مارچ اور دھرنے کی سیاست

32

قومی سیاست ایک ایسے گرد اب میں ہچکولے کھا رہی ہے جہاں آگے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ، ہمارے سیاستدان ماضی کی غلطیوں سے کیوں سبق حاصل نہیں کرتے اور ہرآٹھ دس سال بعد کسی بھنور میں پھنس جاتے ہیں، مسلم لیگ (ن)کبھی عسکری قیادت کی ناقد تھی مگرآج ان پر اسٹیبلشمنٹ سے محبت کا بھوت سوار ہے ،اس کے راہنما یہ تاثردے رہے ہیں کہ ماضی میں عمران خان سیلیکٹڈ تھے تو ریاستی ادارے نے ان کی حمائت کر کے غلطی کی مگر آج یہی ادارہ ان کی حمایت کر رہا ہے تو سب ٹھیک ہے ،تحریک انصاف حکومت کے دوران پی ڈی ایم نے ملک بھر میں جلسے کئے فضل الرحمن،بلاول زرداری،مریم نواز نے الگ الگ مارچ کیے، تب یہ ان کا آئینی جمہوری حق تھا مگر جیسے ہی عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا پورا ملک سیل کر دیا گیا،تب انہیں عوام کی مشکلات کا اندازہ نہ ہوامگرآج انہیں عوامی ہمدردی کا درد جاگ اٹھا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محرومی کے بعد قبل از وقت انتخابات کے لیے موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں جس کیلئے انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا،اسمبلیاں تحلیل اور نئے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے تک انہوں نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا،عدالتی حکم کے باوجود چھاپے گرفتاریاں ہوئیں چادرچار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا،مریم نواز نے تو ایک میڈیا ہاؤس پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور ان کے نمائندے کو اپنی کانفرنس سے نکلوا دیا مائیک تک رکھنے کی اجازت نہ دی،کیا یہ قومی قیادت کی تحمل اور برداشت ہے کہ جو ناقد ہو اس سے ہرآئینی حق چھین لیا جائے،قومی سیاسی قیادت کا ذاتی رویہ یہ ہے تو اس ملک اور قوم کا اللہ حافظ ہے۔عمران خان کا یہ لانگ مارچ اْن کے مقصد کے حصول میں کتنا معاون ثابت ہو گا؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں کیونکہ پاکستان میں اس قسم کی سیاسی مہم جوئی کا انجام نہ کبھی یکساں رہا ہے اور نہ اس کی کامیابی اور ناکامی کے پیمانے کبھی ایک سے رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد اس قسم کی پہلی سیاسی یلغار 1953 میں ہوئی تھی، یہ تحریک ختم نبوت تھی، یہی تحریک تھی جس کے دوران قیام پاکستان کے بعد ملک میں پہلی ہڑتال ہوئی اور پنجاب ، خاص طور پر لاہور میں ہنگامے پھوٹ پڑے، ان ہنگاموں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، کرفیو نافذ کیا گیا لیکن کرفیو ناکافی ثابت ہوا چنانچہ لاہور میں مارشل لا کے نفاذ کی نوبت آ گئی یہ پاکستان کاپہلا مارشل لاء تھا،اس واقعے کے ٹھیک پانچ برس کے بعد ایوب خان نے پہلا ملک گیر مارشل لا نافذ کیا۔
1956 میں پاکستان کے پہلے آئین بننے کے بعد ایک نئی منتخب حکومت کی ضرورت تھی لیکن انتخابات منعقد نہ ہو سکے جس کا سبب وہ خوف تھا جو اس وقت کے حکمرانوں کے ذہن پر سوار تھا،صدر سکندر مرزا کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ انتخابات کرائے جائیں یا مزاحمت کو کچل دیا جائے اورآخری راستہ ہی اختیار کیا گیا اور ماشل لاء آگیا۔
خان عبدالقیوم خان کے جلوس کے بعد 1977 تک کسی بڑے احتجاجی مارچ کا سراغ نہیں ملتا لیکن ایوب خان کے زمانے میں بنیادی جمہوریت نظام کے تحت صدارتی انتخابات کے تحت فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے دوران بڑے پیمانے پر سیاسی تحرک پیدا ہوا،پاکستان قومی اتحاد نے 10 اپریل 1977 کو لانگ مارچ کی اپیل کی، یہ لانگ مارچ نہ ہو سکا،لانگ مارچ جیسی بھرپور مرکزی سرگرمی نہ ہونے کے باوجود احتجاجی سرگرمیاں پورے ملک میں پھیل گئیں، اتحاد کی اپیل پر سول نافرمانی کی اپیل کامیاب ہو چکی تھی، لوگ لازمی سروسز کے بل جمع نہیں کرا رہے تھے اور ٹرینوں پر بلا ٹکٹ سفر کرنے لگے تھے، اس ہنگامہ خیزی کا دائرہ کتنا وسیع تھا، اس کا اندازہ اس تحریک میں ہونے والے جانی نقصان سے ہوتا ہے،آٹھ مارچ 1977 سے پانچ جولائی 1977 تک پورے ملک میں تقریباً 425 افراد ہلاک ہوئے اور بعض اس بری طرح زخمی ہوئے کہ زندگی ان کے لیے وبال جان بن گئی،اتنی ہمہ گیری کے باوجود یہ تحریک اپنے مقاصد یعنی نئے عام انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی اور مارشل لا کے نفاذ کا ذریعہ بن گئی۔
پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ کی اصطلاح بے نظیر بھٹو نے متعارف کرائی۔ نواز شریف کی حکومت کے خلاف انہوں نے 1992 میں ’’لانگ مارچ‘‘کیا جو لاہور سے شروع ہوا۔نواز شریف حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلز پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی دوسری حکومت بنائی، بے نظیر بھٹو کی اس حکومت کے خلاف قاضی حسین احمد نے دھرنا دیا جو نتیجہ خیز ثابت ہوا اور اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس پاکستان کو معزول کر دیا تو اس کے خلاف وکلا نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی قیادت میں ملک بھر کا مارچ کیا، اس تحریک کے دوسرے مرحلے میں ایک اور ملک گیر لانگ مارچ ہوا، اسلام آباد میں جس کا اختتام ایک جلسے پر ہوا، عدلیہ بحالی تحریک کی یہ دونوں مہمات ناکام رہیں،عدلیہ بحالی تحریک ہی کے سلسلے میں تیسری کوشش لانگ مارچ ہی کے عنوان سے ہوئی،یہ لانگ مارچ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر قیادت ہوا، یہ لانگ مارچ ابھی کامونکی تک ہی پہنچا تھا کہ نواز شریف سے فوج کے سربراہ نے رابطہ کر کے انہیں یقین دلایا کہ ججوں کو بحال کیا جا رہا ہے، اس لیے آپ مارچ روک دیں۔
2013 میں ایک بڑی سیاسی سرگرمی علامہ طاہر القادری کی طرف سے ہوئی۔ ان کی جماعت عوامی تحریک نے 2013 میں عین عام انتخابات کے اعلان سے قبل اسلام آباد میں ایک دھرنا اس اعلان کے ساتھ دیا کہ اس میں 50 لاکھ افراد شرکت کر رہے ہیں،پیپلز پارٹی کی حکومت نے طاہرالقادری کو فیس سیونگ دینے کے لیے مسلم ق کی قیادت کے ذریعے اس سے مذاکرات کئے، طاہر القادری دھرنے کے ذریعے انتخابات کو رکوانا چاہتے تھے لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔اس کوشش کی ناکامی کے بعد طاہر القادری نے اگست 2014 میں دوبارہ ماضی جیسے ہی ایک جلوس کے ساتھ جسے لانگ مارچ کا نام دیا گیا تھا، تحریک انصاف بھی ان کے شانہ بشانہ اسلام آباد پہنچی،اگست کے اختتام تک یہ دونوں دھرنے علیحدہ علیحدہ رہے لیکن 30 اگست کو اکٹھے ہو گئے علامہ طاہر القادری نے ستر روز کے بعد دھرنا ختم کر دیا جس کے بعد پی ٹی آئی کا دھرنا بھی کمزور پڑ گیا۔تا ہم تحریک انصاف کا یہ دھرنا 126 دن تک جاری رہا، یہ دھرنا اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے کسی سیاسی جماعت نے اتنا طویل دھرنا نہیں دیا۔
نتائج کے اعتبار سے تمام دھرنوں کا انجام مختلف رہا ،اگر ایسے لانگ مارچ او دھرنے پر تشدد بنا دئیے جائیں تو نتیجہ نظام کالپیٹ دئیے جانے کی صورت میں نکلتا ہے،ن لیگ حکومت لانگ مارچ کو پرتشدد بنانے اور شرکاء کو مشتعل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور انجام اللہ جانے،لیکن اگر رویے یہی رہے تو بات سول نا فرمانی سے خانہ جنگی کی طرف جا سکتی ہے اس سے بچنے کیلئے سب کو سر جوڑنا ہونگے ورنہ بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.