کشمیر بنا درد کی تصویر

4

کشمیر بنا درد کی تصویر، آنکھوں میں ہیں آنسو پیروں میں زنجیر، وہ کہتے ہیں آزادی کو اک خواب ہی سمجھو۔ ہم کہتے ہیں ہر خواب کی ہوتی ہے اک تعبیر اور کشمیر ایک دن پاکستان کے ساتھ آزادی کا جشن منائے گا۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں۔ کشمیر کی خوبصورت وادی جو اس وقت خون سے رنگی ہے، مودی خونی بھیڑیا کشمیریوں کو نگل رہا ہے، ان کی آزادی کے ساتھ ساتھ مودی سرکار کا یہ جو خواب ہے کہ وہ کشمیر پر طاقت کے زور پر جو قبضہ جمائے بیٹھا ہے یہ تماشا ہمیشہ اس کا چلتا رہے گا ایسا بالکل نہیں ہے۔ مودی اس وقت ایک خوف میں مبتلا ہے کیونکہ وہ کشمیریوں کی بہادری دیکھ چکا ہے اور اپنی فوج کے زور پر کشمیریوں پر ظلم و جبر کر رہا ہے۔ برہان وانی جیسے نوجوان کو ختم اس لیے کرتا ہے کہ کہیں وہ اس کی نقلی طاقت کا خاتمہ نہ کر دے۔ ایسے ہی ایک کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کو آٹھ سال سے جھوٹے دہشت گردی فنڈنگ کیس میں حراست میں لیے بیٹھا ہے اور گزشتہ دنوں ایک احمقانہ فیصلہ مودی سرکار نے کیا کہ حریت رہنما یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنا دی، پوری پاکستانی قوم مودی کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بانی پاکستان قائد اعظم نے فرمایا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے پاکستان کے لیے کشمیر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کشمیر تقسیم ہند کے ایجنڈے کا حصہ ہے برصغیر کی تقسیم کے لیے وضع کیا جانے والا فارمولا یہ تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے اور ریاستیں پاکستان میں اور غیر مسلم اکثریتی علاقے ریاستیں ہندوستان میں شامل ہوں گی۔ یہ فارمولا برطانیہ کی حکومت میں برصغیر کی دو بڑی جماعتوں اور انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد طے پایا تھا۔ کشمیری غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے لہٰذا کشمیری مسلمان اپنا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنا چاہتے تھے اور آج بھی پاکستان کے ساتھ ہی الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ مودی کو یہ بات بالکل ہضم نہیں ہوئی کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ کشمیریوں پر اپنے ظلم کے زور پر ان کی آزادی کو دبا لیا جائے۔ جبکہ یہ وہ یہ
بھی جانتا ہے کہ وہ اپنے مشن میں بالکل بُری طرح ناکام ہو چکا ہے اور جب مودی کو اپنی شکست نظر آتی ہے وہ اس وقت کشمیریوں پر ظلم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یاسین ملک کو جو مودی نے سزا دی ہے مودی کیا سمجھتا ہے کہ عمر قید کی سزا سنا کر مودی کشمیریوں کی آواز دبا لے گا، مودی کی یہ بہت بڑی خام خیالی ہے کہ وہ کشمیر کی آواز بند کر سکے گا۔
آنکھوں میں بے بسی مگر ہمت سے کام لینا اور اپنے شوہر اور کشمیری عوام کے لیے آواز بلند کرنا اور یہ کہنا کہ مودی تم جو ظلم کر سکتے ہو کر لو مگر میرے حوصلے کبھی پست نہیں ہوں گے اور نہ ہی کشمیری عوام کے ہوں گے، ایسی سوچ کشمیری بہادر حریت رہنما یاسین ملک کی بیوی مشال ملک کے ہیں۔ جیسے یاسین ملک بزدل مودی اور بھارت کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہوئے ویسے ہی انکی بیوی آج مودی کے آگے کھڑی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ جیسے کلبھوشن کو کونسل رسائی دی گئی ہے ویسے ایسے کم از کم مشال ملک کو دی جائے اور اس میں بہت حد تک نالائقی ہماری ہر آنے جانے والی حکومت کی رہی ہے جو ابھی تک کوئی دلیرانہ فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں کر سکی۔ آج یہ دن آ گیا ہے کہ جس خاتون کے شوہر کو بھارت نے اپنے پنجوں میں دبوچ رکھا ہے اب اپنی گندگی پر مزید اتر چکا ہے کہ مشال ملک اپنے حق کی آواز انٹرنشنل لیول تک مزید نہ لے جائیں اور مودی جیسے اب بھی شکست کھاتا ہے ہر جگہ یہاں بھی کھائے گا۔ اس نے کیا یہ ہے کہ مشال ملک پر کئی ملک کے ویزے بند کر رکھے ہیں۔ اگر کوئی ملک مشال ملک کو ویزہ دینے کے لیے اتفاق کرتا ہے تو بزدل مودی انکو دھمکی دیتا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ٹریڈ بند کر دیں گے۔ میری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ خدارا سوچیں ان کے لیے، اس بچی کے بارے میں جو آٹھ سال سے باپ کی شفقت سے محروم ہے۔ ہم اتنے کمزور نہیں ہیں کہ ایک شخص پر بھارت میں ظلم کیا جائے قید کر کے اور دوسرا اسکی بیوی اور بچی پر اپنے حق میں آواز بلند کرنے کے گھٹیا پروپیگنڈے کیے جائیں اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں۔ یہی وقت ہے کہ پاکستانی عوام اور حکومت کو مل کر اپنی آواز بلند کرنی ہے تاکہ مودی کو کچھ شرم آئے اور 25 مئی کو جو 24000 صفحات پر مشتمل یاسین ملک کا فیصلہ دیا اسے بدلے اور انکو آزاد کرے۔ یہی وقت ہے ہم نے آگے بہت دیر کر دی ہے، مجھے نہیں لگتا اب ہمیں دیر کرنی چاہئے۔ اس میں کشمیریوں کے ساتھ ساتھ ایک معصوم بچی اور پاکستانی خاتون کے احساسات اور جذبات کا سوال ہے اگر اللہ نہ کرے مودی کی یہی گھٹیا سیاست میں کچھ ہو گیا تو پھر کوئی بھی سیاسی کارکن افسوس نہ کرے۔ اس وقت میں آپ سے پوچھوں گی کہ اب افسوس کیوں کر رہے ہو اگر ابھی کوئی نہ بولا تو میں کہتی ہوں بعد میں بھی افسوس کا حق نہیں رکھیں گے۔
میں سمجھتی ہوں یاسین ملک جیسے ہی لوگ ہیں جن کے دم پر ابھی تک کشمیریوں کی آس ابھی باقی ہے کہ ان کو آزادی کی نعمت ملے گی۔ پی ڈی پی کی چیف محبوبہ مفتی کا یہ بیان کہ پاکستانی عدالتی نظام بہت بہتر ہے، انڈین عدالتی نظام سے میرے خیال سے محبوبہ مفتی کا یہ بیان سن کر ایسے لگتا ہے کہ وہ مودی سے خاصا واقف ہیں اس بیان پر تمام ہندو انتہا پسند محبوبہ مفتی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان پر غداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جب کہ میں سمجھتی ہوں محبوبہ مفتی کو غدار کہنا سراسر غلط ہے، ساتھ ہی ساتھ اس وقت بھارتی میڈیا میں ایک کھلبلی مچ گئی ہے۔ محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد انہوں نے بہت دلیری کے ساتھ کہا تھا کہ پاکستان میں اگر ایک آدمی جرم کرتا ہے تو اس کو کو سزا دی جاتی ہے اور انڈیا میں کیسا عدالتی نظام ہے کہ 2015 کے بعد سے ہمارا عدالتی نظام انتہائی ناقص ہو چکا ہے یہاں پر کتنے ہیں اخلاقیات کے خلاف ورزی کرتے ہیں، لوگ ان کو گلے سے لگایا جاتا ہے نہ کہ انہیں سزا دی جاتی ہے۔ ایسے ہی بہت سے لوگ ہیں اس وقت جو مودی سرکار کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور انڈیا میں مودی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے جب انڈین یونیورسٹی میں کشمیریوں کی آزادی کے لیے طلبا نے مودی کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ مودی بزدل شخص یہ مت سمجھنا کہ یاسین ملک کو عمر قید میں رکھ کر تم کشمیریوں کے حوصلے پست کر دو گے، تمہیں ہر کشمیری میں یاسین ملک جیسے بہادر کا سامنا کرنا ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.