اسلامی ٹچ!

54

25مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں لانگ مارچ ودھرنے کا اعلان کررکھا تھا، بار بار یوٹرن لینے والے شخص کے بارے میں اللہ جانے کچھ لوگوں کو کیوں یہ یقین تھا اپنے اعلان کے مطابق وہ اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں اُٹھے گا جب تک اُسے الیکشن کی تاریخ نہیں مِل جاتی، اِس بار بھی اپنی زبان پر وہ قائم نہیں رہ سکا، آگے بھی یہی کچھ اُس نے کرنا ہے، وہ صرف اپنی ’’بدزبانی‘‘ پرقائم رہ سکتا ہے زبان پر نہیں رہ سکتا ، اُسے چاہیے تھا پُرامن دھرنا دیتا اور اُس کے لیے وہی مقام منتخب کرتا جو سپریم کورٹ نے وقف کیا تھا۔ الیکشن کی تاریخ تو خیر اُسے پھر بھی نہیں مِلنی تھی پر کچھ بھرم اُس کا رہ جاتا۔ مگر اُسے شاید سخت نیند آئی ہوئی تھی، چنانچہ جلدی جلدی دھرنا بھگتا کے وہ بنی گالہ یا ’’بنی گالی‘‘ میں سونے چلے گیا، ’’اگاں لاکے ساہنوں ’’ دھرنے ‘‘ دیاں، تے آپ میٹھی نیند سونا ایں‘‘ …وہ کہہ رہا تھا میں پچیس لاکھ لوگوں کو لے کر اسلام آباد آئوں گا۔ جتنے بڑے بڑے وہ جلسے کررہا تھا ہمارا خیال تھا دھرنے میں پچیس لاکھ سے زیادہ لوگ آئیں گے۔ ہم حکومتی ترجمانوں کے مطابق یہ تو نہیں کہتے پچیس ہزار لوگ بھی نہیں آئے مگر پچیس لاکھ لوگوں کے نہ آنے کاصِرف ہمیں ہی نہیں خان صاحب کو بھی یقیناً بڑا دُکھ ہے۔ دُکھ کے شاید اِسی عالم میں اُنہوں نے دھرنا ملتوی کردیا۔ دھرنے سے پہلے جو دھمکیاں وہ حکومت کا نام لے لے کر اِس مُلک کے اصل مالکوں کو دے رہے تھے وہ اُن کی فطرت کے عین مطابق تھیں۔ اُن کے پیروکار وپُجاری اُن سے بھی آگے نکلنے کی کوششوں میں ’’ٹھاہ‘‘ سے زیادہ ’’ٹھاہ‘‘ کے وفادار بنے ہوئے تھے۔ خصوصاً شیخ رشید احمد جنہیں فی الحال پارٹی بدلنے کی کوئی جگہ نہیں مِل رہی ایسی ایسی دھمکیاں دے رہے تھے کہ ایسی دھمکیاں وہ اگر ہندوستان کو دیتے ممکن ہے ہندوستان اُن کی دھمکیوں میں آکر یٰسین ملک کو رہا کردیتا ۔بلکہ شاید کشمیر ہی آزاد کردیتا۔ شیخ رشید  احمد دھمکیاں اچھی دے لیتے ہیں۔ ویسے بھی اِس عمر میں وہ سوائے دھمکیوں کے لوگوں کو اور کچھ دے بھی نہیں سکتے۔ میںنے اپنی زندگی میں اتنا بڑا جھوٹا اتنا بڑافنکار اتنا بڑا شعبدہ بازپوری دنیا میں نہیں دیکھا۔ مگر کیا کریں اُس کا جھوٹ بِکتا ہے، اور صرف اُسی کا نہیں اُس کے حالیہ لیڈر کا بھی بِکتا ہے، اِن کے علاوہ  بھی بے شمار لوگوں بلکہ پورے معاشرے کا آج کل یہی ایک ’’کاروبار‘‘ چل رہا ہے۔ اصل میں لوگوں کو پتہ ہے سچ کی کوئی قدر اب یہاں نہیں رہی، اُلٹا اِس کے نقصانات ہیں ۔ ’’سچ بولے گا تو قلم تیرا سرہوجائے گا … جھوٹ بول کر توزیادہ معتبر ہوجائے گا۔ بلکہ ہوسکتا ہے وزیراعظم ہی بن جائے۔ ہماری سیاست ایسے ہی ’’معتبرین‘‘ سے بھری پڑی ہے۔ سچ چونکہ یہاں ناپید ہے چنانچہ جھوٹ پر گزارا کرنا مجبوری ہے، ایسے میں اگر کوئی بار بار یہ کہے ‘‘ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ یا ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تو دنیا کے اِس سب سے بڑے جھوٹ پر بھی اِس لیے یقین کرنے کے لیے ہم تیار ہو جاتے ہیں اگر ہم نے یقین نہ کیا فوری طورپر ہمیں ’’غدار‘‘ قرار دے دیا جائے گا۔ یہ تہمت یا الزام کوئی محبِ وطن خود پر کیسے لگنے دے سکتا ہے؟ لہٰذا اِس تہمت یا الزام اور اُس کے اندھا دھند نقصانات سے بچنے کے لیے ہم پر لازم ہے ہم اپنی آنکھیں ومنہ وغیرہ بند کرکے اندھا دھند اُس پر یقین کرلیں … یقین کریں جھوٹ کے بڑے فائدے ہیں۔ میں نے خودکئی بار بول کے دیکھا ہے ۔ جھوٹ انسان کو بڑے بڑے عہدوں تک پہنچا دیتا ہے، اِس کے مقابلے میں اگر آپ سچ بولنا شروع کردیں، دوسروں کو تو چھوڑیں، آپ کے گھر والے آپ کو منہ نہیں لگاتے، ’’گھروالی‘‘ تو بالکل ہی نہیں لگاتی، سو کِسی شریف آدمی کو اُس کی گھروالی بھی منہ نہ لگائے وہ منہ لگانے بے چارہ اور کہاں جائے ؟…25مئی کو خان صاحب نے پچیس لاکھ لوگوں کے ساتھ لانگ مارچ و دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اِس پر حکومت نے جو حفاظتی اقدامات کررکھے تھے یوں محسوس ہورہا تھا بہت بڑا خون خراجہ ہونے والا ہے۔ 24مئی کی رات خوف کے اِسی ’’عالم چنے‘‘میں ایک پل کی نیند مجھے نہیں آئی۔ حکومت بھی گھبرائی ہوئی تھی۔ ایسی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی یوں لگا حکومت خود پکڑی جانے والی ہے، پی ٹی آئی کے بے شمار رہنمائوں کے گھروں میں اِس پورے یقین کے ساتھ چھاپے مارے جارہے تھے جیسے یہ رہنما اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں۔ اُن میں سے اکثر تو دوچار روز پہلے ہی اِدھر اُدھر نکل چکے تھے۔ زیادہ ترکے پی کے میں موجود تھے جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، البتہ چند رہنما گھروں میں اِس لیے موجود تھے وہ بے چارے اپنے ’’مُرشد‘‘ کے حکم کے مطابق سینکڑوں لوگوں کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لے جانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اُن کے لیے گرفتار ہوکر سوشل میڈیا یا فیس بُک کا ’’ہیرو‘‘ بننا زیادہ آسان نسخہ تھا۔ یہ ’’نسخہ‘‘ پی ٹی آئی کے بے شمار رہنمائوں نے آزمایا اور سوشل میڈیا وفیس بک پر اُنہیں اِس کا اچھا خاصا افاقہ بھی ہوا، ایک رہنما نے تو اِس حدتک ڈرامہ کیا ’’یوم دھرنا‘‘ سے چند روز پہلے اُس نے اپنے جاننے والے ایس ایچ او سے اُس کے تھانے کی گاڑی وعملہ منگوایا۔ اُس یونیفارمی عملے سے خود کو چارپانچ ’’چپیڑیں‘‘لگواکر ، دھکے وغیر دِلواکر خود کو تھانے کی اُس گاڑی میں پھینکوایا اور اُس کی ویڈیو بنواکر اپنے موبائل فون میں محفوظ کرلی۔ یوم دھرنا یعنی 25مئی کی دوپہر وہ دبئی کے ایک بیچ پر انجوائے کررہا تھا اور لاہور میں اُس کے فیس بک پر پولیس اُسے ’’کٹاپا‘‘ چاڑرہی تھی۔ ایسے بے شمار ڈرامے کیے گئے۔ کچھ رہنمائوں نے موٹرسائیکلوں پر سوارہوکر اسلام آباد پہنچنے کی ویڈیوبھی فیس بک اور سوشل میڈیا پر لگائیں۔ دھرنے اور لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد نے ثابت کردیا پی ٹی آئی اب صِرف فیس بک اور سوشل میڈیا کی پارٹی بنتی جارہی ہے۔ فیس بک اور سوشل میڈیا کے مطابق خان صاحب دنیا خصوصاً عالم اسلام کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔ وہ اپنے ہر جلسے ہرتقریر میں ’’اسلامی ٹچ‘‘ ضرور دیتے ہیں، کس کے کہنے پر دیتے ہیں؟ یہ انکشاف اگلے روز اسلام آباد میں ہوا جب اُن کی تقریر تقریباً ختم ہونے والی تھی، اُنہوں نے ساری تقریر میں اسلامی ٹچ نہ دیا تو اُن کی پارٹی کے ایک رہنما سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو اُن کے کان میں کہنا پڑا ’’خان صاحب تھوڑا اسلامی ٹچ بھی دے دیں‘‘ ۔ چند سیکنڈوں کے لیے وہ سوچ میں پڑ گئے کہ ’’اسلامی ٹچ‘‘ وہ کہیں گھر تونہیں چھوڑ آئے۔ ویسے قاسم سوری کے اِس مشورے کے فوراً بعد ابرارالحق کا گانا چلنا چاہیے تھا ’’ٹھوڑاجہیاجلسے نُوں دے دے تُوں اسلامی ٹچ …نچ پنجابی نچ پنجابن نچ پنجابن نچ… ڈی جے بٹ کو چاہیے ایسے مواقعوں کو ضائع مت کیا کرے اِس سے خان صاحب کے ’’مشن ‘‘ میں اچھی خاصی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اب چھ روز بعد تھوڑا آرام وغیرہ کرکے خان صاحب کو شاید ایک بار پھر واپس آنا ہے۔ اُنہیں چاہیے اِن چھ دِنوں میں اپنے سابقہ مالکین سے کم ازکم ایک مطالبہ تو ضرور منوالیں رانا ثناء کو وزارت داخلہ کے بجائے کوئی اور محکمہ دلوایا جائے۔ اور ساتھ ہی یہ ’’دھمکی‘‘ بھی دی جائے اگر اُن کا محکمہ تبدیل نہ ہوا پھر ہم دھرنا نہیں دیں گے!!

تبصرے بند ہیں.