسایا جاتا ہے؟ مقروض ممالک کی معیشت کو قرضوں کا اسیر بنا کر کیسے تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتا ہے جو قرضوں کے منجھدار میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ جہاں سے نکلنے کوئی امید نظر نہیں آتی۔ پاکستان کا 1947 سے لے کر 2008 تک 6 ہزار ارب روپے کا بیرونی قرض تھا۔ 2008 سے 2022 تک جمہوری حکومتیں تسلسل سے چلی آ رہی ہیں۔ ان 14 برس میں جمہوری حکمرانوں نے ہوشربا قرضے لیے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 تک ہر پاکستانی 500 روپے کا مقروض تھا۔ آج 2022 میں ہر شخص 2 لاکھ 27 ہزار سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔ 2008 میں بیرونی قرضوں کا حجم 6 ہزار ارب تھا جو 2013 میں 88 ہزار ارب ہو گیا۔ 2018 تک بیرونی قرضوں کا حجم ایک لاکھ 44 ہزار تک جا پہنچا۔ 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت یہ نعرہ لگا کر آئی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کو ایبسولوٹلی ناٹ کہہ دے گی۔ عمران خان نے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہو گا کہ وہ خود کشی کر لیں۔ انہوں نے تو ایسا نہ کیا لیکن ایسے واقعات ضرور ہوئے جب غریب لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر مع خاندان خود کشیاں کیں۔ صرف تین برس میں تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا۔ 2021 تک قرضے دولاکھ 27 ہزار کی تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں 161 بلین ماہانہ، مسلم لیگ ن کے دور میں 235 بلین ماہانہ اور تحریک انصاف کے دور میں 540 بلین ماہانہ کے حساب سے قرض لیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے ادوار میں ان قرضوں کے ذریعے ڈیم، بجلی کے منصوبے، موٹرویز کا جال بچھایا گیا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں جو قرض لیا گیا اس سے ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں شروع کیا گیا۔ 2022 میں پاکستان کے کل قرضے 127 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی اشرافیہ عیش و اقتدار کے نشے میں مست ہے۔ قرض کا طوق عوام کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے۔ کسی کو فکر نہیں یہ قرض کون اتارے گا۔ عوام کولہو کے بیل کی طرح دن رات کام کرتے ہیں۔ حکمران طبقات ان پر سوار ہو کر حکومت کرتے ہیں اور قرض لیتے ہیں۔ پاکستان کے مجموعی قرضے قومی پیداوار کے 87 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ہم اپنے ہمسائے ممالک کو دیکھیں تو بنگلہ دیش کے قرضوں کی شرح 30 فیصد، چین 54 فیصد اور روس کی شرح 19 فیصد ہے۔ امریکہ کا شمار دنیا کا سب سے مقروض ممالک میں ہوتا ہے لیکن اس کی پالیسیز آزاد ہیں۔ قرض لے کر اگر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں جن سے ملکی صنعت، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی ہو تو ملک آگے بڑھتا ہے۔ جی ڈی پی کی گروتھ سے قرض کا حجم خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کا 90 فیصد قرض غیر ترقیاتی کاموں میں لگایا گیا۔ قرضوں کی واپسی تو درکنار ہم سود ادا کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ حالت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ ادا کرنے کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ اس سے زیادہ قابل رحم بات کیا ہو سکتی ہے؟ قر ضوں کے بوجھ کی وجہ سے پاکستان اپنی آزادی اور خود مختاری سے محروم ہو چکا ہے۔ حالات اس قدر گمبھیر ہیں کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر مشکل اور غیر عوامی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ امریکی دباؤ کی وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکل سکا۔ اگر پاکستان کے قرضے اسی طرح بڑھتے رہے تو ایٹمی پروگرام سالمیت بھی خدانخواستہ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پاکستان کی قرضوں میں ڈوبنے کی بڑی وجہ پروٹوکول کلچر ہے۔ بڑے عہدوں پر موجود افراد بعد از ریٹائرمنٹ انہی سہولیات اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ قرض لے کر وی آئی پی کلچر مسلط کیا ہوا ہے۔ دوسرا حکمران اشرافیہ ٹیکس نہیں دیتی۔ پاکستان کے اب تک کے لیے گئے قرضوں اور اس کے مصرف پر اعلیٰ تحقیقاتی کمیشن بننا چاہیے۔ جو تحقیقات کرے کہ قرض کیوں لیا گیا اور کہاں خرچ کیا گیا۔ جن لوگوں نے قرض کے غلط استعمال کے فیصلے کیے یا چوری کی ان کی منقولہ غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی جائیں۔ حکومتی اخراجات میں حقیقی کمی کی جائے۔ آئندہ قرض کے لیے پارلیمان سے منظوری لی جائے۔ اسے گڈ گورننس کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ترقی، فلاح اور خوشحالی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔ اگر نیت صاف ہو تو پاکستان کا قرض صرف ایک برس میں اتارا جا سکتا۔ کیسے؟ یہ تفصیلات آئندہ۔۔۔

تبصرے بند ہیں.